محمد
اسماعیل(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
عقیدہ کا
لغوی معنی "گرہ باندھنا" یا "مضبوطی سے جوڑنا" ہے جو
"عقد" سے مشتق ہے۔ اس سے مراد دل کا ایسا پختہ یقین اور ایمان ہے جس میں
شک کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ مطالعہ عقائد ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے اور اسی پر
اس کے اعمال کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ کیونکہ جس کے عقائد درست ہونگے تو اعمال بھی
درست ہونگے اور اگر عقائد غلط سمت میں چلے گئے تو اعمال کی عمارت بھی کمزور ہو جائیگی۔
اللہ پاک نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ
جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ(۱۰۷) خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا
حِوَلًا(۱۰۸) ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک جو لوگ ایمان لائے اور
اچھے اعمال کئے ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغات ہیں ۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے،
ان سے کوئی دوسری جگہ بدلنا نہ چاہیں گے۔ (سورة الكہف، آیت 107،108)
پہلے ایمان
کا ذکر فرمایا پھر اعمال کا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیدہ ہر عمل سے پہلے ہے کیونکہ
اعمال جتنے ہی زیادہ ہوں اگر عقیدے میں خرابی ہوگی تو نجات کی راہ ممکن نہیں۔اس
دورِ پر فتن میں عقائد کے مطالعے کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ کچھ لوگوں نے
ائمہ و علماء کے دامن کو چھوڑ کر خود سے عقائد کی تشریح کرنا شروع کر دی اور امتِ
مسلمہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور بیشمار لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ کسی نے کافروں کے
بارے میں نازل ہوئی آیات کو مسلمانوں پر چسپاں کر دیا تو کسی نے بتوں کے بارے میں
نازل ہوئی آیات کو اولیاء کے ساتھ جوڑ دیا کسی نے انبیاء کرام کی گستاخیاں کیں تو
کسی نے مسلمانوں پر مشرک ہونے کا فتویٰ لگا دیا۔ العیاذ باللہ تعالیٰ۔
مطالعہ
عقائد اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس میں قاری سب سے پہلے اللہ پاک کی ذات و صفات کے
بارے میں جانتا ہے، پھر رسولوں کے بارے میں اور کتابوں کے بارے میں اور فرشتوں کے
بارے میں پھر موت، تقدیر اور آخرت کے بارے میں جانتا ہے جس سے اس کا ایمان اور
مضبوط ہو جاتا ہے اور شکوک و شبہات سے دور ہو جاتا ہے۔مطالعہ عقائد انسان کو اس
قابل بناتا ہے کہ وہ باطل مذاہب اور عقائد کے پیروکار اور ملحدین کے باطل افکار و
نظریات سے خود کو اور دوسرے مسلمانوں کو بچا سکتا ہے اور ان کا رد کر سکتا ہے۔
اسی طرح
مبلغین کے لیے بھی عقائد کا مطالعہ ضروری ہے کیونکہ دورانِ تبلیغ اسے ہر طرح کے
لوگوں کا سامنا ہوتا ہے جو طرح طرح کے سوالات کرتے ہیں۔ اگر مبلغ انہیں اپنے
جوابات سے اطمینان بخش جوابات دینے میں کامیاب ہو جائے تو سائل متاثر ہو جائیگا
اور اس کے برعکس اس کا مطالعہ نہ ہو اور جوابات نہ دے سکے تو سائل متنفر و بدظن ہو
جائیگا اور قوی امکان ہے کہ گمراہ ہو جائے اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی کر دے۔عقائد
کے مطالعے سے عبادت میں بھی خشوع و خضوع حاصل ہوتا ہے کیونکہ جب انسان کا دل و
دماغ شکوک و شبہات سے پاک ہوگا اور اس کو اپنے رب کی صحیح پہچان حاصل ہو گی تو اس
کی عبادات میں بھی اخلاص پیدا ہوگا۔
Dawateislami