اسلام میں عقیدہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ انسان کے تمام اعمال کا دار و مدار اس کے عقیدے پر ہوتا ہے۔ اگر عقیدہ درست ہو تو اعمال بھی صحیح سمت میں ہوتے ہیں، اور اگر عقیدہ خراب ہو جائے تو نیک اعمال بھی بے اثر ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اسلام میں علمِ عقائد سیکھنا نہایت ضروری قرار دیا گیا ہے۔مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنے دین کے بنیادی عقائد کو صحیح طور پر سمجھے اور ان پر ایمان رکھے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، انبیائے کرام علیہم السلام، فرشتوں، آسمانی کتابوں، قیامت، جنت و دوزخ اور تقدیر جیسے عقائد کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ ان عقائد سے ناواقفیت انسان کو گمراہی کی طرف لے جا سکتی ہے، اور بعض اوقات یہ لاعلمی انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے۔

درست عقیدہ انسان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ نیک اعمال اسی وقت بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوتے ہیں جب ان کے ساتھ صحیح عقیدہ موجود ہو۔ اگر کسی کا عقیدہ خراب ہو تو اس کے بڑے سے بڑے اعمال بھی ضائع ہو سکتے ہیں، جیسا کہ قرآنِ کریم میں بیان ہوا ہے کہ: اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ(۹۰)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے پھر کفر میں اور بڑھ گئے تو ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔ (پارہ 3 سورة آل عمران آیت نمبر 90)

مزید فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرگئے ان میں سے کوئی اگرچہ اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں پوری زمین کے برابرسونا بھی دے تو ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا ۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مدد گار نہیں ہوگا۔ (پارہ 3 سورة آل عمران آیت نمبر 91)

اسی طرح ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عقیدہ صرف علم تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق انسان کے عمل سے بھی ہے۔ جب انسان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے تو وہ برے کاموں سے بچتا ہے، اللہ سے ڈرتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، غلط عقیدہ انسان کو گمراہی، بدعملی اور بے راہ روی کی طرف لے جاتا ہے۔اہلِ سنت و جماعت کے علماء کرام نے ہمیشہ علمِ عقائد کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

اسی طرح دیگر علماء نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ علمِ عقائد کے بغیر دین کی صحیح سمجھ ممکن نہیں۔مزید یہ کہ آج کے دور میں مختلف گمراہ کن نظریات اور فتنوں کی وجہ سے عقائد کی حفاظت پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ مستند علماء سے اپنے عقائد کی درست تعلیم حاصل کریں تاکہ وہ ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ رہ سکیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطالعۂ عقائد نہ صرف ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ہے بلکہ دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی بھی ہے۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد کو درست کرے، انہیں سیکھے اور اپنی زندگی میں ان پر عمل کرے، کیونکہ یہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔