پیارے کریم آقا ﷺ کو گزشتہ انبیائے کرام سے بہت محبت،عقیدت و احترام تھا اسکا ثبوت ہمیں قرآن کریم و احادیث طیبہ سے ملتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک ہم ہر نبی و رسول پر ایمان نہ لے آئیں۔آقا ﷺ تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے افضل ہیں۔جبکہ بعض احادیث میں آقا ﷺ نے ایسی فضیلت دینے سے منع فرمایا یعنی کہ جس سے دیگر انبیائے کرام کی شان میں کمی آئے۔

آئیے قرآن وحدیث کی روشنی میں حضور ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت ملاحظہ فرمائیں۔

قرآن مجید فرقان حمید میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر 136 میں ارشاد فرمایا گیا: قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۶)۪- ترجمہ کنز الایمان: یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی و عیسیٰ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ اس امت پر سابقہ تمام انبیائے کرام و رسولوں علیہم السلام پر ایمان لانا ضروری ہے۔جو ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرے کافر ہے۔

اسی طرح پارہ 3 سورہ بقرہ کی آیت 285 میں ہے: لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-ترجمہ کنز العرفان: ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے۔

یہ انبیائے کرام علیہم السلام وصف نبوت میں برابر ہیں البتہ انکی فضیلت کے اعتبار سے درجات ہیں۔ یہ عقیدہ بھی ہوکہ یہ تمام انسانوں سے افضل اور گناہوں سے معصوم ہیں۔یہ ہمارے ایمان میں شامل کردیا گیا اس سے آقا ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔

اسی طرح قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں بھی انبیائے کرام کا تذکرہ اسی طرح ان کی سنتیں اس امت میں شریعت میں جاری ہیں۔ جیسا کہ مونچھیں تراشنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کریمہ ہے، یہ ہمارے آقا ﷺ کی بھی سنت مبارکہ ہے۔ (ترمذی، 4/349، حدیث: 2769)

اسی طرح مقام ابراہیم کو مصلی بنانا، اس کے قریب نماز ادا کرنا۔ حج کے افعال میں ان کی اور حضرت ہاجرہ کی سنتوں کو باقی رکھا گیا۔ اسی طرح نماز میں جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے۔ اسی طرح معراج کی رات انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات ہوئی۔ جب نمازوں کی فرضیت ہوئی پہلے 50 نمازیں فرض تھیں، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے آقا ﷺ نے اللہ پاک سے عرض کی اور پھر نمازیں کم ہوتے ہوتے 5 رہ گئیں اور ثواب 50 کا۔ اس سے آقا ﷺ کی حضرت موسیٰ سے محبت کا ظہور ہوتا ہے کہ ان کی رائے کا احترام بھی فرمایا۔

اسی طرح دیگر انبیائے کرام اور انکی دعاؤں کا قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بھی تذکرہ ملتا ہے، سیرت الانبیاء سے اس کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنی اور اپنے انبیائے کرام علیہم السلام سے حقیقی محبت عطا فرمائے۔ آمین