حضور کی انبیائے کرام سے محبت از بنت محمد خان
نائچ، جامعۃ المدینہ ڈیرہ نواب صاحب
حضورِ اقدس ﷺ کی انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ تمام
انبیائے کرام کے سردار اور خاتم النبیین ہیں، آپ نے ہمیشہ دوسرے انبیا کا احترام
فرمایا۔ ان کی نبوت کی تصدیق کی اور انہیں اپنی امت کے لئے بہترین نمونہ قرار دیا،جیسے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام،حضرت ابراہیم علیہ السلام سے محبت
کا اظہار کیا،ان سب کی تعلیمات کو سچ مانا اور معراج میں سب کی امامت کرائی، جو آپ
کے تمام انبیائے کرام کے ساتھ گہرے تعلق اور امت پر ان کے مقام و مرتبے کی گواہی
ہے اور یہ محبت دراصل اللہ سے محبت کا عکس ہے۔
محبتِ
انبیا کی جھلکیاں:
1۔ سرکار ﷺ کی انبیائے کرام سے محبت پر کچھ احادیث ملاحظہ ہوں۔ کثیر احادیث
میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ ہے یہاں ان میں سے ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ
ہو۔
چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام انتہائی سخی اور بڑے مہمان نواز تھے۔ چنانچہ
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: اللہ
پاک نے میرے دوست جبرائیل کو حضرت ابراہیم کی طرف یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اے
ابراہیم! میں نے تمہیں اس لئے خلیل نہیں بنایا کہ تم میرے سب سے زیادہ عبادت گزار
بندے ہو بلکہ اس لئے بنایا ہے کہ تیرا دل اہل ایمان کے دلوں میں سب سے زیادہ سخی ہے۔
(ترغیب وترہیب،3/312، حدیث:4002)
اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام اور انکی قوم کا ذکر بھی آپ ﷺ نے اپنی احادیث
میں کیا جیسا کہ حضرت جابر فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ مقام حجر سے گزرے تو ارشاد
فرمایا:اے لوگو! معجزات کا مطالبہ نہ کرو،کیونکہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے
معجزات کا مطالبہ کیا تو اللہ پاک نے ان کے لیے اونٹنی بھیجی جو اس گھاٹی سے باہر
آتی اور اسی کے اندر چلے جاتی تھی وہ اونٹنی ایک دن لوگوں کے حصے کا پانی پی جاتی
اور لوگ اس دن اونٹنی کا دودھ پی لیتے تھے۔پھر انہیں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں
تو انہیں ایک ہولناک چیخ نے پکڑ لیا اور اللہ پاک نے آسمان کے نیچے موجود ان کے ہر
فرد کو ہلاک کردیا سوائے ایک شخص کے جو کہ حرم پاک میں موجود تھا۔عرض کی گئی:یا
رسول اللہ ﷺ وہ کون تھا؟ ارشاد فرمایا: ابو رغال، جب وہ حرم پاک سے نکلا تو اسے
بھی وہی عذاب پہنچ گیا جو اس کی قوم پر آیا تھا۔ (مسند امام احمد، 5/14، حدیث:
14162 ملتقطا)
پیارے آقا ﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر خیر اپنی احادیث میں کیا ہے۔یہاں
ان کے متعلق احادیث ملاحظہ فرمائیں:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ سے
پوچھا گیا کہ لوگوں میں کون زیادہ عزت والا ہے؟ فرمایا: جو تم میں بڑا پرہیزگار ہے
۔عرض کی: ہم اس کے بارے میں نہیں پوچھ
رہے۔ ارشاد فرمایا: تولوگوں میں بڑے معزز یوسف ہیں کہ (خود)اللہ کے نبی ہیں اورنبی (یعقوب علیہ السلام)کے بیٹے، وہ نبی(اسحاق علیہ السلام) کے بیٹے اور وہ خلیل اللہ کے بیٹے ہیں۔ عرض کی: ہم اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہے، ارشاد فرمایا: تو کیا تم مجھ سے اہلِ عرب کے آباؤ اجداد کے بارے میں
پوچھ رہے ہو؟ عرض کی: جی ہاں، ارشاد فرمایا: ان میں سے جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جب کہ عالم
ہوجائیں۔ (بخاری، 2/421، حدیث:3353)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پھر
مجھے تیسرے آسمان پر لے جایا گیا،جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنا چاہا تو
پوچھا گیا:کون؟کہا:جبریل۔پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد ﷺ پوچھا گیا
انکو بھیجا گیا ہے؟ جواب دیا۔جی ہاں! بھیجا گیا ہے۔تو ہمارے لئے دروازہ کھلا، وہاں
حضرت یوسف علیہ السلام موجود تھے،انہیں خوبصورتی کا ایک حصہ دیا گیا ہے، آپ نے
مرحباً کہا اور میرے لیے خیر کی دعا بھی کی۔ (مسلم، ص 78، حدیث: 411)
پسندیدہ
سبزی اور اس کی وجہ: ایک مرتبہ کسی نے عرض کی:یا
رسول اللہ! آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ میرے
بھائی حضرت یونس علیہ السلام کا درخت ہے۔ (بیضاوی،5/27)
قبر
میں نماز: حضرت
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے فرمایا: جس رات مجھے معراج
کرائی گئی اس رات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو آپ کثیب احمر(ایک
سرخ ٹیلے) کے پاس اپنے قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ (مسلم، ص 994، حدیث: 6157)
بروز
قیامت بارگاہِ موسیٰ میں مخلوق کی حاضری: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے
دن لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آکر کہیں گے:اے موسیٰ علیہ السلام! آپ اللہ پاک
کے نبی ہیں،اللہ پاک نے آپ کو لوگوں پر اپنی رسالت اور کلام کے ذریعے فضیلت بخشی،آپ
ہمارے لیے اپنے رب العالمین کی بارگاہ میں شفاعت کیجئے،کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم
کس حال میں ہیں؟یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام ان سے فرمائیں گے: میرے رب نے آج
ایسا غضب کیا ہے کہ ایسا عضب نہ اس نے پہلے کیا اور نہ ہی آج کے بعد کرے گا،اور
میں نے ایک ایسی جان کو قتل کر دیا تھا جسے کرنے کا مجھے حکم نہیں تھا،اس لیے مجھے
اپنی فکر ہے،مجھے اپنی فکر ہے۔تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ،تم حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ (بخاری، 3/420، حدیث:4713)
Dawateislami