حضور
کی انبیائے کرام سے محبت از بنت خالد، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
اللہ رب العزت
نے کائنات کی ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ بندوں کو منصب نبوت عطا فرمایا۔ یہ پاکیزہ
ہستیاں انسانیت کے لیے روشنی کا چراغ بن کر آئیں،جنہوں نے توحید،صبر،عدل اور اعلی
اخلاق کی وہ مثالیں رکھیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعل راہ رہیں گی۔ان
تمام انبیا میں سب سے آخری اور اعلی مقام والے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ ہے
جو نہ صرف تمام انبیا کے سردار ہیں بلکہ ان کے سب سے زیادہ خیر خواہ،محسن اور محبت
کرنے والے ہیں۔
حضور ﷺ کے
سینے میں تمام انبیائے کرام کے لیے بہت عزت تھی وہ ان کے بارے میں کلام بہت عزت و
احترام سے فرماتے، ان کی حرمت کا خاص خیال رکھتے، ان کے مقام کو واضح کرتے اور ان
پر ایمان کو اسلام کی بنیاد قرار دیا۔
انبیائے کرام علیہم
السلام کی محبت کو قرآن و حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جیسے قران پاک میں ہے: لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ
اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-(پ 3، البقرۃ: 285) ترجمہ کنز العرفان:
ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے۔ ایک اور مقام پر آیا ہے: قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا
بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى
وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ
بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۶)۪- (پ 1، البقرۃ: 136) ترجمہ کنز الایمان: یوں کہو کہ
ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و
اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی و عیسیٰ اور
جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق
نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔
احادیث
مبارکہ:
فرمان مصطفی ﷺ
ہے: میں قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں گا۔
ایک اور حدیث
میں آپ ﷺ کا حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ محبت و احترام کا ذکر ملتا ہے چنانچہ ایک
حدیث میں ارشاد فرمایا: مجھے موسی علیہ السلام پر اس طرح فضیلت نہ دو کہ ان کی شان
میں کمی آئے۔ (بخاری2/113، حدیث: 2411)
Dawateislami