اسلام ایک کامل دین ہے جو زندگی کےہر شعبے کے لیے اصول و آداب سکھاتاہےانسان کی روزمرہ زندگی میں مجلسیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ میل جول تعلیم اور اصلاحِ احوال کا ذریعہ ہیں اگر مجالس میں شرعی آداب ملحوظ رکھے جائیں تو یہ باعثِ خیر و برکت بنتی ہیں ورنہ فتنے اور گناہوں کا سبب بھی ہو سکتی ہیں اسی لیے شریعت نے ہمیں مجالس کے مخصوص حقوق اور آداب سکھائے تاکہ معاشرت میں محبت عزت اور سکون قائم رہےذیل میں ہم ان بنیادی حقوق کو بیان کریں گے جو ہر مسلمان پر لازم ہیں ۔

حقوق نمبر 1:مجلس میں سلام کرنا:جب مجلس میں داخل ہو تو سلام کرنا واجب ہے کیونکہ سلام محبت اور الفت کا ذریعہ ہےحدیث شریف میں ارشاد ہے(أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ)ترجمہ:آپس میں سلام کو عام کرو۔یہ تعلیم دینِ اسلام کے ادب اور اتحاد کا مظہر ہے۔(صحیح مسلم، کتاب السلام، باب استحباب السلام عند القدوم، حدیث نمبر 54 ٫جلد 4، صفحہ 1703)

حقوق نمبر 2:کسی کو اپنی جگہ سے نہ اٹھانا:مجلس میں کسی کو ہٹا کر اپنی جگہ پر بیٹھنا منع ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

لا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ ترجمہ:کوئی کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے اور خود اس میں نہ بیٹھے یہ عدل اور احترام کا اصول ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب الاستئذان، باب لا يُقيم الرجل الرجل من مجلسہ، حدیث نمبر 6269، جلد 8، صفحہ نمبر52)

حقوق نمبر 3:دوسروں کی عزت و احترام کرنا:مجلس میں کسی کو حقیر سمجھنا یا اس کی بے ادبی کرنا ناجائز ہےامام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :مسلمان کی تحقیر ہر حال میں حرام ہے اور مجالس میں اس کا احترام فرض ہے۔یہ اصول اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔( فتاویٰ رضویہ، جلد 23، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الغیبۃ، صفحہ 356)

حقوق نمبر4:فضول باتوں سے پرہیز کرنا:مجلس میں بے فائدہ باتوں سے پرہیز کرنا چاہیےکیونکہ فضول گفتگو دل کو سخت کرتی ہے اور گناہ کا سبب بنتی ہےبہتر یہ ہے کہ نیک بات کرے یا خاموش رہے۔ (بہارِ شریعت، حصہ 16، فصل: آدابِ مجلس، صفحہ 106، مکتبۃ المدینہ)

حقوق نمبر 5:مجلس کو ذکر و دعا پر ختم کرنا:مجلس کے آخر میں دعا اور استغفار کرنا مسنون ہےامام غزالی فرماتے ہیں:(مجلس میں اگر لغزش ہو گئی ہو تو اختتام پر دعا کرنا کفارہ ہے)یہ دعا پڑھنا مستحب ہے: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ...(احیاء علوم الدین، جلد 2، کتاب آداب الصحبة، فصل فی آداب المجالس، صفحہ 157)

مجالس کے آداب اور حقوق پر عمل کرنا اسلامی معاشرت کی خوبصورتی اور محبت کا ذریعہ ہےجو مسلمان ان اصولوں کو اپناتا ہےاس کی محفل خیر و برکت سے معمور ہوتی ہےہمیں چاہیے کہ ہر مجلس کو ذکرِ الٰہی احترام اور باہمی اخلاق سے مزین کریں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔