قرآن کریم میں "فساد فی الارض" (زمین میں بگاڑ پیدا کرنا) کو انسانیت کے خلاف بدترین عمل قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو عدل، توازن اور امن قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور جو لوگ خلاف ورزی کرتے ہیں، قرآن ان کی سخت مذمت کرتا ہے۔

ذیل میں قرآن مجید کی روشنی میں فساد فی الارض کی مذمت کے چند اہم پہلو بیان کیے گئے ہیں:

(1) فساد کی تعریف اور ممانعت:اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زمین پر اصلاح کے بعد بگاڑ پیدا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے۔(الاعراف:56)

(2)مفسدین کا جھوٹا دعویٰ (اصلاح کا لبادہ):قرآن کریم منافقین اور مفسدین کی ایک بڑی نشانی یہ بتاتا ہے کہ وہ فساد پھیلاتے ہوئے خود کو "مصلح" (اصلاح کرنے والا) ظاہر کرتے ہیں۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ ( البقرۃ: 11،12)

(3)فساد فی الارض کی مختلف صورتیں:قرآن نے کئی اعمال کو فساد سے تعبیر کیا ہے:

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ٘-ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلالیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔ (سورۃ المائدۃ: 32)

قرآن کریم کی رو سے "فساد" صرف لڑائی جھگڑے کا نام نہیں، بلکہ ہر وہ عمل جو عدل و انصاف، امن، اخلاقیات اور انسانی حقوق کے خلاف ہو، وہ فساد ہے۔ ایک مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ زمین پر "مصلح" بن کر رہے اور ہر قسم کے بگاڑ کو روکنے کی کوشش کرے۔ اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔