زمین پر
فساد مچانا یعنی ایسے کام یا بات کرنا جو لوگوں کے عقائد معاملات اور دین کی خرابی
کا سبب بنے ایسے لوگ خود تو گمراہ ہوتے ہی ہیں ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ۔زمین
میں فساد مچانا پچھلی امتوں کا طرز عمل تھا جن کے سبب الله تعالیٰ کا ان پر غضب
ہوا اور وہ ہلاکت میں پڑے جیساکہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے بارے میں الله
کریم قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاۙ-فَقَالَ
یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی
الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۳۶) فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ
فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘(۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:مدین کی طرف اُن کے ہم قوم
شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اور پچھلے دن کی امید
رکھو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔تو انھوں نے اُسے جھٹلایا تو اُنھیں زلزلے
نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔(العنکبوت:36،37)
تفسیر صراط الجنان:وَ اِلٰى
مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا: مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو
بھیجا۔ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو یاد کریں جنہیں ہم نے ان کے ہم قوم مَدیَن والوں
کی طرف رسول بناکر بھیجا تو انہوں نے دین کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اے میری
قوم! صرف الله تعالیٰ کی بندگی کرو اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہوئے ایسے افعال بجا
لاؤ جو آخرت میں ثواب ملنے اور عذاب سے نجات حاصل ہونے کا باعث ہوں اور تم
ناپ تول میں کمی کر کے مدین کی سر زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو،تو
ان لوگوں نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے
فساد سے باز نہ آئے تو انہیں زلزلے کی صورت میں الله تعالیٰ کے عذاب
نے آلیا یہاں تک کہ ان کے گھر ان کے اوپر گر گئے اور صبح تک ان کا حال یہ ہو
گیا کہ وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل مردے بے جان پڑے رہ
گئے۔( روح البیان،العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۶۳۷، ۶ / ۴۶۸، جلالین، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۶۳۷، ص۳۳۸،
ملتقطاً)
فساد کو
اصلاح کا نام دینا منافقین کا طرز عمل ہے جیساکہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز
الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(البقرۃ:11،12)
تفسیر صراط الجنان:لَا
تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ اس آیت
اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں
کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین
میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو
صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی
وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں
وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔
ہمارے زمانےکے فساد مچانے والے لوگ: منافقوں
کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں
اور اسے اصلاح کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے
نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی
کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب
و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا
انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہ سب فساد کی صورتیں ہیں۔الله
کریم سے دعا ہے کہ ہمیں ایسے لوگوں سے اور ایسی چیزوں سے محفوظ فرمائے جو فساد کا
سبب بنے آمین۔
Dawateislami