ارشاد باری ہے: وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵) (پ 13، الرعد:25) ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کا عہد اس کے مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لیے لعنت ہی ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔

صحابی رسول حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی خادم کو اس کے گھر والوں کے خلاف اکسایا وہ ہم میں سے نہیں اور جس شخص نے کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف اکسایا وہ ہم میں سے نہیں۔

قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مسلمانوں کے درمیان جھگڑا کروانے، لوگوں میں فساد پھیلانے کی وعیدات بیان کی گئی ہیں اور مسلمانوں میں صلح کروانے کے بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں دین اسلام چونکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا محافظ اور معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کا سب سے زیادہ حامی ہے اسی لیے اس دین نے انسانی حقوق تلف کرنے اور معاشرتی امن میں بگاڑ پیدا کرنے والے ہر فعل سے روکا ہے معاشرتی سکون کو برباد کرنے والے افعال میں سے سر فہرست لوگوں کے درمیان جھگڑا کروانا ہے۔

افسوس!! مشاہدہ ہے کہ اج کے دور میں ہر تیسرا شخص ہی اپنے ایمان کی معرفت کھوئے ہوئے احکام شریعت کو پس پشت ڈال کر مختلف طریقوں سے اس فعل کو سرانجام دینے میں مشغول ہے۔گھر ہو یا خاندان، آفس یا کلاس روم، چھوٹا بڑا، پڑھا لکھا ان پڑھ، مذہبی اور غیر مذہبی ہر طبقے میں ہی ایسے منفی سوچ کے حامل افراد پائے جاتے ہیں جو وجہ اور بلاوجہ لڑائی جھگڑے کے بیچ بونے اور لوگوں میں پھوٹ ڈلوانے کا باعث ہوتے ہیں حتی کہ بعض اوقات بغیر کسی تعلق،بنا کسی دشمنی اور اختلافات کے بھی لوگوں کے درمیان نفرتیں پھیلانے میں اپنا وقت صرف کر رہے ہوتے ہیں گویا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باہم لوگوں کو خوش دیکھنا انہیں مشکل لگتا ہے ایسے منفی لوگوں سے فاصلہ رکھیے، جھگڑا کروانے سے بھی بچیں اور جھگڑا کروانے والوں سے بھی کہ بے شک یہ آپ کی دنیا و آخرت کے لیے نقصان دہ ہیں۔

حدیث مبارکہ میں ہے: بے شک اللہ کو لوگوں میں سب سے زیادہ ناپسند وہ لوگ ہیں جو سخت جھگڑالو ہیں۔ (بخاری، 2/130، حدیث: 2457)

نہ خود کسی سے لڑائی جھگڑے کریں نہ ہی باہم مسلمانوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کروانے کا سبب بنیں کہ اس میں اللہ پاک کی ناراضی ہے اور اس کے ذریعے انسان بہت سے گناہوں میں ملوث ہو جاتا ہے۔

جھگڑا کروانے کے اسباب: کبھی جان کر کسی مقصد کے تحت، کسی کی خوشیوں اور کامیابیوں سے حسد اور جلن کے نتیجے میں لوگوں سے دور کرنے کے لیے یا نظروں میں برا بنانے کے لیے بدگمانیاں پیدا کرکے تو کبھی انجانے میں غیبت، چغلی،ادھر کی بات ادھر کرنے کی عادت سے مجبور ہونے کے باعث انسان مسلمانوں کے درمیان جھگڑا کروانے کا سبب بن جاتا ہے۔

اپنا محاسبہ کر لیجئے کہ کہیں ہم بھی تو ان میں سے کسی سبب سے مسلمانوں کے درمیان جھگڑا کروانے والوں میں سے تو نہیں۔

باہم مسلمانوں میں جھگڑا کروانا اور فساد پھیلانا گناہ کبیرہ ہے نہ صرف ایک گناہ کبیرہ بلکہ دیگر کئی کبیرہ گناہوں کو بھی فروغ دیتا ہے۔

جھوٹ، غیبت، چغلی،بغض، حسد، جلن، راز فاش کرنا، بدگمانیاں پیدا کرنا، مہلکات میں سے ہے جن میں مبتلا ہونا بیمار قلب کی علامت ہے مومن کا دل تو پاک صاف نور ایمان سے چمکتا اور خوف خدا سے دھڑکنے والا ہونا چاہیے۔

اپنے دل کو پاک صاف رکھیے۔ لوگوں میں محبتیں اور خوشیاں بانٹنے والے بنیں نہ کہ نفرتوں کو جنم دینے والے کہ کہا جاتا ہے جس کے پاس جو ہوتا ہے وہی دوسروں کو بانٹتا ہے۔ ہمیشہ دوسروں کیلئے خیر خواہی کا جذبہ رکھیں۔ لوگوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارگی کا سبب بنیں۔ جدائیاں ڈالنے والے نہیں بلکہ روٹھوں کو منانے والے، بچھروں کو ملانے والے بننے کی کوشش کیجیے۔ باہم مسلمانوں کے درمیان جھگڑا کروانے والوں کی بجائے صلح کروانے والوں میں خود کو شامل رکھیے۔

مسلمانوں کے درمیان صلح کروانے کا اجر بہت زیادہ ہے جبکہ جھگڑا کرنے اور کروانے کو قرآن و احادیث میں ایسا عمل بتایا گیا ہے جو دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی، اللہ پاک کی ناراضگی، غضب اور لعنت کا سبب بنتا ہے لہذا! اس شیطانی عمل سے بچنا ہر مسلمان کے لیے لازمی و ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اتنا فہم و فراست،شعور و ادراک حاصل کرنا چاہیے کہ کوئی شریر آدمی بدگمانیاں پیدا کر کے ہمارے درمیان لڑائی اور پھوٹ پیدا نہ کر سکے کیونکہ مومن کی شان تو یہی ہے کہ نہ دھوکہ دیتا ہے اور نہ دھوکہ کھاتا ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں باہم جھگڑا کرنے اور کروانے والوں کے شر سے بھی محفوظ رکھے۔