علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم رسول کریم ﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی بھی ہیں اور آپ کے اہل بیت اظہار کے ایک مقدس فرد بھی آپ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو دنیا و آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا آپکو یہ سعادت ملی کہ خدائی منصوبے کے تحت آپکی تربیت کاشانہ نبوت میں ہوئی یہ اسی تربیت کا فیضان تھا کہ آپ کی ذات گرامی فیضان نبوت کا مظہر اتم بن گئی آپکو یہ سعادت ملی کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد آپ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا حضرت علی کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں اپنی دامادی کا شرف بخشا اپنی سب سے لاڈلی بیٹی سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا ان کے نکاح میں دی۔

رسولِ کریم ﷺ نے حضرت علی کے متعلق فرمایا: علی سے محبت ایمان کی علامت ہے اور آپ سے بغض منافقت کی نشانی ہے۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240) اس حدیث پاک سے حضور کی حضرت علی سے محبت کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ پاک نے چار افراد سے محبت کرنے کا حکم فرمایا ہے اور اللہ پاک نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ وہ بھی ان چاروں سے محبت کرتا ہے عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ وہ چار افراد کون کون سے ہیں؟فرمایا: ان میں سے ایک علی بن ابی طالب ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)

حضور ﷺ کی حضرت علی سے محبت کا عالم دیکھئے کی آپ فرماتے ہیں کہ جنت آپ پر عاشق ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت تین بندوں پر عاشق ہے: حضرت علی،حضرت عمار اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ۔

حضرت علی کو اذیت دینا رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینا ہے: رسول اللہ ﷺ کو حضرت علی سے اتنی محبت تھی کہ آپ نے بارہا فرمایا کہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں یہ انتہائی قرب اور محبت کو بیان کرنے کا ایک اسلوب ہے حضرت عمران بن حصین فرمائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا اور اس شکر کا سپہ سالار حضرت علی کو متعین فرمایا تو دوران سفر کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جو صحابہ کرام میں سے چار لوگوں کو نامناسب لگا انہوں نے آپس میں طے کیا کہ وہ واپس جاکر اسکا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کریں گے حضرت عمران فرماتے ہیں جب ہم اس سفر سے واپس آئے تو ہم سب سے پہلے بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے ہم میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ حضرت علی نے اس اس طرح کیا تو آپ نے یہ سن کر روئے زیبا دوسری طرف پھیر لیا پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اس نے بھی یہی کہا آپ نے اس سے بھی اعراض کیا پھر تیسرا کھڑا ہوا اور اس نے بھی یہی کہا آپ نے اسکی بات سے بھی اعراض کیا جب چوتھا کھڑا ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ بے شک علی نے اس اس طرح کیا تو اس کی بات سن کر آپکا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا: علی کو کچھ نہ کہا کرو! علی کو کچھ نہ کہا کرو! بے شک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد بھی ہر مومن کا محبوب ہے بعض روایات کے مطابق آپ نے آخری جملے تین بار دہرائے اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو حضرت علی سے اتنی محبت تھی کہ آپ نے واضح فرمایا کہ علی کو اذیت دینا مجھے اذیت دینا ہے علی کو اذیت دینا رسول اللہ کو اذیت دینے کے قائم مقام ہے۔ (مسند امام احمد ، 33/154، حدیث: 19928)

حضرت علی ہر مومن کے مولی ہیں: احادیث مبارکہ میں حضرت علی کی یہ فضیلت اور یہ منقبت بھی بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ حضرت علی ہر مومن کے مولی ہیں جو بھی رسول اللہ ﷺ کو مولی مانتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ حضرت علی کو بھی اپنا مولی مانے حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم غدیر خم پر اترے اور اعلان کیا الصلوۃ جامعۃ رسول اللہ ﷺ کے لیے دو درختوں کے سائے میں جگہ صاف کردی گئی آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ میں مومنوں کی جانوں سے بڑھ کر انہیں محبوب ہوں سب نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ایسا ہی ہے آپ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مومن کو اسکی جان سے بڑھ کر محبوب ہوں سب نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ایسا ہی ہے آپ نے فرمایا جس کا میں مولی اس کا علی مولا ہے اے اللہ! اس سے محبت فرما جو علی سے محبت رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو علی سے دشمنی رکھے۔ (سیدنا علی بن ابی طالب، ص 353)

رسول اللہ ﷺ نے اتنے پہلوؤں سے حضرت علی کی قرب و منزلت اور آپ کے فضائل و مناقب کو بیان فرمایا ہے کہ جن کا شمار ممکن نہیں جنکا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ نے حضرت علی سے فرمایا کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416) یہ حدیث مبارکہ حضرت علی کی عظمت و شان پر اور رسول اللہ ﷺ کے اظہار محبت پر واضح دلیل ہے۔

اللہ پاک اور رسول کی بے پناہ محبتوں کا شرف: حضرت علی کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کے ساتھ اللہ پاک اور اپنی محبت کا ذکر منفرد طور پر فرمایا حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں رسول اللہ کو سب سے بڑھ کر محبوب کون تھا انہوں نے فرمایا حضرت فاطمۃ الزہرا تھیں ان سے عرض کی مردوں میں سے کون تھا تو انہوں نے فرمایا ان کے شوہر جہاں تک میں جانتی ہوں۔ (مستدرک، 3/171، حدیث: 4744)

ایک اور موقع پر حضرت عائشہ نے فرمایا میں نے حضرت علی سے بڑھ کر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کو محبوب نہیں دیکھا اور نہ ہی انکی زوجہ سے بڑھ کر کسی عورت کو رسول اللہ کے نزدیک محبوب دیکھا۔

ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بھنا ہوا پرندہ لایا گیا تو آپ نے دعا کی اے اللہ! میرے پاس اس شخص کو بھیج جو تیری پوری مخلوق میں تجھے سب سے بڑھ کر محبوب ہو اور وہ میرے ساتھ یہ پرندہ کھائے تو حضرت علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ وہ پرندہ کھایا۔(ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

رسولِ خدا ﷺ کی حضرت علی سے محبت کے بے شمار واقعات ہیں جن سے سرکار دوعالم کی محبت چھلکتی ہے آپ کے فضائل و مناقب کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سرکار ﷺ نے آپ کے لئے خصوصی طور پر دعائیں فرمائیں حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اکرم نے میرے لئے یہ دعا بھی فرمائی: اے اللہ! انہیں گرمی اور سردی سے محفوظ فرما آپ فرماتے ہیں کہ اسکے بعد نہ کبھی مجھے گرمی کی تکلیف محسوس ہوئی نہ سردی کی۔ (سنن کبری للنسائی، 7/411، حدیث:8343)

ان تمام احادیث مبارکہ اور واقعات سے حضرت علی کے فضائل و مناقب کے ساتھ ساتھ ان کی بلند شانوں کے متعدد پہلو واضح ہوتے ہیں اور جن سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ اللہ پاک کے نزدیک اور رسول اللہ کی نگاہ نبوت میں حضرت علی کا مقام اور مرتبہ کیا ہے اللہ پاک ہمیں بھی خلیفہ چہارم حضرت علی سے محبت کرنے اور آپکافیض پانے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

دیدِ علی عبادت،ذکرِ علی عبادت کیا شان ہے علی کی،کیا مرتضیٰ علی ہے