اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ ہیں آپ ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری سے قبل اللہ کریم نے بہت سے انبیائے کرام کو اس دنیا میں بھیجا مکی مدنی مصطفی ﷺ ان انبیائے کرام علیہم السلام سے بہت محبت فرماتے اور کثرت سے مختلف انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر فرماتے نیز ان کی صفات واوصاف بیان فرماتے۔

محبت کا ایک انداز یہ بھی ہوتا ہے کہ جس سے محبت ہو اس کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے ان کے طریقے کو اپنایا جاتا ہے اسی طرح نبی کریم ﷺ انبیائے کرام علیہم السلام کے طریقوں، سنتوں اور دعاؤں کو اپناتے اور اپنی امت کو بھی تلقین بھی فرماتے اور پیارے آقا ﷺ ان سنتوں اور دعاؤں سے محبت کا اظہار بھی فرماتے چنانچہ نبی کریم ﷺ کا انبیائے کرام کی سنتوں کو اپناتے ہوئے ان سے محبت کے اظہار پر مشتمل احادیث ملاحظہ فرمائیں:

حضور ﷺ کی حضرت ابرہیم علیہ السلام سے محبت: حضرت کعب بن عجرہ فرماتے ہیں ہم نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی یارسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو سکھا دیا ہے لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ ارشاد فرمایا: یوں کہو! ترجمہ اے اللہ! محمد اور آل محمد پر رحمتیں بھیج جیسے تو نے ابراہیم اور ال ابراہیم پر رحمتیں بھیجیں بیشک تو تعریف کے لائق بزرگی والا ہے اے اللہ! محمد اور آل محمد پر ایسی برکتیں بھیج جیسی برکتیں ابراہیم اور ال ابراہیم پر اتاریں بیشک تو تعریف کے لائق بزرگی والا ہے۔ (بخاری، 2/429، حدیث: 3370)

سبحان اللہ!نیز نبی کریم ﷺ حضرت ابرہیم علیہ السلام کے طریقوں کو اپناتے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے: حضرت عبداللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں حضور اقدس ﷺ اپنی مونچھیں تراشتے تھے اور ان سے پہلے تمہارے والد حضرت ابراہیم بھی اپنی مونچھیں تراشا کرتے تھے۔ (ترمذی، 4/349، حدیث: 2769)

حضور کا انبیائے کرام کی صفات پر مشتمل احادیث: پیارے آقا ﷺ نے حضرت ابرہیم اسحاق اور یعقوب یوسف علیہم السلام کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا: بیشک کریم، کریم کے بیٹے، کریم کے فرزند اور کریم کے صاحبزادے یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں۔ ( ترمذی، 5/81، حدیث: 3127)

حضرت ایوب سے محبت فرماتے ہوئے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا کہ حضرت ایوب قیامت کے دن صبر کرنے والوں کے سردار ہوں گے۔ (تاریخ ابن عساکر، 66/10)

حضور ﷺ کا انبیا سے نسبت رکھنے والی چیزوں سے محبت: چنانچہ ایک مرتبہ کسی نے عرض کی یارسول اللہ آپ کدو شریف بہت پسند فرماتے ہیں رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں یہ میرے بھائی یونس کا درخت ہے۔ (بیضاوی، 5/67)

حضور ﷺ کا حضرت موسیٰ کی محبت میں روزہ: حضرت عبداللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں جب حضور پر نور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ کیا ہے؟یہودیوں نے عرض کی یہ نیک دن ہے وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دی تو حضرت موسیٰ نے اس دن کا روزہ رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمہاری نسبت موسیٰ سے میرا تعلق زیادہ ہے چنانچہ آپ نے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ (بخاری، 1/656، حدیث: 2004)

نبی کریم ﷺ انبیائے کرام کے لیے کثرت سے رحمت کی دعا فرماتے چنانچہ حضرت قتادہ سے روایت ہے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت زکریا پر رحم فرمائے انہیں مال کی وراثت سے کوئی غرض نہ تھا۔ (تاریخ ابن عساکر، 73/642)

ان روایات سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ انبیائے کرام سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔

اللہ کریم ہمیں انبیائے کرام کی محبت عنایت فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ آمین