اللہ عزوجل نے انسانوں کو زمین میں عدل و انصاف پھیلانے اور فساد نہ کرنے کا حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلانے کو قرآن کریم میں ایک سنگین جرم قرار دیتے ہوئے بار بار اس کی وعیدیں بیان کی ہیں۔ فساد فی الارض سے مراد صرف لڑائی جھگڑا کرنا یا قتل کرنا نہیں بلکہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو معاشرے میں بگاڑ پیدا کرے چاہے وہ بگاڑ ظلم و زیادتی کے ذریعے ہو یا دھوکہ، خیانت، جھوٹ اور رشوت کے ذریعے ہو۔ فساد فی الارض اس قدر مذموم ہے کہ جب اللہ عزوجل نے زمین میں انسان کو اپنا خلیفہ بنانے کی بات فرشتوں کو بتائی تو فرشتوں نے سب سے پہلے انسانوں کے زمین میں فساد پھیلانے کا خدشہ ظاہر کیا چنانچہ ارشاد فرمایا:

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ ترجمہ کنزالایمان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے ۔(سورۃ البقرۃ آیت نمبر 30)

اس کے علاوہ زمین میں فساد پھیلانے کی مذمت کے بارے میں اور کئی آیات آئی ہیں ان میں سے چند ملاحظہ کیجئے:

(1) فساد نہ پھیلانے کا حکم: اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔ ( سورۃ البقرۃ، آیت 11)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ :منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔

(2) اللہ عزوجل کی ناراضگی کا سبب: اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃ البقرۃ آیت نمبر 205 )

یہاں آیت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ آیت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے، گفتگو بڑی نرم ہے لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

(3)اصلاح کے بعد فساد کی ممانعت: اللہ تعالیٰ نےارشاد فرمایا:

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا .... الآیۃ

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد۔(سورۃ الاعراف آیت نمبر 56)

یعنی اے لوگو! انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تشریف لانے، حق کی دعوت فرمانے، احکام بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک ، گناہ اور ظلم و ستم کرکے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

(4)فساد پھیلانے کی سزا: زمین میں فساد پھیلانے کی سزا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِؕ-ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۳۳) ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں یا سولی دئیے جائیں یا اُن کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردئیے جائیں یہ دنیا میں اُن کی رُسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب۔(سورۃ المائدۃ آیت نمبر 33 )

ہمیں چاہیے کہ ہم ہر اس کام سے بچیں جس سے ہمیں منع کیا گیا اور اللہ سے دعا کرتے رہیں کہ اللہ عزوجل ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم۔