محمد
عفان عطاری (درجہ ثانیہ جامعۃالمدینہ فیضان عثمان غنی، کراچی، پاکستان)
قرآنِ مجید
انسانیت کے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں نیکی، عدل اور اصلاح کا حکم دیا گیا
ہے، وہیں فساد فی الارض کی سخت مذمت بھی کی گئی ہے۔"فساد فی الارض" سے
مراد زمین میں بگاڑ پیدا کرنا، ظلم، ناانصافی، بدامنی، قتل و غارت، اور معاشرتی
نظام کو خراب کرنا ہے۔ قرآنِ کریم بار بار انسان کو اس بات سے خبردار کرتا ہے کہ
وہ زمین میں فساد نہ پھیلائے، کیونکہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ترجمہ کنز
الایمان: اور زمین
میں فساد نہ پھیلاؤ اس کے سنورنے کے بعد اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے
شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے ۔(سورۃ الاعراف، 56)
اس آیت میں واضح طور پر منع کیا گیا ہے کہ جب اللہ نے زمین کو ایک متوازن
نظام کے تحت بنایا ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ اس نظام کو خراب نہ کرے۔ مگر افسوس
کہ انسان اپنی خواہشات، لالچ اور خود غرضی کی وجہ سے فساد کا سبب بنتا ہے۔
قرآن میں
فساد کرنے والوں کی ایک اور پہچان بیان کی گئی ہے: ترجمہ
کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو
کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔(سورۃ البقرۃ، 11،12)
یہ آیت منافقین کے کردار کو ظاہر کرتی ہے جو اپنے برے اعمال کو اچھا ظاہر
کرتے ہیں۔ آج کے دور میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ظلم، دھوکہ دہی اور ناانصافی
کو ترقی یا اصلاح کا نام دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ معاشرے کو تباہ کر رہے
ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فساد کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ترجمہ کنزالایمان
: جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین
میں فساد کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلالیا اس
نے گویا سب لوگوں کو جلالیا ۔(سورۃ المائدۃ،32)
یہ آیت انسانی جان کی حرمت کو بیان کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ فساد فی
الارض کتنا بڑا جرم ہے۔ ناحق قتل، دہشت گردی، اور ظلم سب اسی فساد کی شکلیں ہیں جن
سے اسلام سختی سے منع کرتا ہے۔
اسی طرح قرآن میں آیا ہے: ترجمۂ
کنزالایمان: اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں
تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃ البقرۃ، 205)
یہاں فساد کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے، جیسے ماحول کو نقصان
پہنچانا، معیشت کو تباہ کرنا، اور نسلوں کو خراب کرنا۔ آج کے دور میں ماحولیاتی
آلودگی، کرپشن، اور اخلاقی بگاڑ بھی اسی فساد کی جدید شکلیں ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فساد کرنے والوں کے انجام سے بھی آگاہ کیا ہے۔
ترجمہ کنزالایمان: اور زمین میں فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں کو
دوست نہیں رکھتا۔ (سورۃ القصص 77)
یہ ایک واضح تنبیہ ہے کہ فساد کرنے والے اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
دنیا میں بھی وہ بدنامی اور بے سکونی کا شکار ہوتے ہیں اور آخرت میں سخت عذاب کے
مستحق بنتے ہیں۔
اسلام ہمیں امن، عدل اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ ایک مسلمان کی ذمہ داری
ہے کہ وہ نہ صرف خود فساد سے بچے بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم
اپنے معاشرے میں سچائی، انصاف، اور محبت کو فروغ دیں تاکہ زمین پر امن قائم ہو
سکے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ فساد فی الارض صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری
انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم قرآن کی تعلیمات کو اپنائیں اور اپنے اعمال کو درست
کریں تو ہم ایک پرامن اور خوشحال معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فساد
سے بچنے اور اصلاح کا ذریعہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami