حضور کی
عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت طارق، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
حضور نے دس
عشرہ مبشرہ صحابی کو جنت کی بشارت دی ان میں سے ہر ایک کے لیے دعاگو تھے ان پر
اعتماد کیا ان سے محبت کا اظہار فرمایا جیسے حضرت ابوبکر، حضرت عمر فاروق، حضرت
عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف،
حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید حضرت عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم۔ جو نبی
کریم ﷺ کے ایمان اور یقین کے مظہر تھے اور ان کی خدمات اور قربانیوں کو سراہا اور
ان سے محبت دراصل صحابہ کرام سے محبت ہے جو کہ ایمان کا حصہ ہے۔
اعتماد
اور ذمہ داریاں: نبی
کریم ﷺ نے اہم ذمہ داریاں ان کے سپرد کیں، جیسے حضرت عمر فاروق کا خلافت سنبھالنا
جو ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا ثبوت تھا۔
مجلس
میں خاص مقام: نبی
کریم ﷺ مجلس میں انہیں خاص مقام دیتے تھے اور ان پر اعتماد کرتے اور ان کی رائے کو
اہمیت دیتے تھے۔
حضور ﷺ نے ان
کی تربیت کی اور ان سے شفقت کا سلوک کیا جو ایک استاد اپنے شاگردوں سے محبت بھرا
سلوک کرتا ہے، صحابہ سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے اور عشرہ مبشرہ سے محبت اس بات
کی دلیل ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے لیے کتنے عزیز تھے یہ محبت صرف زبانی نہیں تھی
بلکہ یہ عمل سے ثابت ہوتی تھی جیسے کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر حضرت
ابوبکر صدیق کو اپنا خلیفہ مقرر فرمایا۔
نبی کریم ﷺ نے
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا: بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں
اس سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت میری تمام امت پر واجب ہے۔ (تاریخ
الخلفاء، ص 44)
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتے تو وہ عمر ہوتے۔
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرےرفیق عثمان غنی ہیں۔ (الریاض
النضرۃ، 1/35)
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں۔ (ترمذی، 5/398، حدیث:
3733)
اللہ تعالیٰ
ہم سب کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نبی
کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی طرح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے بڑوں
اور بچوں کو بھی اس کا فیضان نصیب عطا فرمائے اور بے انتہا محبت کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
Dawateislami