جنسی بے راہ
روی نہایت فحش گناہ انتہائی گھٹیا،معاشرے کا تباہ کن مرض ہے جس کی زد میں معاشرے
کے نہ صرف بالغ افراد بلکہ بچے بھی ہیں۔ آخر اسکے اسباب کیا ہیں اس رجحان کا خاتمہ
کیسے ممکن ہے؟ اگر چہ یہ مسئلہ ایسا ناسور ہے جو اپنی جڑ اندر تک پھیلا چکاہے تاہم
اسکے اسباب جان کر ان کے تدارک کی انفرادی اور اجتماعی طور پر کوشش کی جا سکتی ہے۔
اسی طرح معاشرے سے اس کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔
جنسی بے راہ
روی کے کثیر اسباب ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں جن میں عام اور بنیادی وجہ حیا
اور خوف خدا کا ختم ہو جانااور دین سے دوری ہے اسکے علاوہ نکاح میں تاخیر،فحش مواد
کا دیکھنا،بے لگام نفس، جائز و ناجائز کی پروا کیے بغیر دنیاوی عیاشی کیلیے مال و
دولت کی طلب کہ اسی مقصد کیلیے فحاشی کے اڈے چلائے جاتے ہیں۔
1۔
حیاکا ختم ہونا: بدری
صحابی حضرت ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک
کے آخری نبی، محمد عربی ﷺ نے ارشاد فرمایا: بےشک گزشتہ انبیائے کرام کے کلام میں
سے لوگوں نے یہ بھی پایا ہےکہ جب تمہیں حیا نہ ہو تو جو چاہو کرو۔ (بخاری، 4/131،
حدیث:6120)
حدیث میں یوں
فرمایا گیا ہے: کیونکہ برائیوں سے روکنے والی چیز تو غیرت ہے جب وہ نہ رہی تو
بُرائی سے کون روکے،بہت لوگ اپنی بدنامی کے خوف سے بُرائیاں نہیں کرتے مگر جنہیں
نیک نامی بدنامی کی پروا نہ ہو وہ ہر گناہ کر گزرتے ہیں۔ (مراۃ المناجیح، 6/ 638 ملخصاً)
لہذا حیا جیسے
اہم وصف کا انسان میں ہونا بہت ضروری ہے۔
2۔
دین سے دوری: علم
دین حاصل نہ کیا جائے تو اسلامی اقدار سے نا واقفیت ہونے کی وجہ سے صحیح غلط
کواسلامی اصولوں پر پرکھا نہیں جا سکے گا، نتیجۃً خوف خدا پیدا نہیں ہوگا، اللہ
عزوجل کو غفور و رحیم تو سمجھا جائے گا مگر یہ بھول جائے گا کہ وہ قہارو جبار بھی
ہے، پردہ اور دیگر اقدار کو اسلامی اصولوں کے بجائے عقل پر تولا جاتا ہے، قرآنی
احکام سے ناواقفیت کی بنا پر اپنی عقل کےمطابق اصول بنائے جاتے ہیں۔
3۔
مناسب تربیت کا نہ ہونا:عام طور پر والدین بچوں کی سرگرمیوں پر اور فون کے
استعمال پر خصوصی توجہ نہیں دیتے جیسے بچے کے ہاتھ میں فون دے کر ساری فکروں سے
دور ہو جاتے ہیں، وقتا فوقتاً بچے کا موبائل فون چیک نہ کرنے کی وجہ سے وہ اپنے آپ
کو آزاد سمجھتے ہیں اور سوشل میڈیا پر نہ جانے کیسا کیسا مواد دیکھتے ہیں اور وقت
کے ساتھ ساتھ جیسادیکھتے ہیں وہی کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
4۔
فحش مواد دیکھنا،پڑھنا یا اشاعت کرنا: بچے ہوں یا بڑے سوشل میڈیا سے
محفوظ نہیں لوگ کسی بھی طریقے viewersاورlikes بڑھانے کیلیے اخلاقیات و اسلامیات کی ہر حد پار کر لیتے ہیں پھر پرسنلائزیشن
کے نام پر موبائل کے استعمال پر روک ٹوک نہیں ہوتی جسکی وجہ سے انتہائی گندا مواد
دیکھ دیکھ کر ذہن ویسے ہی تیار ہو جاتا ہے اسی طرح شہوانی جذبات کے تحریک دینے
والے فحش ناولز بے باکی پر ابھارنے والے فلمی سین بھی ذہن کو بگاڑنے میں اہم کردار
ادا کرتے ہیں
5۔
بری صحبت: پیارے
آقا ﷺ نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔ لہذا اگر اٹھنا بیٹھنا ایسے
لوگوں کے ساتھ ہے جو بے حیا دین سے دور اور ہوس پرستی کا شکار ہیں تو انکی صحبت
ضرور اثر کرے گی۔
6۔
نکاح میں تاخیر: دین
اسلام نے کچھ کاموں میں جلدی کرنے کا حکم فرمایا ہے ان میں ایک کام نکاح میں جلدی
کرنا بھی فرمایا گیا ہے، معاشرے میں شادیاں دیر سے کرنے کا رواج بڑھ چکا ہے یا
تنگدستی کی وجہ سے معاشرے کی رسومات کو پورا کرنے کے اخراجات نہیں ہوتے جسکی وجہ
سے جلد شادی کرنا مشکل ہو جاتا ہے نتیجۃً نوجوان ناجائز طریقوں سے ہوس کو پورا
کرنے کی طرف لپکتے ہیں۔
7۔
مال ودولت کی حرص: کچھ لوگ زنا کاری و فحاشی کے اڈے چلا کر دنیاوی مال
ودولت حاصل کرتے ہیں اسی طرح طوائفات جسم فروشی کے ذریعے دنیا کا مال کماتی ہیں
حقیقتا دوزخ کے انگارے اکٹھی کرتی ہیں نیز فحاشی کے اڈے چلانے والے اپنے کالے
دھندے کوبڑھانے کیلیے کثیر رقم کا لالچ دیتے اور نو جوانوں کو ورغلا کر کال میں
پھنساتے ہیں پھر انکی ناجائز کاموں پر ذہن سازی کرتے ہیں۔
8۔
بے پردگی: وَ قَرْنَ فِیْ
بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى (پ
22، الاحزاب: 33) ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے
اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔
اسلام مکمل
ضابطہ حیات ہے اس کا ہر حکم فطرت کے مطابق اور انسانیت کی فلاح کیلیے ہے اسلام نے
ہمیں پردے کا حکم دیا ہے یقینا اسی میں بہتری ہے یہی فطرت ہے مگر آج جدیدیت کے نام
پر مردو عورت کے اختلاط کو فروغ دیا جا رہا ہے مزید یہ کہ فیشن کے نام پر عورتوں
کی عریانی اور فحاشی عام ہو رہی ہے جو جنس مخالف کو انکی طرف مائل کرتی ہے یوں
جنسی آوارگی بڑھتی ہے۔
9۔
بےلگام نفس: ارشاد
باری تعالیٰ ہے: وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَاﭪ(۷) فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَاﭪ(۸)
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاﭪ(۹) وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ(۱۰) (پ
30، الشمس: 7 تا 10) ترجمہ کنز العرفان: اور جان کی اور اسکی جس نے اسے ٹھیک
بنایاپھراس کی نافرمانی کی اور اسکی پرہیز گاری کی سمجھ اس کے دل میں ڈالی بے شک
جس نے نفس کو پاک کر لیا وہ کامیاب ہو گیااوربے شک جس نے نفس کو گناہوں میں چھپا
دیا وہ ناکام ہوگیا۔
یاد رکھیے نفس
انسان کا وہ دشمن ہے، جس کا اثر شیطان سے بھی بڑھ کر ہے، بلکہ خود شیطان کو گمراہ
کرنے والی چیز اُس کا نفس تھا۔ نفس کی آرزوئیں بے لگام اور خواہشیں بے شمار ہیں۔
یہ خواہشات بڑھتے بڑھتے اس حد کو پہنچ جاتی ہیں کہ بندگانِ نفس کے لیے اُن کا نفس
بمنزلہِ خدا بن جاتا ہے اور بندہ اس کی ہر خواہش پر عمل کرکے خود کو ہلاکت میں ڈال
دیتا ہے۔
اللہ پاک ہر
گناہ سے محفوظ فرمائے اللہ پاک دین اسلام سیکھنے سمجھنے اور آگے پھیلانے کی توفیق
عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami