حضور
کی انبیائے کرام سے محبت از بنت سوداگر حسین، نواں پنڈ آرائیاں سیالکوٹ
1) حضور ﷺ کی محبت تمام انبیائے کرام علیہم
السلام کے ساتھ سچی اور گہری تھی۔ آپ ہمیشہ انبیا کا احترام کرتے اور ان کے فضائل
بیان فرماتے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ
رُّسُلِهٖ۫-(پ
3، البقرۃ: 285) ترجمہ کنز العرفان: ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں
کرتے۔ آپ اسی تعلیم کے مطابق انبیا کا ذکر ہمیشہ عزت اور محبت سے کرتے۔ کسی نبی کی
شان میں کمی برداشت نہ کرتے اور امت کو بھی تعلیم دیتے کہ تمام انبیا اللہ کے
برگزیدہ بندے ہیں۔
2) نبی کریم ﷺ
نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے خاص محبت کا اظہار فرمایا۔ ایک موقع پر جب ایک صحابی
نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت موسیٰ پر ترجیح دی، تو آپ نے فرمایا: مجھے موسیٰ پر ترجیح
نہ دو۔ (بخاری2/113، حدیث: 2411) اسی طرح کی ایک اور حدیث پاک میں ارشاد فرمایا: اللہ
تعالیٰ کے انبیا میں آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو۔ (بخاری2/446، حدیث: 3414)
یعنی انبیا کے درمیان فضیلت کا مقابلہ نہ کرو۔ یہ آپ کی عاجزی اور محبت کی اعلیٰ
مثال ہے۔ آپ موسیٰ کا ذکر احترام سے کرتے اور ان کی امت کے صبر و آزمائش کو
سراہتے۔ معراج کی رات بھی موسیٰ کے ساتھ محبت بھرے مکالمے سے ان کے مقام کا اعتراف
فرمایا۔
3)آپ ﷺ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام سے بھی بےحد محبت فرماتے۔ جب نصرانی عیسیٰ کو خدائی صفات دیتے
تو آپ فرماتے: أنا أولى الناسِ بعیسى ابنِ مریمَ فی الدنیا والآخرةِ(بخاری2/457،
حدیث: 3442) یعنی میں دنیا و آخرت میں
عیسیٰ ابن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ آپ نے ان کی نبوت اور پاکیزگی کا بارہا
ذکر کیا اور ان پر ایمان لانے کو ایمان کا لازمی جز قرار دیا۔ حضور عیسیٰ کے بارے
میں ہر قسم کی غلو آمیز باتوں سے امت کو روکتے اور سچی محبت و احترام کی تعلیم
دیتے۔
4)حضور ﷺ نے
حضرت ابراہیم علیہ السلام سے گہری محبت فرمائی۔ قرآن مجید میں آیا: مِلَّةَ اَبِیْكُمْ
اِبْرٰهِیْمَؕ- (پ
17، الحج: 78) آپ کو حضرت ابراہیم کا روحانی وارث قرار دیا گیا۔ آپ نے فرمایا: انا دَعْوَةُ
إِبْرَاهِیمَ (تاریخ
ابن عساكر ، 3 / 393) یعنی میں اپنے باپ
ابراہیم کی دعا کا نتیجہ ہوں۔ آپ حج کے مناسک میں ابراہیمی سنتوں کی پیروی کرتے،
قربانی، بیت اللہ کی تعظیم اور توحید کی دعوت کو ابراہیمی وراثت سمجھتے۔ ان کی
زندگی کو امت کے لیے عملی نمونہ قرار دیتے۔
5)تمام انبیا
سے حضور کی محبت صرف زبانی نہیں بلکہ عملی تھی۔ آپ نے ان کی سنتوں کو زندہ کیا، ان
کی امتوں کے لیے دعا کی اور ان کے پیغام کو مکمل کر کے امانت ادا فرمائی۔ قرآن نے
آپ کو خاتم النبیین کہا، مگر آپ نے اس فضیلت کو تکبر نہیں بلکہ رحمت میں بدلا۔ آپ
ﷺ نے فرمایا: الأنبیاءُ إخوةٌ لِعَلَّات، امُہاتُہم شَتّی ودینُهم واحدٌ (بخاری2/458،
حدیث: 3443) یعنی تمام انبیا ایک ہی دین کے بھائی ہیں۔ اس طرح آپ نے انبیا کے
درمیان محبت، وحدت اور احترام کا کامل پیغام دنیا تک پہنچایا۔
Dawateislami