حضور
کی انبیائے کرام سے محبت از بنت ریاض، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
اللہ پاک کے
سب سے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری سے قبل اللہ
پاک نے بہت سے انبیائے کرام کو اس دنیا میں بھیجا۔ انبیائے کرام علیہم السلام
کائنات کی عظیم ترین ہستیاں اور انسانوں میں ہیروں اور موتیوں کی طرح جگمگاتی
شخصیات ہیں۔ جنہیں خدا نے وحی کے نور سے روشنی بخشی اور حکمتوں کے سرچشمے ان کے
دلوں میں جاری فرمائے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ انبیائے کرام سے بہت محبت فرماتے اور
کثرت سے انبیائے کرام کا ذکر فرماتے تھے۔ محبت کا ایک انداز یہ بھی ہوتا ہے کہ جس
سے محبت ہوتی ہے اس کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے۔ ور ان کے طریقے کو اپنایا جاتا ہے
اسی طرح نبی کریم ﷺ انبیائے کرام کے طریقوں کو اپناتے اور اپنوں کو بھی تلقین
فرماتے۔ آپ ﷺ ان سنتوں کے ذریعے محبت کا اظہار بھی فرماتے۔ چنانچہ اس تعلق سے کچھ
احادیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے۔
حضور
کی حضرت ابرہیم علیہ السلام سے محبت: ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
ہم نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اللہ پاک نے ہمیں آپ پر
سلام بھیجنے کا طریقہ تو سکھا دیا ہے لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: یوں کہو: ترجمہ: اے اللہ محمد ﷺ اور محمد ﷺ کی آل پر رحمتیں بھیج جیسے تو
نے ابراہیم علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر رحمت بھیجی بے شک تو
تعریف کے لائق بزرگی والا ہے اے اللہ محمد ﷺ اور محمد ﷺ کی آل پر ایسی برکتیں بھیج
جیسے برکتیں ابراہیم علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر اتاریں بے شک
تو تعریف کے لائق بزرگی والا ہے۔ (بخاری، 2/429، حدیث: 3370)
سبحان اللہ
نیز نبی کریم ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقوں کو اپناتے حدیث پاک میں ہے کہ
حضرت عبداللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ اپنے مونچھیں تراشتے تھے اور
ان سے پہلے تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اپنی مونچھیں تراشا کرتے تھے۔
( ترمذی، 4/349، حدیث: 2769 )
حضور
کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی محبت میں روزہ: حضرت عبداللہ
بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے
تو آپ نے دیکھا کہ یہودی عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ
کیا ہے؟ یہودیوں نے عرض کی یہ وہ دن ہے جس میں اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو ان کے
دشمن سے نجات دی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: تمہاری نسبت موسیٰ سے میرا تعلق زیادہ ہے۔ چنانچہ آپ نے بھی اس دن کا روزہ
رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ ( بخاری، 1/656، حدیث: 2004) سبحان اللہ! قربان جائیے
محبت رسول پر کہ آپ ﷺ انبیائے کرام سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔ چنانچہ اس متعلق
ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیے۔
حضرت
موسیٰ کی رائے کا احترام: حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: شب معراج اللہ
پاک نے میری امت پر 50 نمازیں فرض فرمائیں۔ میں یہ لے کر واپس ہوا اور حضرت موسی
علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے عرض کی کہ اللہ پاک نے آپ کے ذریعے آپ کی
امت پر کیا فرض فرمایا؟ میں نے کہا: اس نے 50 نمازیں فرض کی ہیں، انہوں نے عرض کی:
اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی انہوں
نے مجھے واپس لوٹا دیا اور میں نے بارگاہ الہی میں درخواست کی تو رب تعالی نے کچھ
نمازیں معاف کر دیں تو میں حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا انہیں بتایا کہ اللہ
تعالی نے کچھ نماز معاف کر دی ہیں انہوں نے عرض کی آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیے
کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازیں پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتی میں پھر واپس ہوا اور
درخواست کی تو اللہ پاک نے کچھ نمازیں اور معاف فرما دی میں دوبارہ حضرت موسی علیہ
السلام کے پاس ایا تو انہوں نے پھر عرض کی آپ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی
امت اتنی نمازیں پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتی میں واپس گیا تو اللہ پاک نے ارشاد
فرمایا: نمازیں پانچ ہیں اور حقیقت میں 50 ہیں ہمارے ہاں فیصلے میں کوئی تبدیلی
نہیں کی جاتی میں پھر جناب حضرت موسی علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے پھر عرض کی
اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ (بخاری، 1/140،
حدیث: 349 )
میٹھی میٹھی
اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے کہ حضور ﷺ انبیائے کرام علیہم السلام سے کس قدر محبت
فرماتے تھے۔
Dawateislami