پہلی مبارک غذا: جب آپ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو حضور اکرم ﷺ نے ان کا نام علی رکھا اور اپنا لعاب آپ رضی اللہ عنہ کے منہ میں ڈالا اور اپنی مبارک زبان انہیں چوسنے کے لیے دی۔ (سيرة حلبیہ، 1/382)

شانِ علی بزبانِ نبی: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی۔ (معجم كبير، 32/380، حديث: 901)

حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں مہاجرین اور انصار صحابہ کرام کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ آپ نے مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا؟ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی،5/401، حدیث: 3741)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ (ترمذی، 5/199، حدیث: 3736)

بابرکت نکاح: حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بچپن ہی سے حضور نبی کریم ﷺ کی تربیت ملی، فیضان نبوت کا فیض بلا واسطہ ملا پھر آپ رضی اللہ عنہ کے نصیب کی یاوری کہ آپ رضی اللہ عنہ کو دامادِ رسول بننے کی بھی سعادت ملی، جب آپ رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ طلب کیا تو رسول الله ﷺ نے قبول فرمایا اور خوشی کا اظہار فرمایا۔

محبت بھرا جواب: ایک مرتبہ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی، یا رسول الله ﷺ! آپ کو وہ (حضرت بی بی فاطمہ) مجھ سے زیادہ پیاری ہیں یا میں؟ تو نبی کریم ﷺ نے بڑا ہی پیارا جواب ارشاد فرمایا: وہ مجھے تم سے زیادہ اور تم اس سے زیادہ پیارے ہو۔ (مسند حمیدی، 1/22، حدیث: 38)

فاتح خیبر: غزوۂ خیبر میں نبی کریم ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو پرچمِ اسلام عطا فرمایا، چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے کل یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ اللہ فتح دے گا وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے نیز اللہ اور رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں وارد میں بلکہ امام احمد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: جتنی حدیث شریف آپ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں اس قدر تعداد میں حدیث پاک نہیں ہیں۔ ایک روایت ہے: علی المرتضیٰ کو دیکھنا عبادت ہے۔ (مستدرك، 4/118، حدیث: 4737)