مجلس (بیٹھک یا محفل) انسانی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ انسان اپنی بیشتر زندگی دوسروں کے ساتھ گفتگو اور تعلق میں گزارتا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے نہ صرف فرد کی زندگی بلکہ اس کی مجالس کو بھی ضابطہ عطا فرمایا۔ قرآن و حدیث نے مجالس کے حقوق و آداب بیان کر کے واضح کر دیا کہ کوئی مسلمان صرف عبادات میں نہیں بلکہ اپنی گفتگو، نشست و برخاست میں بھی اللہ کے سامنے جواب دہ ہے۔

قرآن مجید میں مجالس کے بارے میں رہنمائی:

1. بیہودہ اور گناہ کی مجلس سے اجتناب: وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ ترجمہ: "اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیتوں میں مذاق اڑا رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہو جاؤ۔"(الأنعام: 68)

3. مجالس میں وسعت دینا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُم ترجمہ: "اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کشادگی کرو تو کشادگی کر دیا کرو، اللہ تمہارے لیے کشادگی کرے گا۔"(المجادلۃ: 11)

احادیثِ مبارکہ میں مجالس کے حقوق

1. سلام کے ساتھ داخل ہونا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تو سلام کرے، اور جب اُٹھے تو پھر سلام کرے۔"(سنن ابوداؤد: 5208)

2. اچھی بات یا خاموشی: "جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔"(صحیح بخاری: 6475، صحیح مسلم: 47)

3. کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھانا: "تم میں سے کوئی کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے اور نہ خود اس کی جگہ بیٹھے۔" (صحیح بخاری: 6270، صحیح مسلم: 2177)

4. مجلس میں اللہ کا ذکر کرنا: "جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کا ذکر نہ کریں تو وہ ان کے لیے حسرت اور ندامت کا سبب بنے گا۔"(سنن ترمذی: 3380)

مجالس کے چند اہم حقوق

1. سلام کے ساتھ آغاز و اختتام کرنا۔

2. کسی کی بات کو توڑنے یا حقارت سے دیکھنے سے اجتناب۔

3. گفتگو میں جھوٹ، غیبت اور فحش گوئی سے پرہیز۔

4. کسی کو اس کی جگہ سے نہ ہٹانا اور سب کے لیے وسعت دینا۔

5. دوسروں کے راز اور باتوں کو امانت سمجھنا۔

6. اچھی بات یا خاموشی اختیار کرنا۔

7. ذکرِ الٰہی اور درود شریف سے مجالس کو منور کرنا۔

سلفِ صالحین کے اقوال

حضرت لقمان حکیم نے فرمایا:"بیٹا! نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھ، اللہ کی رحمت تمہیں ڈھانپ لے گی۔" (حلیۃ الاولیاء، ج 1، ص 327)

امام شافعی فرماتے ہیں:"اگر مجھے پتا ہو کہ کوئی مجلسِ ذکر ہے تو میں وہاں جانا اپنے لیے بہتر سمجھتا ہوں بہ نسبت دنیا بھر کی دولت کے۔"

مجالس کا انتخاب اور ان میں بیٹھنے کا انداز مسلمان کی ایمان داری اور تہذیب کی علامت ہے۔ اچھی مجالس انسان کو جنت کے قریب کر دیتی ہیں اور بری مجالس جہنم کا راستہ دکھاتی ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ مجلس کے حقوق ادا کرے، ادب و احترام کو ملحوظ رکھے اور اپنی مجالس کو ذکرِ الٰہی اور نبی کریم ﷺ کی محبت سے منور کرے۔