جھگڑا کروانا
کی تعریف یہ ہے کہ کسی معاملے میں جان بوجھ کر یا غیر ارادی طور پر ایسی بات یا
ایسا رویہ اختیار کرنا جس کے نتیجے میں دو یا زیادہ افراد کے درمیان اختلاف بڑھ
جائے اور وہ لڑائی جھگڑے میں مبتلا ہوجائیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ جھگڑا
کروانا یعنی لوگوں کے درمیان فساد ڈالنا، اختلاف کو ہوا دینا یا کسی وجہ سے جھگڑے
کا سبب بننا۔
حدیث مبارکہ
میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟
صحابہ کرام نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک
کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی بات کہنا یا جھوٹی گواہی دینا۔ (مسلم، ص
60، حدیث: 259)
یہاں جھوٹی
بات جھوٹی گواہی کا مطلب ہے فساد اور جھگڑے کو بڑھاوا دینا جو کبیرہ گناہوں میں سے
ہے۔
پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: چغل خور یعنی جو
لوگوں کے درمیان فساد اور جھگڑا کرواتا ہے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (مسلم، ص 65، حدیث
290)
یہ حدیث واضح
کرتی ہے کہ جھگڑا کروانا اور لوگوں کے درمیان فساد ڈالنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ یہ
جنت میں جانے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: تم میں سے میرے سب سے محبوب وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں، جو
نرمی کرنے والے ہوں، جن سے لوگ الفت رکھتے ہوں اور وہ دوسروں سے الفت رکھتے ہوں۔
اور تم میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ ہیں جو چغلی کرتے ہیں اور دوستوں کے
درمیان فساد ڈالتے ہیں۔ (المعجم الاوسط، 5/386، حدیث:
7697)
آیت مبارکہ
میں ہے: اِنَّمَا
یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ (پ 7، المائدۃ: 91) ترجمہ: شیطان یہی
چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے۔
جھگڑا کروانا
گناہ کبیرہ ہے۔ ایسا شخص اللہ کے غضب کا مستحق ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ
فساد اور جھگڑے کی بجائے صلح اور محبت پھیلائیں، کیونکہ اصل مومن وہ ہے جو بھائی
چارہ اور خیر خواہی کو عام کرے۔
Dawateislami