حضور کی
انبیائے کرام سے محبت از بنت محمد ریاض عطاری، جامعۃ المدینہ نارووال
حضورِ اکرم ﷺ
کی سیرت کا ایک حسین پہلو یہ ہے کہ آپ نے اللہ کے تمام انبیائے کرام سے بے حد محبت
اور احترام فرمایا۔ آپ ﷺ ان کے مقام کو عزت دیتے، ان کا ذکر ادب سے کرتے اور امت
کو بھی یہی سکھاتے کہ سارے انبیا اللہ کے نورِ ہدایت کے چراغ ہیں۔
نبی پاک ﷺ نے
فرمایا:جب گھر میں سانپ نمودار ہو تو اس سے کہہ دو کہ ہم حضرت نوح اور حضرت سلیمان
علیہما السلام کے معاہدوں کے واسطے تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہمیں نہ ستا پھر
بھی اگر وہ واپس آئے تو اسے مار دو۔ (ترمذی، 3/157، حدیث:1490)
یہ حضور کی ان
ہستیوں سے چاہت اور دل لگی ہی ہے جو دوسروں کو انہیں یاد کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں۔
اسی طرح حضور
ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک ہم پر اور عاد کے ہم قوم (حضرت ہود علیہ السلام) پر رحم
فرمائے۔ (ابن ماجہ، 4/274، حدیث:3852) یہ حضور کی ان پاکیزہ شخصیات سے خلوص و محبت
ہی ہے جو اپنے پیاروں کے لیے دعا کی صورت میں پھوٹتی ہے۔
اسی طرح نبی
پاک ﷺ نے فرمایا: مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام نے یہ دعا مانگی: لا الہ
الَّا انت سبحانک انی کنتُ من الظالمین اور جب مسلمان اس کے ذریعے اللہ
پاک سے دعا مانگے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔ (تاریخ ابن عساکر، 38/45)
یہ حضور کی ان
نیک بندوں سے انس و الفت ہی ہے کہ ان کی اداؤں کو اپنانے پر بشارت عطا فرما رہے
ہیں۔
ایک مرتبہ کسی
نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: ہاں یہ میرے بھائی حضرت یونس علیہ السلام کا درخت ہے۔ (بیضاوی، 5/27) یہ
دلی لگاؤ کی ہی وجہ سے ان کی پسند کو اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید
مثالیں:
شب معراج حضور
ﷺ کا حضرت موسی علیہ السلام کی رائے کے احترام پر بار بار رب سے نماز کم کروانے کے
لیے جانا، مناسک حج (سعی اور قربانی) اور دیگر عبادات میں حضرت ابراہیم علیہ
السلام کی یاد کو جاری و ساری رکھنا، جیسے صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ
یہ قربانیاں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا: تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت
ہے۔ (ابن ماجہ، 3/531، حدیث:3127)
کچھ مشترکہ
صفات یہ ہیں جیسے صوم داؤدی، صوم عاشورہ، درود ابراہیم۔
Dawateislami