حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت عبدالوحید خان،لطیف آباد نمبر 8 حیدرآباد سندھ
یوں تو نبی کریم ﷺ کو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین سے ہی محبت تھی جس کا ذکر ہمیں کثیر احادیث کریمہ میں ملتا ہے حضور ﷺ
کے تمام صحابہ گویا ان میں سے جن کی اقتداء کی جائے ستاروں کی طرح اور شمع رسالت
کے پروانے ہیں اور تمام صحابہ میں سے اسلام کے چوتھے خلیفہ حیدر کرار ابو الحسن
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم بھی ہے جن سے حضور سرکارِ دوعالم ﷺ بے حد محبت
فرماتے تھے آپ رضی اللہ عنہ حضور کے چچا زاد بھائی ہیں آپ داماد رسول اللہ ﷺ ہے
حضور ﷺ نے آپ سے اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی شہزادی خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہرا
رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا۔ اور یہی نہیں حضور ﷺ کی نسل کی اصل کہ حضور کی
اولاد آپ ہی سے چلی، حسنین کریمین کے والد، ولادت کے مرکز شریعت کے دریا ناپیدا
کنار، آپ پنجتن پاک میں بھی داخل ہے اور یہی نہیں آپ چار یاروں میں بھی ہے،آپ کے
گھر میں حضور کی پرورش ہوئی اور حضور اقدس ﷺ نے آپ کو پرورش کیا، غسل ولادت سرکار ﷺ
نے جنابِ علی کو دیا اور غسل وفات حضرت علی نے حضور ﷺ کو دیا، حضور کی امت میں
قاسمِ ولایت آپ ہی ہے ہر ولی کو آپ سے فیضِ ولایت ملتا ہے غرض یہ کہ آپ کے فضائل
ریت کے ذروں آسمان کے تاروں کی طرح بے شمار ہیں، آپ کے فضائل اور حضور کو آپ سے
کتنی محبت تھی اس کا اندازہ احادیث کریمہ کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں: چنانچہ
1۔ اے علی تم مجھ سے ہو: حضور
نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی، تم مجھ سے ہو اور میں تم
سے ہو۔ (بخاری، 2/212، حدیث:2699) حضرت علی کا بیان ہے کہ یہ فرمان عالیشان سن کر
میں خوشی سے اچھل پڑا۔ (مسند امام احمد، 2/213، حدیث :857) اس کی شرح میں ہے یعنی
تم علم، قرابت داری اور نسب کے اعتبار سے مجھ سے متصل (ملے ہوئے ہو) اور میں بھی
نسب اور علم کے اعتبار سے تم سے متصل ہو۔ (عمدۃ القاری،11/441)
2۔ نبی کریم ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بے حد
محبت تھی لہذا فرمایا: اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے
ہو جیسے حضرت موسیٰ کے لیے ہارون تھے لیکن میرے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہوگا۔ (بخاری،
3/144، حدیث: 4416) یہ فرمان عالی شان سن کر حضرت علی عرض گزار ہوئے میں راضی ہوں
میں راضی ہوں۔ (ارشاد الساری، 8/232، تحت الحدیث:3706)
سبحان اللہ کیا شان و مرتبہ ہے مولی کائنات حضرت
علی رضی اللہ عنہ کا کہ حضور فرمارہیں ہے کہ تم مجھ سے راضی ہو تم میرے لیے مثال
ہارون علیہ السلام ہو۔ سبحان اللہ بس یہی نہیں ایک اور جگہ ارشاد فرمایا۔ اے علی
تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741) سبحان اللہ قربان
جائیے شان علی رضی اللہ عنہ پر کہ حضور ﷺ کو آپ رضی اللہ عنہ سے کس قدر محبت ہے کہ
سرکار ﷺ نے حضرت علی کو 2 مرتبہ اپنا بھائی بنانے کا اعزاز بخشا۔ (التوضیح شرح
الجامع الصحیح، 3/538)
3۔ جس کا میں مددگار و کارساز ہوں تو علی بھی اس کے
مددگار و کارساز ہیں۔ (ترمذی، 5/ 398، حدیث: 3733) مزید فرمایا کہ علی المرتضی کے
چہرے کی زیارت کرنا عبادت ہے۔ (معجم کبیر، 10/76، حدیث: 10006)
نبی کریم ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کس قدر محبت
فرماتے تھے اس کا اندازہ اس فرمان عالی سے لگائے لہذا
4۔ ارشاد فرمایا: اے علی میں تمہارے لئے وہی پسند
کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں اور تمہارے لئے وہی ناپسند کرتا ہوں جو اپنے
لئے ناپسند کرتا ہوں۔ (ترمذی،1/309، حدیث: 282) یہاں خصوصی پسندیدگی مراد ہے اور
اس حدیث میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی انتہائی عظمت کا اظہار ہے ورنہ نبی
ساری امت کے ماں باپ سے زیادہ خیرخواہ ہیں۔ (مراۃ المناجیح، 2/87)
5۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ اقدس میں عرض
کی یارسول اللہ ﷺ آپ کو میں زیادہ محبوب ہوں یا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سرکار ﷺ
نے ارشاد فرمایا: فاطمہ مجھے تم سے زیادہ محبوب ہے لیکن تم میرے نزدیک اُس سے
زیادہ معزز ہو۔ (سنن کبری للنسائی،5/150، حدیث: 8531)
6۔ اللہ پاک نے مجھے 4 افراد سے محبت کرنے کا حکم
دیا ہے اور مجھے یہ خبر دی ہے کہ وہ بھی ان سے محبت فرماتا ہے۔ حاضرین نے عرض کی
یارسول اللہ ہمیں انکے نام بتا دیجئے حضور ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: علی ان
میں سے ایک ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ابو ذر غفاری و مقداد اور سلمان فارسی رضی اللہ
عنہم اجمعین۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)
حضرت علامہ مولانا علی بن سلیمان قاری رحمۃ اللہ
علیہ اس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے ان
حضرات کا نام اس لیئے پوچھا کہ اللہ و رسول کی محبت کی اتباع میں ہم بھی اِن چاروں
حضرات سے محبت کریں نام بتاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام
تین مرتبہ لیا اس میں یہ اشارہ ہے کہ آپ بقیہ تینوں حضرات سے افضل ہیں یا پھر حضور
کو بقیہ تینوں حضرات سے جتنی محبت ہے اتنی محبت اکیلے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح، 10/622)
اللہ پاک ہمیں بھی اپنے محبوب ﷺ کے صدقے مولائے
کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے بے لوث محبت نصیب فرمائے آمین اللہ پاک
کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین
Dawateislami