مسلمانوں پر
ظلم اور امت مسلمہ کی خاموشی از بنت محمد شوکت،ڈھبہ کرسیال میانوالی
شریعت میں ظلم
سے مراد یہ ہے کہ کسی کا حق مارنا، کسی کو غیر محل میں خرچ کرنا، کسی کو بغیر غلطی
کے سزا دینا۔ تاریخ اسلام میں ابتدائے اسلام سے ہی مسلمانوں پر ظلم کی بھی ابتدا
ہوئی۔ ہمارے نبی، نبی اکرم ﷺ کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچائی گئیں۔ کبھی کفار مکہ
آپ کے راستے میں کانٹے بچھاتے، کبھی آپ کو دھکا دیتے اور کبھی آپ کی نازک اور مقدس
گردن میں چادر کا پھندا ڈال کر گلا گھونٹنے کی کوشش کرتے۔ حضور رحمت ﷺ کے ساتھ
ساتھ غریب مسلمانوں پر بھی کفار مکہ نے ایسے ایسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے کہ مکی
کی زمین بلبلا اٹھی۔ صحرائے عرب کی تیز دھوپ میں جب کہ وہاں کی ریت کے ذرات تنور
کی طرح گرم ہو جاتے اس وقت ان مسلمانوں کی پشت کو کوڑوں کی مار سے زخمی کر کے اس
جلتی ہوئی ریت پر پیٹھ کے بل لٹاتے اور سینوں پر اتنا بھاری پتھر رکھ دیتے کہ وہ
کروٹ نہ بدلنے پائیں اور اس کے ساتھ ساتھ لوہے کو آگ میں گرم کر کے ان سے ان
مسلمانوں کے جسم کو داغتے۔ الغرض مسلمانوں پر ایسے ایسے ظلم کیے گئے کہ دل دہل
جاتا ہے۔ اسلام کی سربلندی کےلئے ہر بار کسی مسلمان نے قربانی دی، کسی ماں کا بیٹا
قربان ہوا، کسی بیوی کا شوہر قربان ہوا، کسی بہن کا بھائی قربان ہوا۔ ہمیشہ
مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ کیا اسلام کی سربلندی کےلئے ہمیشہ کسی کو
قربان ہونا پڑے گا؟ کیا کسی قربانی کے بغیر امت مسلمہ یک جہتی کے ساتھ اسلام کی
سربلندی کےلئے کوشاں نہیں ہو سکتی؟
مسلمانوں پر
ظلم آج بھی ہوتا ہے۔ اور انتہا اس بات کی ہے کہ مسلمانوں پر آج مسلمان بھی ظلم
کرنے سے نہیں رکتے۔ مسلمان ہونے کے باوجود غصے کی آگ اتنی بڑھ چکی ہے کہ مسلمان ہی
مسلمانوں کو قتل کرنے سے اپنے ہاتھ نہیں روک پا رہے۔ کسی مسلمان پر ظلم ہوتا دیکھ
امت مسلمہ تماشائی بنی ہوتی ہے۔ یہ امت مسلمہ آج خاموش ہے۔ یہ امت نہ ظلم سے منع
کرتی ہے، نہ زیادتی سے۔ اس امت کو کوئی کافر و مشرک کیا توڑے گا۔ یہ امت خود کی
جڑوں کو خود کھوکھلا کر رہی ہے۔ اس امت نے مجرمانہ خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔
نبی پاک ﷺ نے تو فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس اس پر ظلم نہ
کرے اور نہ اسے حقیر جانے۔ (مسلم، ص 1386،
حدیث: 2564)
امت مسلمہ کو
ایک جسم ایک جان کی مانند ہونا چاہیے۔ جس طرح جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو پورا
جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح اگر ایک مسلمان پریشان ہو تو پوری امت
مسلمہ کو وہ تکلیف محسوس کرنی چاہیے۔ لیکن اس امت نے ایک گہری خاموشی اختیار کی
ہوئی ہے۔
اب اس امت
مسلمہ کو خاموشی ختم کرنی چاہئے۔ اور امت مسلمہ کو یک جہتی کے ساتھ دین کا پرچم سر
بلند کرنے کےلیے کوشاں ہو جانا چاہئے۔
Dawateislami