فراز
عزیز پنہور (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان)
دینِ
اسلام میں عقائد کی مثال ایک ایسی جڑ کی ہے جس پر پورے ایمان کا درخت کھڑا ہوتا
ہے۔ اگر جڑ کمزور
ہو تو
تھوڑی سی آندھی بھی درخت کو گرا دیتی ہے، بالکل اسی طرح اگر عقیدہ پختہ نہ ہو تو
انسان فتنوں اور گمراہیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ مطالعہ عقائد کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ
کی ذات اور اس کی صفات کو پہچاننا ہے تاکہ ہماری بندگی میں خلوص پیدا ہو۔ یہ علم
ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات کا نظام خود بخود نہیں چل رہا، بلکہ اس کے پیچھے ایک
قادرِ مطلق ہستی موجود ہے۔ جب ایک انسان اپنے بنیادی نظریات کو سمجھ لیتا ہے، تو
اسے زندگی گزارنے کا ایک واضح راستہ مل جاتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں قدم قدم پر
نئے نظریات ذہنوں کو الجھاتے ہیں، وہاں عقائد کا علم ہمیں سیدھی راہ پر ثابت قدم
رکھتا ہے۔ لہٰذاہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان کو محض سنی سنائی
باتوں تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے علم اور سمجھ بوجھ کے نور سے روشن کرے۔
(1) اللہ سے سچی پہچان اور تعلق:عقائد کو
پڑھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے پیدا کرنے والے کی پہچان حاصل ہوتی
ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ ایک ہے، وہی سب کا حاجت روا ہے اور وہی پالنے والا ہے۔
جب یہ بات ذہن میں بیٹھ جاتی ہے، تو انسان در در پر جھکنے کے بجائے صرف ایک اللہ
کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ علم ہمیں شرک جیسی گندگی سے بچاتا ہے اور دل میں اللہ کی
سچی محبت پیدا کرتا ہے۔
(2) زندگی کا مقصد سمجھنا:اکثر لوگ
زندگی کو صرف کھانے پینے اور دنیا کمانے کا نام سمجھتے ہیں، لیکن عقائد کا مطالعہ
ہمیں بتاتا ہے کہ ہم یہاں ایک خاص مقصد کے تحت بھیجے گئے ہیں۔ یہ علم ہمیں سمجھاتا
ہے کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور اصل زندگی موت کے بعد شروع ہوگی۔ جب مقصد
سامنے ہو، تو انسان اپنی صلاحیتیں فضول کاموں میں ضائع نہیں کرتا۔
(3) غلط باتوں اور افواہوں سے بچاؤ:آج کل
سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے بہت سی ایسی باتیں پھیلائی جاتی ہیں جو اسلام کی اصل
روح کے خلاف ہوتی ہیں۔ جس شخص نے عقائد کا مطالعہ کیا ہو، وہ کسی کی باتوں میں آکر
اپنے ایمان کا سودا نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ کون سی بات دین کا حصہ ہے اور کون سی
بات محض وہم یا من گھڑت کہانی ہے۔
(4) دل کا سکون اور اطمینان:دنیا کے
دکھ سکھ اور پریشانیاں انسان کو توڑ دیتی ہیں، لیکن جس کا عقیدہ "تقدیر"
پر پختہ ہو، وہ کبھی ہمت نہیں ہارتا۔ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ کی
حکمت سے ہو رہا ہے۔ یہ یقین اسے ذہنی تناؤ اور بے چینی سے بچاتا ہے اور اسے ہر حال
میں صبر اور شکر کی توفیق دیتا ہے۔
(5) اچھے اخلاق کی بنیاد:جس کا عقیدہ
درست ہو، اس کا عمل بھی درست ہوتا ہے۔ جب کسی کو یہ یقین ہو کہ اللہ ہر وقت اسے دیکھ
رہا ہے اور قیامت کے دن اسے اپنے ایک ایک عمل کا جواب دینا ہے، تو وہ جھوٹ، دھوکہ
دہی، ظلم اور چوری سے دور رہتا ہے۔ گویا عقائد کا مطالعہ ایک انسان کو بہترین
اخلاق والا شہری بناتا ہے۔
(6) مرنے کے بعد کی کامیابی:ہم سب
جانتے ہیں کہ ایک دن ہمیں یہ دنیا چھوڑ کر جانا ہے۔ عقائد کا علم ہمیں بتاتا ہے کہ
قبر میں کیا سوال ہوں گے اور حشر کے میدان میں کامیابی کیسے ملے گی۔ یہ مطالعہ ہمیں
توبہ کی ترغیب دیتا ہے اور آخرت کی دائمی زندگی کے لیے تیاری کرنے کا جذبہ پیدا
کرتا ہے۔
(7) عبادتوں میں لذت کا حصول:جب ہمیں
معلوم ہوتا ہے کہ ہم جس کی نماز پڑھ رہے ہیں یا جس کے لیے روزہ رکھ رہے ہیں، وہ
کتنا رحیم اور کریم ہے، تو عبادت بوجھ نہیں لگتی۔ عقائد کا فہم ہماری نمازوں میں
توجہ اور خشوع پیدا کرتا ہے اور ہم اللہ کے سامنے ایک نئی تڑپ کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔
عقائد کا
مطالعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ دل کے
اس پختہ یقین کا نام ہے جو انسان کے عمل سے ظاہر ہو۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ
اپنی اصلاح کی بنیاد ہمیشہ صحیح علم پر رکھنی چاہیے تاکہ ہم دنیا کے فتنوں سے
محفوظ رہ سکیں۔ یہ علم ہمیں خود اعتمادی بخشتا ہے اور ہمیں ایک با مقصد اور باوقار
زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ آخر کار، یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اپنے رب کی
خوشنودی اور جنت کے حصول تک پہنچاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں کم از کم
اتنا وقت ضرور نکالیں جس میں ہم اپنے بنیادی اسلامی نظریات کو سیکھ اور سمجھ سکیں۔
Dawateislami