جنسی بے راہ
روی ہماری معاشرتی اخلاقی اور خاندانی زندگی کو شدید متاثر کرنے والا مسئلہ ہے یہ
صرف فرد کے کردار کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔
سب سے پہلا
اور بنیادی سبب مذہبی اور اخلاقی تربیت کی کمی ہے۔جب انسان کی پرورش میں دین کی
تعلیمات حلال اور حرام کی پہچان شرم و حیا کے اصول اور کردار سازی شامل نہ ہو تو
برائی اور بھلے کا فرق کھو بیٹھتا ہے۔
دوسرا بڑا سبب
انٹرنیٹ ہے جس نے انسان کے دل سے اللہ کا خوف ختم کر دیا۔آج کل کے لوگ انٹرنیٹ میں
مصروف ہیں۔
تیسرا غیر صحت
مند سماجی ماحول ہے۔ ایسے دوستوں کی صحبت جو انسان کو غلط راستے میں لے جاتی ہے
انسان زیادہ تر اپنے ماحول سے سیکھتا ہے۔
ایک اور سبب
نکاح میں تاخیر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نکاح میری سنت ہے اور جو میری سنت سے
منہ پھیرے وہ مجھ سے نہیں۔ ایک اور سبب والدین کی غفلت اور تربیت کی کمی ہے۔ والدین
کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی کریں بچوں کو دین کی راہ میں لے کر آئیں۔ دل
میں اللہ کا خوف پیدا کریں نبی کریم ﷺ کی پیاری پیاری باتیں سکھائیں اور پانچ وقت کا
نمازی بنائیں۔برے دوست انسان کو گناہوں کی طرف لے جاتے ہیں جبکہ نیک صحبت انسان کو
اچھے راستوں یعنی بھلائی کی طرف لے جاتی ہے۔
حدیث پاک ہے: آدمی
اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہذا دیکھو کس سے دوستی کرتے ہو۔
اسلام مرد اور
عورت دونوں کو حیا کا حکم دیتا ہے جب پردہ نہ ہو تو برائیوں کا راستہ کھل جاتا ہے۔
اسی طرح بے
روزگاری اور ذہنی دباؤ بھی انسان کو نفسیاتی کمزوریوں کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان بے
روزگاری کی وجہ سے پریشان رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ خوف خدا دل سے نکال دیتا ہے اس
کا دل کمزور ہو جاتا ہے اور وہ دنیاوی زندگی میں اپنا دل لگا بیٹھتا ہے۔
انسان کو اس
چیز کا علم ہونا چاہیے کہ قیامت کے دن وہ ان سب چیزوں کا جواب دہ ہوگا جو کچھ اس
نے دنیا میں کیا ہے۔اگر انسان اپنے دل میں آخرت کا خوف رکھے تو وہ گناہوں سے بچا
رہے گا اور نیک اعمال سر انجام دے گا۔ گھریلو ٹینشن اور مسئلے مسائل کی وجہ سے بھی
انسان اللہ تعالیٰ کی یاد سے دور ہو جاتا ہے۔جب والدین بچوں پر غیر ضروری پابندیاں
لگا دیں ان کے مسائل نہ سنے یا سخت رویہ اپنائے تو بچے کبھی کبھی جذباتی بغاوت میں
غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں۔میڈیا موبائل ڈرامے فلمیں اور انٹرنیٹ نے نوجوانوں کو سب
سے زیادہ متاثر کیا ہے۔
Dawateislami