قرآنِ مجید انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے اور ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو امن، عدل اور بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔ انہی تعلیمات میں ایک اہم پہلو"فساد فی الارض" کی سخت مذمت ہے، کیونکہ فساد معاشرتی تباہی، ناانصافی اور بدامنی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا

ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد ۔(سورۃ الاعراف: 56)

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایک متوازن نظام کے ساتھ پیدا کیا ہے اور انسان کو اس کا محافظ بنایا ہے۔

قرآنِ کریم میں فساد پھیلانے والوں کی شدید مذمت بیان کی گئی چنانچہ:

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

ترجمۂ کنزالعرفان: سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرہ: 12)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنے اعمال کو درست سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سراسر بگاڑ ہوتے ہیں۔

مزید ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز العرفان: بے شک الله فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ القصص: 77)

قرآن میں فساد کی ایک سنگین شکل "قتل ناحق" کو قرار دیا گیا ہے:

مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاؕ-

ترجمہ کنز العرفان: جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا ۔(سورۃ المائدۃ: 32)

اسی طرح معاشی بدعنوانی، ناپ تول میں کمی اور لوگوں کے حقوق غصب کرنا بھی فساد کی صورتیں ہیں۔ لہذا حضرت شعیب علیہ السلام کا واقعہ اس کی واضح مثال ہےجوسورۃ ہود کی آیت نمبر 84،85 میں موجود ہے۔قرآنِ مجید نہ صرف فساد کی مذمت کرتا ہے بلکہ اصلاح کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ معاشرے میں امن، انصاف اور بھلائی کو فروغ دے اور ہر اس عمل سے بچے جو بگاڑ اور فتنہ کا سبب بنے۔"فساد فی الارض" قرآن کی نظر میں ایک سنگین جرم ہے جس سے ہر حال میں بچنا ضروری ہے۔ کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اللہ کے احکامات پر عمل کرے اور ایک پرامن و صالح معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے۔