ایک باغ میں دو چڑیاں رہتی تھیں۔ صبح شام ساتھ ساتھ دانہ چگتیں اور گھونسلے کے لیے تنکے جمع کرتی تھیں۔ ان کی دوستی باغ کی رونق اور حسن تھی۔ سب پرندے ان دونوں کی محبت کو دیکھ کر خوش ہوتے۔ لیکن باغ کے کونے میں ایک کانٹے دار جھاڑی بھی تھی جو ہمیشہ تنہا رہتی اور دوسروں کی خوشی کو دیکھ کر جلتی۔ ایک دن اس نے حسد کی آگ میں فیصلہ کیا کہ ان دونوں کے درمیان جھگڑا کروائے گی۔ اس نے ایک چڑیا سے کہا کہ دوسری تمہارے بارے میں کہتی ہے کہ تم کمزور ہو اور محنت نہیں کرتی۔ پھر دوسری سے بھی یہی کہا۔ دونوں چڑیاں ایک دوسرے سے ناراض ہوگئیں اور آپس میں جھگڑنے لگیں۔ وہ دوستی جو مثال تھی، دشمنی میں بدل گئی اور باغ کی رونق بھی ختم ہوگئی۔

یہ قصہ فرضی ہے لیکن حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بعض لوگ اسی کانٹے دار جھاڑی کی طرح ہوتے ہیں جو خود بھی تنہا اور ناخوش ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی طرح دیکھنا پسند کرتے ہیں اور دوسروں کو لڑوانے کا کام کرتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جھگڑا کروانے والے کے محرکات کیا ہیں۔ کبھی حسد کی بنا پر، کبھی انتقام لینے کے لیے، کبھی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے اور کبھی صرف توجہ حاصل کرنے کے شوق میں وہ دوسروں کے درمیان بدگمانی ڈال دیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ سب لاعلمی یا غلط فہمی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے لیکن نتیجہ ہمیشہ منفی نکلتا ہے: ٹوٹے ہوئے رشتے، پامال شدہ عزت اور ایک ایسا ماحول جہاں اعتماد باقی نہ رہے۔

اہم بات یہ ہے کہ جھگڑا کروانا صرف ظاہری بحث تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ دلوں میں نفرت، بدگمانی اور انتقامی ذہنیت کو جنم دیتا ہے۔ ایک معمولی تنازع نسل در نسل تلخیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ محبت اور یقین کی جگہ شک اور بداعتمادی لے لیتے ہیں۔ انسان دوسروں کے بارے میں منفی سوچنے لگتا ہے اور سب سے زیادہ نقصان دراصل اسی کو ہوتا ہے جو دوسروں کو لڑواتا ہے، کیونکہ یہ برائی آخرکار اس پر بھی لوٹ کر آتی ہے۔

اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مسلمان صلح کروانے والا ہوتا ہے، نہ کہ لڑائی کروانے والا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس برائی سے بچیں۔ دوسروں کی باتوں میں آکر اپنے قریبی رشتے نہ توڑیں۔ ہمیشہ حسن ظن رکھیں، صبر اور برداشت سے کام لیں، اور اگر کہیں تنازع ہو تو اسے سلجھانے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں جھگڑا کروانا ایک خاموش زہر ہے جو رشتوں اور معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے، جبکہ صلح اور محبت امن و سکون کو جنم دیتے ہیں۔