جنسی
بے راہ روی کے اسباب از بنت محمد جنید رضا، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
جنسی بے راہ
روی سے مراد جنسی خواہشات کی تسکین میں حدودِ شرع اور اخلاقیات کو توڑ دینا ہے۔یعنی
وہ تمام اعمال،نظریات یا رویے جو اسلامی تعلیمات،معاشرتی اقدار اور انسانی شرافت
کے خلاف ہوں،جن سے زنا،فحاشی، ہم جنس پرستی یا ناجائز تعلقات جیسے گناہ پیدا ہوں،انہیں
جنسی بے راہ روی کہا جاتا ہے، اسلامی نقطہ نظر سے یہ عمل بہت بڑا گناہ اور اخلاقی
بیماری ہے۔
جنسی بے راہ
روی آج کے دور کاایک نہایت سنگین،سماجی و اخلاقی مسئلہ ہے۔معاشرے میں اس بیماری کے
پھیلنے سے نہ صرف خاندان کا نظام خراب ہورہا ہے بلکہ اخلاقی اقدار بھی تباہی کے
دہانے پر پہنچ چکی ہے۔اسلام نے انسان کو پاکیزہ زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے اور فحاشی
و بدکاری سے سختی سے منع کیا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: وَ لَا تَقْرَبُوا
الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (پ 15، الاسراء:
32) ترجمہ: اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ،بےشک یہ بے حیائی اور بہت برا رستہ ہے۔
جنسی
بے راہ روی کے اسباب:
(1)
مغربی ثقافت کا اثر: موجودہ دور میں مغربی طرز زندگی نے ہمارے معاشرے کی
گہری جڑیں پکڑ لی ہیں،آزاد خیالی،فیشن پرستی اور مخلوط تعلیم کے رواج نے نوجوانوں
کو دین سے دور اور خواہشات کا تابع بنادیا ہے۔
(2)میڈیا
اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال: انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر موجود فحش
مواد، ڈرامے اور فلمیں نوجوان کے ذہنوں کو آلودہ کر رہے ہیں ایسے مواد سے نفسیاتی
اور اخلاقی تباہی جنم لیتی ہیں۔ حدیث مبارکہ میں ہے: جب تم میں حیا نہ رہے تو جو
چاہو کرو۔ (بخاری، 4/131، حدیث:6120) یہ
حدیث اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ حیا کے ختم ہونے سے برائی عام ہوجاتی ہے۔
(3)والدین
کی عدم توجہ: آج
کے والدین اپنی مصروفیات کی وجہ سے بچوں کو وقت نہیں دیتے۔بچے انٹرنیٹ اور دوستوں
سے وہ سیکھتے ہیں جو ان کے اخلاق کو بگاڑ دیتا ہے۔والدین اگر دینی تربیت اور
نگرانی میں کوتاہی کریں تو نوجوان آسانی سے گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
(4)
غربت اور بے روزگاری: بعض اوقات معاشی تنگی اور روزگار کی کمی نوجوانوں
کو نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کردیتی ہے۔اس دباؤ سے نکلنے کےلئے وہ ناجائز تعلقات یا
فحش تفریحات کا سہارا لیتے ہیں۔
(5)دین
سے دوری:دینی
تعلیمات سے غفلت جنسی بے راہ روی کا سب سے بڑا سبب ہے جب انسان کے دل میں اللہ کا
خوف نہیں رہتا تو وہ حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔
آخر میں اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں علم دین حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نفسانی خواہشات
کی اتباع کرنے سے محفوظ رکھے۔ آمین یارب العالمین
Dawateislami