معاشرہ میں جب
لوگ ساتھ رہتے ہیں تو بعض مرتبہ لڑائی جھگڑے بھی ہوجاتے ہیں اور لڑائی جھگڑوں کے
اسباب میں عموماً تین چیزیں، زن، زر اور زمین ہوتی ہیں۔ انہیں اسباب کی ایک شاخ
سیاسی دشمنی بھی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو مسلمانوں کے آپسی جھگڑے
کسی قیمت پر پسند نہیں، بلکہ حکم یہ ہے کہ حتی الامکان آپس کی رنجشوں اور جھگڑوں کو،
باہمی نفرتوں اور عداوتوں کو کسی بھی طرح ختم کیا جائے۔ اگر بالفرض کبھی جھگڑا
ہوجائے تو دوسرے فریق کو معاف کرکے جھگڑا ختم کردینا چاہئے، کیونکہ آپس میں صلح
کرنے اور جھگڑا ختم کرنے کی قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بہت ترغیب دی گئی
ہے۔ ذیل میں لڑائی جھگڑے کی مذمت سے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں:
حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے
مبغوض اور ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو سخت جھگڑا لو ہو۔ (بخاری، 2/193، حدیث:2457)
حضرت ابن عباس
رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بھائی سے جھگڑا
مت کر، اور اس کے ساتھ نامناسب مذاق مت کر، اور اس کے ساتھ ایسا وعدہ نہ کر کہ (جس
کو تو پورا نہ کرسکے اور) وعدہ خلافی کرے۔ (ترمذی،3/400، حدیث:2002)
عبداللہ بن
عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ ( مکمل )
منافق ہو گا۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت
ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: وہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو
وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے اور جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے۔ (بخاری،
1/25، حدیث:34)
عبداللہ بن
مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جھگڑا
کرنا کفر ہے۔ (مسلم، ص 54، حدیث: 221)
جو شخص حق پر
ہونے کے باوجود یہ خیال کرتا ہے کہ اگر میں حق کا زیادہ مطالبہ کروں گا تو جھگڑا
کھڑا ہوجائے گا، اس لئے اس حق کو چھوڑتا ہوں تاکہ جھگڑا ختم ہوجائے تو اس کے لئے
حضور اکرم ﷺ نے جنت کے بیچوں بیچ گھر دلوانے کی ذمہ داری لی ہے۔ اس سے اندازہ
لگائیے کہ سرکار دو عالم ﷺ کو جھگڑا ختم کرانے کی کتنی فکر تھی۔ ہاں اگر کہیں
معاملہ بہت آگے بڑھ جائے اور قابل برداشت نہ ہوتو ایسی صورت میں اس کی اجازت ہے
کہ مظلوم ظالم کا مقابلہ کرے اور اس سے بدلہ لے لے، لیکن حتی الامکان کوشش یہ ہو
کہ جھگڑا ختم ہوجائے۔
معلوم ہوا کہ
مسلمانوں کا آپس میں لڑائی جھگڑا ناپسندیدہ ہے، اور اختلاف کے وقت صلح کرانا
محمود اور مطلوب ہے، بلکہ درج ذیل حدیث شریف کی رو سے نماز، روزہ اور صدقہ سے بھی
افضل ہے۔
ان احادیث کی
روشنی میں ہم یہی کہنا چاہیں گے کہ جھگڑوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہے، آج آپ کو موقع
ملا تو آپ نے اپنے مخالف کو نقصان پہنچا لیا، کل اسے موقع ملے گا تو وہ آپ کو
نقصان پہنچائے گا، اور یہ سلسلہ زمانہ جاہلیت کے جھگڑوں کی طرح چلتا رہے گا، نبی
کریم ﷺ کی بعثت ہوئی تو آپ نے زمانہ جاہلیت کے جھگڑوں کو ختم فرما دیا اور ایک
دوسرے کے جانی دشمن شیر وشکر ہوگئے، ایک دوسرے کی جان لینے والے ایک دوسرے پر جان
نچھاور کرنے والے بن گئے۔ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے سامنے آپ کے جانی دشمن
اور آپ کو ہر طرح سے تکلیف پہنچانے والے جب بے بس کھڑے تھے اور دس ہزار تلواریں آپ
کے ایک اشارہ کی منتظر تھیں کہ ان کی گردنیں ان کے سروں سے اتار دی جائیں تو ایسے
وقت جبکہ آپ ﷺ کفار مکہ پر پوری طرح قابو پاچکے تھے تب آپ نے انہیں بغیر کسی شرط
کے معاف کرکے معافی اور درگذر کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر تاریخ انسانی میں
ملنا مشکل ہے۔
کیا یہ سارے
واقعات صرف پڑھنے اور سننے کے لیے ہیں؟ کیا ہم ان پر عمل کرکے اپنی دنیا اور آخرت
سنوار نہیں سکتے؟ کیا ہم دوسروں کو معاف کرکے امن اور سکون والی زندگی نہیں گزار
سکتے؟ کیا ہم دو لڑنے والوں کے درمیان صلح کروا کر اجر عظیم کے مستحق بننے کی کوشش
نہیں کرسکتے؟ کیا ہم میں سے کوئی نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول، جنتی جوانوں کے سردار
سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی دو گروہوں میں صلح کروانے والی اس اہم سنت اور
خوبی کو زندہ کرنے والا نہیں ہے؟ کیا ہم سب صرف تماشہ دیکھنے اور مزہ لینے والے
ہیں؟ یا پھر ذاتی مفاد کے لیے دو لڑنے والوں کو آپس میں مزید لڑانے والے بن رہے
ہیں؟ جبکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اِنَّمَا
الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی
ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔ یعنی حقیقت تو یہ ہے کہ تمام
مسلمان بھائی بھائی ہیں، اس لئے اپنے دو بھائیوں کے درمیان (اگر کوئی رنجش یا
لڑائی ہوگئی ہو تو تمہیں چاہئے کہ ان کے درمیان صلح کراؤ اور) تعلقات اچھے بناؤ،
اور (صلح کرانے میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا
جائے۔ (آسان ترجمہ قرآن، 3/1583)
بچپن میں جب
بچوں کی آپس میں لڑائی ہوا کرتی ہے تو فوراً ہی صلح بھی ہوجایا کرتی ہے، اور
عموماً کوئی تیسرا صلح کروایا کرتا تھا اور صلح کروانے والا یہ جملہ کہتا تھا کہ
لڑائی لڑائی معاف کرو، مسجد میں جاکر نماز پڑھو۔ آج ہم بھی ہر طرح کے جھگڑے کرنے
والوں سے خواہ وہ ذاتی ہوں یا سیاسی، ان سے یہی کہیں گے کہ اللہ کے لیے لڑائی
لڑائی معاف کرو، مسجد میں جاکر نماز پڑھو۔
Dawateislami