جنسی بے راہ روی سے مراد اپنی جنس(جسم شہوت) کا غلط استعمال کرنا غلط رستہ اختیار کرنا جیسےزنا، بدکاری وغیرہ۔

اسباب:

1۔ جنسی بے راہ روی کا جو سب سے بڑا سبب ہے وہ ہےبے حیائی۔ دیکھا جائے تو آج کل بہت ہی ایسی کم تعداد ہے جو بے حیائی سے بچتی ہو ورنہ ہر جگہ بے حیائی کا انقلاب برپا ہے کہ روشن سوچ رکھنی چاہیے یہ کہنے والے لوگ زیادہ بے حیائی میں مبتلا ہوتے ہیں۔

2۔ کوسٹڈی (co study): ایسے سکول اور کالج جہاں پر لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک ساتھ تعلیم دی جاتی ہے ان کا ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلف بات چیت کرنا بھی بے حیائی کا سبب ہے۔

3۔ سوشل میڈیا: جنسی بے راہ روی کا ایک سبب سوشل میڈیا بھی ہے کہ اس پر بے حیائی عام ہے سوشل میڈیا کے ذریعے گانے باجی سننا کہ یہ انسان کے اندر شہوت کو پیدا کرتے ہیں فلمیں ڈرامے دیکھنا وغیرہ۔

4۔ دینی تعلیم سے بے رغبتی: دین سے دوری بھی انسان کو بےراہ روی میں مبتلا کر دیتی ہے اگر کوئی شخص دین سے دور ہوگا تو یقینا وہ شیطان کی پیروی کرنے میں لگ جائے گا اور شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے وہ برے اور بے حیائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اسی متعلق اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-وَ مَنْ یَّتَّبِـعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ-وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًاۙ-وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۱) (پ 18، النور: 21) ترجمہ: اے ایمان والو شیطان کی پیروی نہ کرو جو شیطان کے قدموں کی پیروی کرتا ہے تو بے شک شیطان تو بے حیائی اور بری بات ہی کا حکم دے گا اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی شخص بھی کبھی پاکیزہ نہ ہوتا البتہ اللہ پاک پاکیزہ فرما دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

شیطان کو بے حیائی بہت پسند ہے اسی لیے جہاں شیطان کے اثرات زیادہ ہوں گے وہاں بے حیائی بھی زیادہ ہوگی اور شیطان کے اثرات وہاں پر ہوتے ہیں جہاں پر علم نہ ہو دین سے بےرغبتی یعنی دین سے دوری ہو۔

5۔ نشہ / شراب: یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ہر برائی کی جڑ ہے اور برائی و بےحیائی اسی سے شروع ہوتی ہے۔

بےحیائی کا وبال: حجۃ الاسلام حضرت امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں: جو کوئی اپنی آنکھوں کو نظر حرام سے کرے گا تو قیامت کے روز اس کی آنکھوں میں آگ بھر دی جائے گی۔ (مکاشفۃ القلوب، ص 10)

نظر کی حفاظت کی اہمیت: پیاری پیاری اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے کہ نظر کی حفاظت کس قدر اہم ہے کہ اس کی حفاظت نہ کرنے والا قیامت کے دن کس قدر بھاری قیمت چکائے گا اور نظر کی حفاظت بے حیائی سے بچنےکا اہم جز ہے کی نظر برائی کی طرف اٹھے گی تو دل میں وسوسے پیدا ہوں گے اور یہاں سے برائی میں مبتلا کرنے والے گناہ جہنم میں لے جانے کا سبب بنیں گے اور یہ بہت بڑا فتنہ ہے۔ میرےآ قا اعلی حضرت امام احمد رضا خان فرماتے ہیں: پہلے نظر بہکتی ہے، پھر دل بہکتا ہے پھر ستر بہکتا ہے۔

جنسی بے راہ روی سے بچنے کی فضیلت: تاجدار مدینہ ﷺ کا فرمان فرحت نشان ہے: جو مسلمان کسی عورت کی خوبیوں کی طرف پہلی بار نظر کر ے تو اللہ پاک اسے ایسی عبادت عطا فرمائے گا جس کی وہ لذت پائے گا۔ (مسند امام احمد، 8/299، حدیث: 22341) جہاں عورت کو ایسی پارسائی کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے وہیں مرد کو بھی بے حیائی اور بدکاری سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے مگر مرد کے مقابلے میں عورت کو پردے کا حکم زیادہ ہے کیونکہ عورت کا معنی ہے چھپانے کی چیز کہ وہ خود کو فتنے سے بچانے کے لیے بندے کا اہتمام کریں مرد اور عورت دونوں کو چاہیے کہ ہر وقت اپنی نگاہوں کو باوضو رکھیں یہی طریقہ ہےخود کوبے حیائی سے بچانے کا۔

اللہ پاک ہم کو بے حیائی کرنے سے محفوظ رکھے اور شیطان لعین کے ہر وار سے محفوظ رکھے اللہ پاک میٹھے مدینے کی حاضری کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین