حضور
کی عشرہ مبشرہ سے محبت از بنت فضل الحق، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
عشرہ مبشرہ وہ
خوش نصیب صحابۂ کرام تھے جنہیں آقا ﷺ نے دنیا میں ہی جنت کی خوش خبری عطا فرمائی
تھی، حضور ﷺ کی عشرہ مبشرہ سے محبت گہری اور مثالی تھی، پیارے آقا ﷺ کی یہ محبت
صرف ظاہری نہیں تھی بلکہ ہر صحابی کی انفرادی خوبیوں اور الله کی رضا کے لئے ان کی
قربانیوں پر مبنی تھی، جس کی وجہ سے وہ دنیا و آخرت میں بلند مقام کے مستحق ٹھہرے،
یہ محبت صحابۂ کرام کے مقام و مرتبے اور حضور ﷺ کے ان پر شفقت کے تعلق کو اجاگر
کرتی ہے، اور ان کی محبت جزوِ ایمان ہے۔
آئیے حضور ﷺ
کی عشرہ مبشرہ سے محبت کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں، چنانچہ
حضرت سعد بن
ابی وقاص رضی الله عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کی: یارسول الله ﷺ میں کون ہوں؟ آقا
ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم سعد بن مالک بن
اہیب بن عبد مناف ہو اور جو اس کے علاوہ کوئی اور نسب تمہاری طرف منسوب کرے اس پر الله
کی لعنت ہو۔ (ترمذی، 5/416، حدیث: 3769)
حضور ﷺ نے
حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو امین الامت کا لقب عطا فرمایا۔ (بخاری، 2/545، حدیث: 3744)
اسی طرح پیارے
آقا ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے لئے یوں دعا فرمائی اے الله! سعد جب بھی تجھ سے دعا کرے تو اسکی
دعا قبول فرما۔ (ترمذی، 5/418، حدیث: 3772)
اس دعائے نبوی
کی برکت سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ مستجاب الدعوات بن گئے اور ان کی ہر
دعا قبول ہوتی تھی، اس سے متعلق واقعات جامع کرامات اولیاء میں مذکور ہیں۔
اس کے علاوہ
بھی بہت سی روایات کتب احادیث میں موجود ہیں جن سے آقا ﷺ کی عشرہ مبشرہ و دیگر صحابۂ
کرام سے محبت واضح نظر آتی ہے، صحابۂ کرام دنیا کے مسلمانوں سے افضل ہیں، روئے
زمین کے تمام اولیا، قطب، ابدال، کسی ایک صحابی کے گرد قدم کو بھی نہیں پہنچ سکتے
حضور ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کی عزت کرو کہ وہ تمہارے نیک ترین لوگ ہیں۔ (مشکاۃ
المصابیح، 2/413، حدیث: 6012)
الله کریم
ہمیں ان بزرگ ترین ہستیوں کے فیضان سے مالا مال فرمائے ان کے صدقے ہماری بے حساب
مغفرت فرمائے۔ آمین
Dawateislami