قرآن کریم
نے "فساد فی الارض" کو انسانیت کے خلاف سب سے بڑے جرائم میں شمار کیا
ہے۔ یہ صرف قتل و غارت نہیں بلکہ ہر وہ عمل ہے جو اللہ کے قائم کردہ توازن کو بگاڑ
دے۔قرآن میں فساد کی مذمت کے چند واضح مقامات:
اصلاح کے بعد بگاڑ سے منع :وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ
اِصْلَاحِهَا
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد
فساد برپا نہ کرو۔ (الاعراف 56)
اللہ نے انبیاء اور شریعت کے ذریعے زمین کی
اصلاح کی۔ اب اس نظام کو توڑنا دوہرا جرم ہے۔
اللہ کی ناپسندیدگی :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمہ کنز الایمان : بے شک الله فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا ۔(القصص 77)
یہ جملہ قرآن میں بار بار آیا ہے۔
فساد کی سزا :اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ
یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا
ترجمہ کنز الایمان: وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور مُلک میں فساد
کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کیے جائیں۔ (المائدۃ:
33)
یہ آیت ڈاکہ، دہشت گردی، اور ریاستی نظام تباہ
کرنے والوں کے لیے نازل ہوئی۔
فرعون بطور مثال :اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا
یَّسْتَضْعِفُ طَآىٕفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ
نِسَآءَهُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ(۴)
ترجمہ کنز الایمان : بےشک فرعون نے زمین میں غلبہ پایا تھا اور اس(زمین) کے
لوگوں کو اپنا تابع بنا لیا ان میں ایک گروہ کو کمزور دیکھتا اُن کے بیٹوں کو ذبح
کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتابےشک وہ فسادی تھا ۔ (القصص: 4)
آپ نے
بالکل درست کہا: فساد روکنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے:
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ
اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ
وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (اٰل عمران:110)
اصلاح کا
آغاز "اپنے" سے ہوتا ہے۔ جب ہر شخص اپنے دائرے میں عدل، امانت اور توازن
قائم کر لے تو پوری زمین امن کا گہوارہ بن جاتی ہے۔ کیونکہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ
بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ یعنی خشکی اور تری میں فساد لوگوں
کے اپنے اعمال سے پھیلا ہے۔
Dawateislami