عقیدہ دراصل دینِ اسلام میں جڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی مثال اس درخت کی سی ہے جو اگر اپنی جڑوں سے مضبوطی سے نہ جڑا ہو تو اس کا وجود بے معنی ہے۔ عقیدہ وہ بنیاد ہے جس کی وجہ سے اعمال قبولِ بارگاہ ہوں گے۔ اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا:

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ(۱۰۷) خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا(۱۰۸) ترجمۂ کنز العرفان:بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغات ہیں۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، ان سے کوئی دوسری جگہ بدلنا نہ چاہیں گے"۔ (کہف: 107)

اللہ پاک نے نیک اعمال سے پہلے ایمان لانے کی شرط رکھی ہے یعنی عقیدہ ہی ہے گویا تمام خوشخبریاں تمام جزائیں ان کے لیے ہیں جو believe رکھتے ہوں تمام چیزوں پر۔

تو پتا یہ چلا کہ اصل ایمان عقائد کا نام ہے، ماننے کا نام ہے۔ اور اسی طرح عقائدِ اہل سنت کو جان کر ان پر یقینِ کامل کے ساتھ بندگی کی جائے تو ہی کامل بندگی ہے۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

انہیں جانا، انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

یعنی اصل موضوع یہ ہے کہ اگر عقیدہ نہ ہو تو اعمال جیسے بھی ہوں دھول کی طرح کر دیے جائیں گے، ان کا میزان میں کوئی وزن ہی نہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کو بشر ماننے والوں کے اعمال بیکار ہیں، رائیگاں ہیں۔ اولیاء اللہ پر انگلیاں اٹھانے والوں کے اعمال بیکار ہیں۔ گویا ہر وہ صاحبِ فہم و ذکا، ہر وہ عابد و سالک، ہر وہ خطیب و امام، ہر وہ حاجی و ذاکر جس کا دل محبتِ رسول ﷺ سے خالی ہے، اس کے نیک اعمال کا کوئی فائدہ نہیں۔

امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

آج لے ان کی پناہ، آج مدد مانگ ان سے پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا