لڑائی جھگڑا کروانا ہر زمانے، ہر ملک، ہر علاقے،ہر گوشے میں برا
سمجھا جاتا ہے۔ لوگ ہمیشہ اس شخص سے کراہت محسوس کرتے ہیں جو دوسروں کی لڑائی کروا
کے ان میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔لڑائی کروانا نہایت ہی قبیح اور برا امر
ہے۔
ایسا شخص نہ صرف اپنی عزت کھو دیتا ہے بلکہ دوسروں کی نظروں سے بھی
گر جاتا ہے۔ خود حضور ﷺ نے لڑائی کروانے کی مذمت فرمائی۔ حضرت عبد الرحمن بن غنم
اور اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: خدائے
تعالیٰ کے بدترین بندے وہ ہیں جو دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں۔ (انوار الحدیث، ص 395) جدائی ڈالنے سے مراد دو لوگوں کے درمیان پھوٹ ڈال کر ان میں لڑائی
کروانا ہے جسے حدیث مبارکہ میں بد ترین شخص کہاگیا ہے۔
ایسے شخص کے ساتھ کوئی دوستی کرنا تو درکنار ہاتھ ملانا بھی پسند
نہیں کرتا۔ جھگڑا کروانا یہ ایسا عمل ہے جو معاشرے میں بد نظمی، انتشار، باہمی
اختلافات کا سبب بنتا ہے ؛جس کی وجہ سے دلوں میں کدورت،نفرت، رشتوں میں دراڑیں اور
تعلقات میں بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ تاہم ہر طرح سے لڑائی جھگڑے کروانا برا فعل
ہے۔ اس کی چند وجوہات ہوسکتی ہیں جو مع علاج ذکر کی جاتی ہیں:
بغض: کسی
کے درمیان بھی لڑائی جھگڑا کروانے کا ایک سبب بغض بھی ہے۔ یعنی کسی سے بے جا نفرت رکھنا،
اپنے دل میں بوجھ جاننا،اور دوسروں کے دلوں میں اس کیلئے نفرت پیدا کرنے کی کوشش
کرنا۔ بالفرض اگر کوئی شخص کسی سے بغض رکھتے ہوئے جھوٹ بول کر دو لوگوں کے درمیان
لڑائی کروا بھی دے تو اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ جب حقیقت سامنے آئے گي تو
ممکن ہے ان دونوں کی دوبارہ صلح ہوجائے مگر یہ شخص نظروں سے گر جائے اور اس سے ان
کا اعتماد اٹھ جائے گا کوئی بھی کبھی اس کی بات پر دوبارہ یقین نہیں کرے گا۔ لہذا
ایسے شخص کیلئے ضروری ہے کہ وہ بغض کی مذمت پر وارد ہونے والی آیات و احادیث
مبارکہ پر نظر رکھے۔اپنے اندر خشیت الہی پیدا کرے اور دوسروں کے درمیان لڑائی کروا
کر نفرتیں پھیلانے سے گریز کرے تاکہ معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکے۔
حسد: حسد
ایک ایسی بیماری ہے جو نہ صرف انسان کا اپنا سکون تباہ کر دیتا ہے بلکہ دوسروں کے
درمیان لڑائیاں کروانے کا ایک بڑا سبب بنتا ہے۔حاسد شخص اپنے اندر کی آگ کو بجھانے
کیلئے دوسروں کے درمیان لڑائی کروا دیتا ہے ؛ وقتی طور پر وہ خود کو مطمئن محسوس
کرتا ہے لیکن درحقیقت وہ اپنے لئے ایک دائمی آگ کی تیاری کر رہا ہے۔
ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے قلب کی اصلاح کرے اور جان لے کہ دوسروں
کے درمیان لڑائی جھگڑا کروانے سے صرف اور صرف فساد پیدا ہو گا اور اس کیلئے جہنم
کی آگ تیار ہوگی۔
غصہ: دوسروں
کے درمیان لڑائی جھگڑا کروانے کا ایک بڑا سبب غصہ ہے۔ غصہ دلوں میں نفرت پیدا کرتا
ہے اور نفرت دوسرں کے ساتھ برا کرنے پر ابھارتی ہے۔ بندہ کسی بھی سبب سے انتقام
لینے کی خواہش میں کسی کی بنی بنائی بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
یوں انسان دو لوگوں کے درمیان لڑائی کروا کے اپنا غصہ نکالنے کی کوشش
کرتا ہے۔
ایسے انسان کو چاہئے کہ وہ غصہ کرنے کے نقصانات پر نظر رکھے اور جان
لے کہ اس سے وقار اور اعتماد گرتا ہے، معاشرے میں انتشار اور جذباتی نقصان ہوتا
ہے۔ اس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں۔
الغرض لڑائی جھگڑا کروانا چھوٹی سوچ اور عارضی فائدے کا نتیجہ ہوتا
ہے۔ بعض اوقات لوگ حسد، ذاتی منافع یا گروہی فخر کے تحت لوگوں کو اکساتے ہیں، مگر
یاد رکھیے، فتح جب رشتوں کے ٹوٹنے کی صورت میں ملتی ہے تو وہ جھوٹی اور عارضی ہوتی
ہے۔ ایسا کرنا نفسیاتی زخم، سماجی انتشار اور کام یا خاندان میں خلل لا سکتا ہے۔
عقل مند وہ ہے جو تنازع میں اضافے کے بجائے امن کے راستے تلاش کرے: افواہوں کی
تصدیق کرے، دونوں جانب کی بات سنے، اور اگر معاملہ شدید ہو تو ایک منصفانہ ثالث
سامنے لائے۔ معافی اور سمجھوتہ باہمی احترام بڑھاتے ہیں؛ دشمنی دیرپا زہر بن جاتی
ہے۔ آخر میں اپنی نیت کو چیک کریں، کیا آپ کا مقصد لوگوں کی بھلائی ہے یا ذاتی
فائدہ؟ نیک نیتی اور عدل ہی معاشرے کو طاقتور بناتے ہیں۔
اللہ پاک ہمیں لڑائی جھگڑے کی آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب
العالمین
Dawateislami