فساد فی الارض ایک ایسا موضوع ہے جو بہت زیادہ وسعت رکھتا ہے۔ جو چیز زمین کے نظام کو حد اعتدال سے خارج کر دے یعنی معتدل نہ رہنے دے وہ فساد فی الارض کا سبب ہے اور نظام کا اس سبب سے خراب ہونا فساد فی الارض کہلاتا ہے۔ اور یہ بات واضح ہے کہ اللہ تبارک و تعالی کی وحدانیت، اس کی عبادت، اس کی اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی فرمانبرداری، اور ان کے احکامات کی بجا آوری ہی میں اپنا اور دوسروں کا فائدہ ہے۔ جب کہ اس کے برعکس وحدانیت کا انکار اور اللہ اور رسول کے احکامات سے روگردانی زمین میں فساد کا منبع ہے۔ فساد فی الارض کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں جیسے مثال کے طور پر کفر ، گناہ ، عقیدے اور اعمال میں بگاڑ ، لڑائی جھگڑے ، اسراف ، جادو وغیرہ۔ قرآن کریم میں اس تعبیر کا استعمال جا بجا متعدد اسالیب کے ساتھ ہوا ہے۔ اور ہر مقام پر مفسرین نے سیاق و سباق کے لحاظ سے اس کے الگ الگ معنی بیان کیے ہیں۔ چلیے اب فساد فی الارض کی کچھ مثالیں ہم قرآن پاک سے ملاحظہ کرتے ہیں۔

(1) مسلمانوں کا آپس میں تعاون نہ کرنا فساد ہے:

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ(۷۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافر آ پس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اگرتم ایسانہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔ (سورۃ انفال، آیت نمبر 73)

اس آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ کافر نصرت اور وراثت میں ایک دوسرے کے وارث ہیں لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی وراثت نہیں۔ اگر مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے تَعاوُن نہ کریں اور ایک دوسرے کے مددگار ہو کر ایک قوت نہ بن جائیں تو کفار مضبوط اور مسلمان کمزور ہوجائیں گے ،اس صورت میں زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا۔

) 2)منافقت کرنا فساد ہے:وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 11،12)

(3)جادو کرنا فساد ہے:وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ(۷۹) فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ(۸۰) فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِۙ-السِّحْرُؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ(۸۱) وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠(۸۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور فرعو ن نے کہا: ہر علم والے جادوگر کو میرے پاس لے آؤ۔پھر جب جادوگر آگئے توان سے موسیٰ نے کہا: ڈال دو جو تم ڈالنے والے ہو ۔پھر جب انہوں نے ڈال دیا توموسیٰ نے کہا: جو تم لائے ہو یہ جادو ہے۔ بیشک اب اللہ اسے باطل کردے گا، اللہ فساد والوں کے کام کو نہیں سنوارتا۔اور اللہ اپنے کلمات کے ذریعے حق کو حق کر دکھاتا ہے اگرچہ مجرموں کو ناگوار ہو۔ (سورۃ یونس، آیت79تا82)

(4)عقیدے کی خرابی فساد ہے:عقیدے کی خرابی فساد کی سب سے بدترین قسم ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم ان کے فساد کے بدلے میں عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں گے۔ (سورۃ نحل،آیت نمبر 88)

من جملہ یہ کہ اسلام نے نہ صرف فسادات کی تعیین کی بلکہ ان کے سد باب کے لیے حدود و قیود بھی نافذ کر دیں۔ اور ان حدود و قیود کو عبور کرنے والوں کے لیے سزائیں مقرر کیں تاکہ زمین میں فساد سے بچا جا سکے۔ جیسے چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، قتل کی سزا قصاص، زنا کی سزا کوڑے اور رجم مقرر کی۔ اور یہ بھی اسلام کے کامل و اکمل دین ہونے کی دلیل ہے۔