جنسی بے راہ روی
کے اسباب جاننے سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ جنسی بے راہ روی کسے کہتے ہیں۔
جنسی بےراہ روی
سے مراد ایسےغیرفطری اور غیراخلاقی جنسی رویے ہیں جومعاشرتی اور قانونی حدود سے
تجاوز کرتے ہیں۔اس میں غیرفطری اور غیرشرعی تعلقات، تشدد، استحصال اورغیرقانونی
جنسی سرگرمیاں شامل ہیں۔
یہ رویے
فرداور معاشرے کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں اور انتشار کا باعث بنتے ہیں۔ اگر معاشرہ
ان چیزوں کے متعلق کوئی ردعمل ظاہر نہ کرے اور بروقت ان چیزوں پر قابو نہ پایا
جائے تو اس معاشرے میں خواتین اور بچیوں کی عزت محفوظ نہیں رہتی۔
اب جنسی بے
راہ روی کے چند اسباب گوش گزار کرتی ہوں۔
جنسی بے
راہروی کا پہلا سبب بےپردگی ہے۔عورتیں ایسے لباس پہنتی ہیں کہ جس سے ان کے اجسام
کی ہیئت نمایاں ہوتی ہے۔لباس پہننے کے باوجود ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ برہنہ
ہوں اور ایسے لباس پہن کر وہ غیر مردوں کے سامنے جاتی ہیں۔
جبکہ اللہ پاک
نے قرآن کریم میں سورۃ احزاب میں حکم ارشاد فرمایا ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ
لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ
مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ
اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۵۹) (پ 22، الاحزاب: 59)ترجمہ: اے نبی
اپنی بیبیوں اور صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا
ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں۔یہ اسکے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ
جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
اس آیت سے بھی
پتا چلتا ہے کہ اللہ پاک نے قرآن کریم میں بھی پردے کا حکم ارشاد فرمایا اور اسی
میں بھلائی ہے۔
اس آیت مبارکہ
میں ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ دین کے احکامات پر عمل نہ کرنا بھی جنسی بے راہ روی
کا سبب ہے۔ یعنی اگر عورتیں اس آیت مبارکہ پر عمل کریں اور پردہ اختیار کریں تو
مذکورہ بالا آیت کے مطابق وہ ستائی نہیں جائیں گی۔
اللہ پاک کے
ہر حکم میں انسان ہی کے لیے مصلحت ہے۔ مردوں کو بھی چاہیے کہ اپنی نگاہیں جھکائے
رکھیں۔
اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ
یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-
(پ
18، النور: 30)مومن مردوں کو کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں
کی حفاظت کریں۔یہی ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔
اس آیت پر عمل
پیرا ہونے سے حیا برقرار رہتی ہے۔ معلوم ہوا کہ بےپردگی اور دین پر بے عملی بھی
جنسی بےراہروی کے اسباب میں شامل ہیں۔
جنسی بے راہ روی
کا ایک اور سبب مخلوط تعلیم بھی ہے۔ مرد اور عورتیں اکٹھے اداروں میں تعلیم حاصل
کرتے ہیں۔وہاں بھی فیشن اور ماڈرنائیزیشن کے نام پر بے پردگی ہو رہی ہوتی ہے۔اس
طرح نگاہوں کا تقدس پامال ہوتا ہے اور انسان شیطانی جال میں پھنستا ہے۔حدیث مبارکہ
میں ارشاد ہوا: کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے مگر اس کا محرم
ساتھ ہو ۔ (بخاری، 2/311، حدیث:3006)
یہ اختلاط کے
متعلق بہت سخت ممانعت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردوں اور عورتوں کو آپس میں اختلاط
سے بچنا چاہیے خصوصاً وہاں جہاں بے پردگی ہو۔
جنسی بے راہ روی
کا ایک سبب مغربی تہذیب کا بہت زیادہ پسند کیا جانا بھی ہے۔یعنی آئے دن نئے نئے
فتنے اٹھتے ہیں۔ماڈرنائیزیشن،لبرل ازم،مادہ پرستی، فیمنزم کی انتہائیں وغیرہ۔ یہ
فتنے دین اسلام کی عورت پر حدود کو ظلم سمجھتے ہیں اور عورتیں ان پر عمل کرتی ہیں۔اور
بے پردہ بے پردہ ہونے کو ماڈرنائیزیشن خیال کرتی ہیں۔
پھر نتیجتاً
جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔ ان سب کے علاوہ مزید بھی بہت سے اسباب ہیں۔
جنسی استحصال
سے بچنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ انسان اس دور پر فتن میں جتنا پردے میں رہے گا اتنا
ہی با حفاظت اور پرامن رہے گا۔ اسلام کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے اور اسلام کی
حدود میں رہنے میں ہی بھلائی ہے۔
اللہ ہماری
عزتوں کی حفاظت فرمائے اور ہمیں دین اسلام کے احکامات پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا
ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami