اسلام میں
فساد فی الارض کا مفہوم اخلاقی بگاڑ تک محدودنہیں بلکہ یہ سماجی، اقتصادی، سیاسی
اور ماحولیاتی سطح پر برائی اور ظلم کے تمام ابواب کو شامل ہے۔ قرآن مجید میں فساد
کو سختی سے منع کیا گیا ہے اور اس کے ارتکاب کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں
سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔
قرآن میں
فساد فی الارض کی مذمت کئی مقامات پر آئی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ
لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا
جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی
ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ:11،12)
یہاں قرآن
نے واضح کیا کہ بعض لوگ اپنی نیت کو درست ظاہر کرتے ہیں، مگر عمل میں فساد کرتے ہیں۔
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ
مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ
اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طمع کرتے بیشک اللہ کی رحمت نیکوں
سے قریب ہے۔(الاعراف:56)
فساد کا
ارتکاب اللہ کی ناراضی کا سبب ہے، چاہے وہ معاشرتی یا ذاتی سطح پر ہو۔
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ
بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ
یَرْجِعُوْنَ (۴۱) ترجمۂ کنزالایمان: چمکی خرابی خشکی اور تری میں
ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انہیں ان کے بعض کوتکوں کا مزہ
چکھائے کہیں وہ باز آئیں ۔(سورۃ الروم :41)
فساد
انسانی کردار اور معاشرتی برائیوں کا نتیجہ ہے اور اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ کے
طور پر ظاہر ہوتا ہے۔
فساد کی اقسام اور مثالیں:معاشرتی
فساد: جھوٹ، دھوکہ، زیادتی، ظلم،معاشی فساد: رشوت، جعلسازی، احتکار، سیاسی فساد: ناانصافی،
حکومتی ظلم، بدانتظامی،ماحولیاتی
فساد: درخت کا بے جا کاٹنا، آلودگی،قرآن اور حدیث میں ان سب کی مذمت کی گئی ہے اور
اصلاح کی ہدایت دی گئی ہے۔اسلام میں زمین میں فساد کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے
نہ صرف ایک اخلاقی جرم بلکہ سماجی برائی اور انسانی فلاح کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔
قرآن و حدیث اور علماء کی آراء کے مطابق:فساد کو
چھوٹا نہیں لینا چاہیے، چاہے وہ ذاتی یا اجتماعی ہو۔اصلاح کرنا ہر مسلمان کی ذمہ
داری ہے۔اللہ کی زمین میں فساد کرنے والوں کے لیے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔
Dawateislami