معاشرہ کسی
بھی قوم کے اخلاقیات و نظریات سماجی قدروں کی عکاسی کرتا ہے اگر سماجی اقدار اور
اخلاقیات میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو پورا معاشرہ اس سے متاثر ہوتا ہے معاشرے کی تباہی
کا ایک سبب جنسی بے راہ روی بھی ہے۔ جنسی بے راہ روی سے مراد غلط اور غیر اخلاقی
رجحانات ہیں جو فطرت اور دین کے خلاف ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد
فرماتا ہے: وَ لَا تَقْرَبُوا
الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (پ 15، الاسراء:
32) ترجمہ: اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ،بےشک یہ بے حیائی اور بہت برا رستہ ہے۔
اس کے اسباب
پر غور کرتے ہیں کہ مسبب کے سدِّ باب کے لئے اسباب کا ختم ہونا ضروری ہوتا ہے۔
جنسی
بے راہ روی کے اسباب:
خوفِ
خدا کی کمی: خوف
خدا کی کمی ہر برائی کی جڑ ہے جب اللہ تعالیٰ کا ڈر دل سے نکل جاتا ہے تو انسان
بےباک ہو جاتا ہے اور حلال و حرام کی پروا نہیں کرتا۔
دینی
تعلیم سے محرومی: دینی
تعلیم کی کمی کی وجہ سے اس بات کی طرف توجہ ہی نہیں جاتی کہ اسلام اس بارے میں کیا
تعلیم دیتا ہے۔
مخلوط
تعلیمی نظام: جنسی
بے راہ روی کا سبب مخلوط تعلیمی نظام بھی ہے کہ اس ماحول میں محرم اور نا محرم کا
آپس میں گفتگو کرنا کچھ معیوب نہیں ہوتا اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کبھی یک طرفہ تو
کبھی دو طرفہ ناکام محبت کا سلسلہ ہو جاتا ہے اور بعض اوقات اس محبت کے نام پرغلط
راہ اختیار کی جاتی ہے اور شریعت کی حدیں پار کر بیٹھتے ہیں جو بعد میں شدید
شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔
بری صحبت و
براماحول بھی ایک سبب ہے جنسی بے راوی کا کہ برے دوست اور غلط محفلیں بھی انسان کو
برائیوں میں ملوث کرتے ہیں۔
فحش
ویڈیوز اور شہوت کو فرغ دینے والی تحریریں: یہ انسان کے
جذبات کو بڑھاتے ہیں اور ان کو پورا کرنے کے جائز ذرائع میسر نہ ہونے کی وجہ سے
انسان غلط راہ پر چل پڑتا ہے۔
شادی
میں تاخیر: بد
قسمتی سے ہمارے معاشرے میں نا جائز رسومات کو پورا کرنے کے وسائل نہ ہونے کی وجہ
سے شادیوں میں تاخیر کی جاتی ہے جس کی وجہ سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے راہ روی
کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بے
حیائی کو فیشن سمجھنا: فیشن کے نام پر خوب بے حیائی کی جاتی ہے جسکی وجہ
سے پہلے نظر پھر دل بہکتا ہے اور وہ ھو جاتا ہے جو نہیں ہونا چاہیے۔
ان اسباب کا
سدِباب ضروری ہے تاکہ بڑھتی ہوئی اس برائی کو روکا جا سکے۔
آ خرت کے
معاملات پر غور فکر کیا جائے تاکہ خوف خدا پیدا ہو، دینی تعلیم کی کمی کو دور کیا
جائے اور آ نے والی نسل کی اسلامی خطوط پر تربیت کی جائے تاکہ انہیں حلال وحرام کا
فرق معلوم ہو، ا چھے دوست بنائے جائیں اچھی صحبت اختیار کی جائے کہ صحبت بہت موثر ہوتی
ہےتِل کو گلاب میں رکھیں تو گلابی ہو جاتا ہے، تعلیمی نظام کو اسلامی تعلیمات کی
روشنی میں منظم کیا جائے، ناجائز رسومات کا خاتمہ کیا جائے تاکہ سفید پوش لوگ بھی
اپنی حیثیت کے مطابق سنت نکاح ادا کر سکیں، اپنی بہن بیٹیوں کو پردے کا پابند کیا
جائے اور بے پردگی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔
یہ چند
اقدامات اس برے فعل کی روک تھام میں معاون ثابت ہونگے۔
Dawateislami