حضور
کی انبیائے کرام سے محبت از بنت نوید حسین، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
حضور ﷺ کی انبیائے
کرام علیہم السلام سے محبت کے بارے میں معلومات درج ذیل ہیں:
نبی اکرم ﷺ کی
تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت اور انکے احترام کے بارے میں متعدد احادیث
مبارکہ اور آیات مبارکہ اور واقعات موجود ہیں جو انکی عالمگیر رحمت اور بھائی چارے
کے پیغام کو واضح کرتے ہیں۔
حضرت
موسی علیہ السلام سے محبت: ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ آقا
کریم ﷺ نے فرمایا: اگر موسی زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ (شعب
الایمان،1/199، حدیث: 176)
اس سے حضرت
موسی علیہ السلام کے مرتبے اور آپ ﷺ کے ان کے حق میں جذبات کا پتا چلتا ہے ایک اور
موقعہ پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک موسی پر رحم کرے انہیں ہم سے زیادہ تکلیف دی گئی
مگر انہوں نے صبر کیا۔ (بخاری، 4/186، حدیث: 6291)
میں
یونس بن متی سے بہتر نہ ہوں: ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے
عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا: کسی شخص کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں یونس بن
متی علیہ السلام سے بہتر ہوں یہ حدیث تمام
انبیائے کرام علیہم السلام کی عظمت اور مقام کا اعتراف ہے اور نبی کریم ﷺ کی انکے
لئے محبت اور احترام کو ظاہر کرتی ہے۔
تمام
انبیائے کرام علیہم السلام پر ایمان لانا: قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتا
ہے: قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا
بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى
وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-لَا نُفَرِّقُ
بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘-وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۶)۪- (پ 1، البقرۃ: 136) ترجمہ کنز الایمان: یوں کہو کہ
ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم و
اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسٰی و عیسیٰ اور
جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں کسی پر ایمان میں فرق
نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں۔
اس آیت مبارکہ
سے معلوم ہوا کے تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر اور تمام کتابوں پر ایمان لانا
ضروری ہے جو کسی ایک نبی کا بھی انکار کرے وہ کافر ہے۔
انبیائے
کرام علیہم السلام کے متعلق احادیث مبارکہ: آقا علیہ
الصلوۃ والسلام ان کے ساتھ ہوں گے جن سے آپ محبت فرماتے ہیں: یہ حدیث عام محبت کے
بارے میں ہے لیکن اس کا اطلاق انبیائے کرام علیہم السلام سے محبت پر بھی ہوتا ہے
ایک صحابی نے آقا کریم ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا کہ وہ کب آئے گی؟ تو آقا کریم
ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کیلئے تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے اس کیلئے زیادہ
نماز،روزے،زکوۃ تو تیار نہیں کئے لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں
تو آقا کریم ﷺ نے فرمایا: تم اس کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا
بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ-مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍؕ-
(پ
3، البقرۃ: 253)ترجمہ: یہ رسول ہم نے سن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت عطا فرمائی
ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور جسے سب پر درجوں بلند کیا۔
اس آیت مبارکہ
میں انبیائے کرام علیہم السلام کی عظمت شان کو بیان کیا گیا ہے اور یاد رہے کہ نبی
ہونے میں تمام انبیائے کرام علیہم السلام برابر ہیں لیکن ان کے درجات میں فرق ہے
نبوت میں کوئی فرق نہیں بلکہ خصائص و کمالات میں فرق ہے ان کے درجات مختلف ہیں بعض
بعض سے ادنی ہیں کہ یہ ادب کے مطابق نہیں اس طرح نہیں کہہ سکتے بلکہ بعض بعض سے
اعلی ہیں اور سب سے اعلی ہمارے آقا کریم ﷺ ہیں اس پر تمام امت کا اجماع ہے۔
معراج
کی رات انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات: معراج کی رات
آقا کریم ﷺ نے پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے اور دوسرے آسمان پر حضرت
یحییٰ اور عیسی علیہما السلام سے اور تیسرے پر حضرت یوسف علیہ السلام سے چوتھے پر
حضرت ادریس علیہ السلام اور پانچویں پر حضرت ہارون علیہ السلام اور چھٹے پر حضرت
موسی علیہ السلام سے اور ساتویں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات فرمائی۔
(سیرت مصطفی، ص 733)
Dawateislami