ہمارے معاشرے
میں ایک بہت عام برائی یہ ہے کہ لوگ دوسروں کے درمیان جھگڑا کرواتے ہیں۔ کسی کی
بات آگے بڑھا کر فساد کر دینا، کسی کی غیبت و چغلی لگا کر تعلقات خراب کر دینا، یہ
سب شیطان کے پسندیدہ کام ہیں۔ لوگوں میں فساد کروانے کے لئے ان کی باتیں ایک دوسرے
تک پہنچانا چغلی بھی کہلاتا ہے۔
جھگڑا
کروانے کی چند مثالیں: کسی سے جا کر اس طرح کہنا: فلاں آدمی نے تمہارے
بارے میں ایسے ایسے کہا ہے اس نے کہا کہ تم بڑے دھو کے باز ہو۔
اللہ تعالیٰ ارشاد
فرماتا ہے: وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ
الْفَسَادَ(۲۰۵) (پ
2، البقرۃ: 205) ترجمہ: اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یعنی فساد
پھیلانا اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدگی کا سبب ہے۔
فرمان مصطفے ﷺ
: طعنہ زنی، غیبت، چغل خوری اور بے گناہ لوگوں کے عیب تلاش کرنے والوں کو اللہ پاک
(قیامت کے دن ) کتوں کی شکل میں اٹھائے گا۔ (الجامع فی الحديث، 1/534، حدیث: 428)
جھگڑا
کروانے والے کے بارے میں دنیاوی و اخروی نقصان:
دنیا میں ایسے
سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔ عزت و اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔ آخرت میں سخت عذاب کا سامنا
کرنا پڑے گا۔
جھگڑا
کروانے کے گناہ میں مبتلا ہونے کے بعض اسباب:
جھگڑا کروانے
کے چند اسباب درج ذیل ہیں: غصہ، بغض و کینہ، حسد، لگائی بجھائی (یعنی ادھر کی بات
ادھر اور ادھر کی ادھر کہتے پھرنے) کی لت (ایسا شخص کبھی دو فریقوں میں لڑائی
جھگڑا کروا کر اپنے طور پر تفریح کر رہا ہوتا ہے )، زیادہ بولنے کی عادت( ایسے شخص
کا غیبت وچغلی و لڑائی جھگڑا کروانے اور دوسرے کئی طرح کے گناہوں سے بچنا بہت
دشوار ہوتا ہے )، لا علمی، چغل خوری کی عادت ( ایسا شخص ایک دوسرے کی باتیں پہنچا
کر جھگڑا کرواتا ہے)۔
جھگڑا
کروانے سے بچنے کے لیے کرنے والے کام:
1۔لڑائی جھگڑا
کروانا اور اس کے علاوہ بہت سارے گناہ زیادہ تر زبان سے ہی ہوتے ہیں لہذا فضول
گوئی سے بچا جائے 2۔ سنتوں کے پابند سنجیدہ شخص کی صحبت اختیار کی جائے 3۔علم دین
حاصل کیا جائے 4۔نمازوں کی پابندی کی جائے 5۔جھگڑے مٹا کر مسلمانوں کے ساتھ مل جل
کر محبت کے ساتھ رہا جائے اس کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ فرمان مصطفیٰ ﷺ: جو حق
پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا ختم کرے میں اسے جنت کے کنارے ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں۔ (ابو
داود،4/332، حدیث: 4800)
ظاہری گناہوں
سے بچنے کے لیے کتاب کا مطالعہ کرتے رہیئے اور مدنی چینل دیکھتے رہیے۔
اللہ سے دعا
ہے کہ اللہ ہمیں ان ظاہری گناہوں سے محفوظ رکھے۔
Dawateislami