دنیا میں امن، سکون اور بھلائی کا قیام اللہ تعالیٰ کی رضا کا باعث ہے جبکہ ظلم، فساد اور بگاڑ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں بار بار (زمین میں فساد پھیلانے) کی سخت مذمت بیان فرمائی گئی ہے تاکہ انسان اس سنگین گناہ سے بچ سکے۔

فساد فی الارض کیا ہے:فساد سے مراد ہر وہ عمل ہے جو معاشرے کے امن کو تباہ کرے، جیسے ظلم، ناانصافی، قتل و غارت، جھوٹ، دھوکہ، بددیانتی اور دین سے دوری۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:ترجمہ کنز الایمان: اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد۔ (پارہ 8، سورۃ الاعراف: 56)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (پارہ 1، سورۃ البقرۃ: 11،12)

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ فسادیوں کو نہیں چاہتا۔ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ: 64)

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ فساد کرنا نہ صرف ایک برا عمل ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بھی ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ نے بھی فساد اور ظلم سے سختی کے ساتھ منع فرمایا:

ظلم اور فساد سے بچنے کی تاکید:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہوگا۔(صحیح بخاری، کتاب المظالم، حدیث: 2447)(صحیح مسلم، کتاب البر، حدیث: 2578)

مسلمان کو نقصان پہنچانا فساد ہے:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث: 10)(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث: 40)

فساد کے نقصانات:فساد فی الارض کے کئی نقصانات ہیں:معاشرے میں بدامنی اور خوف پیدا ہوتا ہے،لوگوں کے حقوق پامال ہوتے ہیں،اللہ تعالیٰ کی ناراضی نازل ہوتی ہے،آخرت میں سخت عذاب کا خطرہ ہوتا ہے۔

اصلاحِ معاشرہ کا اسلامی طریقہ:اسلام ہمیں فساد سے بچنے اور اصلاح کرنے کی تعلیم دیتا ہے:عدل و انصاف قائم کریں،سچائی اور امانت داری اختیار کریں لوگوں کے حقوق ادا کریں نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں فساد سے بچنے اور امن و بھلائی پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کردار کو ایسا بنائیں کہ معاشرہ ہمارے ذریعے سنورے نہ کہ بگڑے۔اللہ ہمیں قرآن و سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔