حضور کی
انبیائے کرام سے محبت از بنت محمد خالد وسیم، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
حضور ﷺ اپنے
تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت فرماتے تھے اس لئے آقا ﷺ نے ان کی یاد کو
جاری وساری رکھنے اور ان کے افعال کو جاری کرنے کیلئے دیگر احادیث میں ارشاد
فرمایا ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام کی محبت میں آپ ﷺ انکے اوصاف کو بھی
اپنایا اور پھر ان میں سے کچھ صفات کا اپنی احادیث مبارکہ میں بھی ذکر فرمایا اور
دیگر احادیث مبارکہ میں مختلف انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت کا اظہار بھی
فرمایا اور انکی شان کو بھی بیان فرمایا۔
شانِ
حضرت آدم بزبانِ شہنشاہِ بنی آدم: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ایمان والے جمع ہوں گے اور کہیں گے: اے
کاش ہمارے رب کی بارگاہ میں کوئی ہماری سفارش کر دے پھر وہ حضرت آدم علیہ السلام
کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے آپ تمام انسانوں کے والد ہیں اللہ پاک نے خاص اپنے
دست قدرت سے آپکی تخلیق فرمائی اور آپ کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کروایا اور آپکو
تمام چیزوں کے ناموں کا علم دیا۔ (بخاری،3/441، حدیث: 4744)
درود
ابراہیمی کی تعلیم: حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے
آقا کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ اللہ نے ہمیں آپ پر سلام بھیجنے
کا طریقہ تو سیکھا دیا ہے لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں ارشاد فرمایا: یوں کہو: اللَّهُمَّ
صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّیتَ عَلَى إِبْرَاهِیمَ
وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِیمَ إِنَّكَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى
مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِیمَ وَعَلَى آلِ
إِبْرَاهِیمَ إِنَّكَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ۔ (بخاری، 2/429، حدیث: 3370)
مونچھیں
تراشنا سنتِ ابراہیمی ہے: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
فرماتے ہیں: حضور ﷺ اپنی مونچھیں تراشتے تھے اور ان سے پہلے تمہارے والد حضرت
ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی مونچھیں تراشا کرتے تھے۔ (ترمذی، 4/349، حدیث: 2769)
حضرت
ابراہیم کا جنتی محل: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ
نے ارشاد فرمایا: بےشک جنت میں موتیوں سے بنا ہوا ایک محل ہے جس میں نہ ہی دراڑیں
ہیں اور نہ ہی کوئی کمزوری اللہ پاک نے اسے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی
مہمانی کیلئے تیار کیا ہے۔ (مسند بزار، 15/690، حدیث:8789)
حسن
یوسف علیہ السلام: آپ علیہ السلام انتہائی حسین و جمیل تھے احادیث معراج
میں آقا ﷺ نے آپ علیہ السلام کے حسن کا اجمالی تذکرہ کیا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا:
معراج کی رات میں نے تیسرے آسمان میں حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو وہ ایسے
شخص تھے جن کے حسن نے مجھے تعجب میں ڈال دیا وہ نوجوان اور اپنے حسن کے سبب لوگوں
پر فضیلت رکھنے والے تھے۔ (تاریخ ابن عساکر، 35/146، حدیث: 7136)
ان احادیث
مبارکہ سے معلوم ہوا کہ سنت ابراہیمی کو پیارے آقا ﷺ کا جاری رکھنا اور ان کے
افعال کو جاری رکھنا بھی ان سے محبت کا اظہار تھا۔
آپ علیہ
السلام تمام انسانوں میں زیادہ حسین تھے کہ خود پیارے آقا نے اپنی حدیث مبارکہ میں
ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے اور صرف ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کو ان سے بڑھ کر
حسن عطا فرمایا گیا ہے چنانچہ ایک شاعر نے فارسی میں کیا خوب ارشاد فرمایا:
حسنِ
یوسف دمِ عیسیٰ یدِ بیضاداری آنچہ
خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری
ان احادیث
مبارکہ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ انبیائے کرام صرف شرعی مسائل تک محدود نہیں ہوتے
بلکہ اللہ پاک نے انہیں کثیر علم سے نوازا ہے۔
شانِ
ایوب علیہ السلام: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
حضرت ایوب علیہ السلام قیامت کے دن صبر کرنے والوں کے سردار ہوں گے۔ (تاریخ ابن
عساکر، 15/44)
دعائے
سلیمان کی رعایت: حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات مجھ پر
ایک سرکش جن حملہ آور ہوا تاکہ وہ میری نماز منقطع کر دے پس اللہ پاک نے مجھے اس
پر قدرت دی میں نے اسے قابو کر لیا پھر میں نے ارادہ کیا اسے مسجد کے ستونوں میں
سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ تم سب اسے دیکھو مگر مجھے میری بھائی حضرت
سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی کہ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی
سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو۔ تو میں نے اس جن کو ناکام واپس کر
دیا۔
اس سے بھی شانِ
نبی ثابت ہوتی ہے کہ پیارے آقا ﷺ نے دعائے سلیمان کو اپنایا اور چونکہ حضرت
ابراہیم بھی اللہ پاک کے دوست ہیں یعنی خلیل اللہ ہیں اسی لیے نمازی کو حکم دیا
گیا کہ وہ تشہد میں وہی درود ابراہیمی پڑھے جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر
درود و سلام بھیجا گیا اور اس درود کو تب سے آج تک اور آگے بھی قیامت تک مسلمان
پڑھتے رہیں گے۔
Dawateislami