حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دس اصحاب وہ ہیں جن کے بہشتی ہونے کی دنیا میں خبر دے دی گئی ان کو عشرہ مبشرہ کہتے ہیں۔ ان میں چار تو خلفائے راشدین ہیں ان میں سے پہلے حضرت ابوبکر،دوسرے حضرت عمر فاروق،تیسرے حضرت عثمان اور چوتھے حضرت علی رضی اللہ عنہم ہیں باقی حضرات کے اسماء گرامی یہ ہیں: حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

احادیث میں بعض اور صحابہ کرام کو بھی جنت کی بشارت دی گئی ہے چنانچہ خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے حق میں وارد ہے کہ وہ جنت کی بیبیوں کی سردار ہیں اور حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کے حق میں وارد ہے کہ وہ جوانان بہشت کے سردار ہیں اسی طرح اصحاب بدر اور اصحاب بیعۃ الرضوان کے حق میں بھی جنت کی بشارتیں ہیں۔

صحابۂ کرام کے لیے برکت کی دعا:

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یااللہ! تونے ابوبکر کو برکت عطا فرمائی یہ برکت اس سے جدا نہ فرمانااور لوگ ابوبکر کی محبت پر جمع ہوگئے ہیں ان کو کبھی بھی ابوبکر کی نفرت پر منتشر نہ فرماناکہ ابوبکر تیری رضا کو اپنی رضا پر ترجیح دیتاہے۔یا اللہ! عمر بن خطاب کو عزت عطا فرما، عثمان بن عفان کو صبر عطا فرما، علی بن ابی طالب کی موافقت فرما، زبیر بن عوام کو ثابت قدمی عطافرما، طلحہ بن عبید اللہ کی مغفرت فرما، سعد بن ابی وقاص کو سلامتی عطا فرما، عبد الرحمن بن عوف کو ذخیرۂ خیر عطا فرما۔ (اللآلی المصنوعۃ، 1/392)

اسی طرح حضرت ابو یخامر سکسکی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میٹھے میٹھے آقا ﷺ نے فرمایا: الٰہی ابو بکر پر رحمت بھیج کیونکہ وہ تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتا ہے، الٰہی عمر پر رحمت بھیج کیونکہ وہ تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتا ہے، الٰہی عثمان پر رحمت بھیج بیشک وہ تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتا ہے، الٰہی ابو عبیدہ بن جراح پر رحمت بھیج پس وہ تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتا ہے، الٰہی عمرو بن عاص پر درود بھیج کیونکہ وہ تیرا اور تیرے رسول کا محب ہے۔ (کنز العمال، جز: 11، 6/345، حدیث: 33680 - الریا ض النضرۃ، 1/41- تاریخ مدینہ دمشق، 46/136)

عشرہ مبشرہ کے لیے رضائے مصطفےٰ کا پروانہ: حضرت سہل بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ حدیبیہ سے لوٹے تو ممبر پر تشریف لا کر اللہ کی حمد وثنا کے بعد ارشاد فرمایا: اے لوگو! ابوبکر نے مجھے کبھی بھی دکھ نہیں دیا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو۔ اے لوگو! عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن مالک، عبد الرحمن بن عوف اور اوّل مہاجرین تمام سے میں راضی ہوں اور اس بات کوبھی اچھی طرح سمجھ لو۔ (معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم، 2/448)

عشرہ مبشرہ قرآنی آیت کی تفسیر: حضرت علی المرتضی شیر خدا کرّم اللہ وجہہ الکریم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی: اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ(۱۰۱) (پ 17، الانبیاء: 101) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کا ہو چکا وہ جہنّم سے دور رکھے گئے ہیں۔

پھر حضرت علی المرتضی نے فرمایا: میں انہیں میں سے ہوں، ابوبکر، عمر، عثمان اورطلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبد الرحمن، ابو عبیدہ بن جراح رضوان اللہ علیہم اجمعین انہیں میں سے ہیں۔ (تفسیر البیضاوی، 4/110)

آخر میں دعا ہے اللہ کریم ہمیں دل و جان، زبان و قلم سے ہر صحابی کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور جنّت میں ان کے قدموں میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین