اسلام ہی واحد مذہب ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی معاملات۔ مجلس یعنی لوگوں کے ساتھ بیٹھنے، بات چیت کرنے کی جگہ ہے ۔

مجلس کے حقوق:

1. مجلس میں موجود افراد کو خوش اخلاق سے مخاطب کرنا

2. سب کے لیے جگہ بنانا

3. بزرگوں کو مقدم رکھنا

4. دوسرے کی بات نہ کاٹنا

5. توجہ سے بات سننا

6. نرم لہجے میں بات کرنا

7. آواز بلند نہ کرنا

8. مذاق میں بھی کسی کو تکلیف نہ دینا

9. جھوٹ سے پرہیز کرنا

10. غیبت نہ کرنا

11. چغلی سے بچنا

12. فضول باتوں سے گریز کرنا

13. کسی پر طنز نہ کرنا

14. مجلس کے راز باہر نہ نکالنا

15. کسی کو نظر انداز نہ کرنا

16. مجلس میں غیر حاضر فرد پر بات نہ کرنا

17. اگر کوئی بات ناگوار لگے تو صبر سے کام لینا

18. مجلس کے ماحول کو بگاڑنے والی بات نہ کرنا

19. مجلس میں دیر سے آنے پر معذرت کرنا

20. روانگی سے پہلے اجازت لینا

21. کسی کی دل آزاری ہو جائے تو معذرت کرنا

22. دوسروں کی رائے کا احترام کرنا

اسلامی تعلیمات صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر تعلق کو پاکیزہ بنانے کا درس دیتی ہیں .اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

ہماری زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ اجتماعیت میں گزرتاہے جس میں ہم مختلف لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں ، اکٹھے وقت گزارتے ہیں اسے عربی میں مجلس اور اردو میں بیٹھک کہا جاتا ہے۔ یہ اسلامی اور اخلاقی تعلیمات پر مبنی ہیں تاکہ مجلس خیر و برکت اور سکون کا ذریعہ بنے ۔ ہماری ہرمجلس ہمارے لئے یا تو سعادت کا ذریعہ بن سکتی ہے یا پھر بدنصیبی اور محرومی بڑھاسکتی ہے۔   آئیے اب ہم مجلس کے متعلق چند حقوق ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) جگہ کشادہ کرنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنز العرفان : اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔ ( پ 28 ، المجادلہ 58 ، آیت 11 )

(2) اللہ عزوجل کا ذکر کرنا:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ، إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکرکئے بغیرمجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اوریہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“ ( فیضان ریاض الصالحین ، باب مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد: 6 ، حدیث: 835)

( 3) سلام کرنا:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ، فَلْيُسَلِّمْ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ، فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسےمروی ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے توسلام کرے پھر جب وہاں سے اٹھے تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلی مرتبہ کا سلام دوسری مرتبہ کے سلام سے زیادہ بہتر نہیں۔“ ( فیضان ریاض الصالحین ، باب رخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان ، جلد: 6 ، حدیث: 869)

( 4) علم سیکھنا اور سکھانا: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَجْلِسَيْنِ فِي مَسْجِدِهِ فَقَالَ: «كِلَاهُمَا عَلَى خَيْرٍ، وَأَحَدُهُمَا أَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِهِ. أَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَدْعُونَ اللَّهَ وَيَرْغَبُونَ إِلَيْهِ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَتَعَلَّمُونَ الْفِقْهَ والعلمَ وَيُعَلِّمُونَ الْجَاهِلَ، فَهُمْ أَفْضَلُ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا» قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فِيهِمْ.

روایت ہے عبداللہ ابن عمرو سے کہ رسولاللہ ﷺ اپنی مسجد میں دو مجلسوں پر گزرے تو فرمایا کہ یہ دونوں بھلائی پر ہیں مگر ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے لیکن یہ لوگ اللہ سے دعا کررہے ہیں اس کی طرف راغب ہیں اگر چاہے انہیں دے چاہے نہ دے لیکن وہ لوگ فقہ و علم خود سیکھ رہے ہیں ناواقفوں کو سکھا رہے ہیں وہ ہی افضل ہیں میں معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں پھر آپ انہیں میں تشریف فرماہوئے ۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، باب علم کا بیان ، جلد: 1، حدیث: 257)

(5) بے فائدہ باتیں نہ کرنا : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ كَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، إلا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ.

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو شخص کسی ایسی مجلس میں بیٹھا جس میں بے فائدہ باتیں زیادہ ہوں پھر اس شخص نے مجلس سے اٹھنے سے پہلےیہ کہا:” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَیعنی اے اللہ ! تو پاک ہے،تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“تو اس شخص سے مجلس میں سرزد ہونے والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ ( فیضان ریاض الصالحین ، باب مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد: 6 ، حدیث: 832)

ہمیں بھی چاہیے کہ مجلسِ میں کسی کی بات نہ کاٹیں ، دوسروں کے لیے جگہ چھوڑیں ، تکلیف دہ کام نہ کریں، سب ایک ساتھ مل کر بیٹھے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


انسان ایک سماجی مخلوق ہے، جو اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے دوسروں کے ساتھ مل بیٹھنے، بات چیت کرنے اور تعلقات بنانے کی فطرت عطا فرمائی۔ یہ میل جول "مجلس" کہلاتا ہے، جو کبھی گھریلو ماحول میں ہوتی ہے، کبھی دفاتر میں اور کبھی دینی محافل کی صورت میں۔ اسلام نے ہر پہلو کی طرح مجالس کے بھی آداب اور حقوق سکھائے ہیں تاکہ انسان ایک دوسرے کا احترام کرے، دلوں میں محبت بڑھے اور برکت حاصل ہو۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں مجلس کے کیا آداب اور حقوق ہیں۔

قرآن مجید کی روشنی میں مجالس کے حقوق

1. دوسروں کے لیے جگہ کشادہ کرنا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا۔ (المجادلة: 11)

تفسیر صراط الجنان: اس آیتِ مبارکہ میں مجلس میں دوسروں کو جگہ دینے کا حکم ہے۔

یہ عمل تعظیمِ مسلم اور سنتِ نبوی ہے۔مجلس کشادہ کرنے سے دنیا و آخرت سنورتی ہے۔

2. غیبت اور برائی سے اجتناب ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ۔ ترجمہ کنز العرفان: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں ناپسند ہوگا۔(الحجرات: 12)

صراط الجنان میں ہے: غیبت مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے اور یہ مجلس کی سب سے بڑی برائی ہے۔

احادیث مبارکہ کی روشنی میں

3۔ ایک اور حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إذَا انْتَهٰى اَحَدُكُمْ إلٰى المَجلِسِ، فَليُسَلِّمْ فَإذَا اَرَادَ اَنْ يَقُومَ فَليُسَلِّمْ ترجمہ: جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے۔ (سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5208)

مجلس کے کچھ آداب ملاحظہ ہوں:

اچھی اور فائدہ مند گفتگو کرنا۔

سب کو عزت دینا اور دوسروں کے لیے جگہ بنانا۔

بڑوں کی تعظیم اور چھوٹوں پر شفقت۔

نرمی اور درمیانی آواز میں بات کرنا۔

فضول گوئی اور شور شرابے سے پرہیز۔

غیر موجود افراد کی غیبت اور برائی سے بچنا۔

عملی تجاویز:

1. گھریلو مجالس: گھر میں بیٹھک یا کھانے کے وقت ہر ایک کو شامل کیا جائے، بچوں کی بات بھی سنی جائے اور کسی کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

2. دفتری مجالس: میٹنگ میں سب کو اپنی رائے کا موقع دیا جائے، ایک دوسرے کی بات نہ کاٹی جائے، اور ادب و تحمل برقرار رکھا جائے۔

3. مذہبی مجالس: مسجد یا محفل میں خاموشی اور ادب کو لازم پکڑا جائے، علما و قراء کی عزت کی جائے اور ذکرِ الٰہی میں شریک ہو کر روحانی سکون حاصل کیا جائے۔

اسلام نے مجالس کو محض میل جول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ انہیں باہمی محبت، خیر خواہی اور اصلاح کا وسیلہ قرار دیا۔ ایک اچھی مجلس وہ ہے جہاں ذکرِ الٰہی ہو، دوسروں کی عزت محفوظ ہو اور برکتیں نازل ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ہر مجلس کو ان تعلیمات کے مطابق سجائیں تاکہ ہماری زندگیوں میں خیر و سکون نازل ہو اور ہماری مجالس آخرت میں بھی کامیابی کا ذریعہ بن سکیں۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو ہر معاملے میں عدل، اخوت اور حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دیتا ہے۔ جہاں فرد کے ذاتی حقوق بیان کیے گئے ہیں، وہیں اجتماعی زندگی کے اصول اور مجالس (اجتماعات) کے آداب بھی بڑی وضاحت سے بیان فرمائے گئے ہیں۔ ایک اسلامی مجلس کا مقصد صرف وقت گزاری نہیں بلکہ خیر خواہی، تعلیم، تربیت اور دین کی خدمت ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔(سورۃ المجادلہ: 11)

رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجلس میں بیٹھنے والا شخص اپنے بھائی کو تنگ نہ کرے، بلکہ کشادگی پیدا کرے۔" (مشکوٰۃ المصابیح)

اس حدیث سے واضح ہے کہ مجلس کا حق ہے کہ وہاں بیٹھنے والے دوسروں کا خیال رکھیں، ایذا نہ دیں اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں۔

مجلس کے اہم حقوق:

1. اخلاص : مجلس اللہ کی رضا کے لیے ہو۔

2. احترام ؛ ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھا جائے۔

3. خاموشی اور توجہ: غیر ضروری گفتگو اور شور شرابے سے بچا جائے۔

4. خیر خواہی : مجلس میں صرف نفع بخش بات کی جائے۔

5. امانت داری : مجلس کی باتیں اجازت کے بغیر باہر نہ بیان کی جائیں۔

6. وقت کی پابندی : مجلس میں وقت پر آنا اور وقت ضائع نہ کرنا۔

مجلس محض بیٹھک یا گفت و شنید کا نام نہیں بلکہ یہ ایک امانت ہے جس کے آداب اور حقوق ہیں۔ اگر ہر مسلمان ان حقوق کو اپنالے تو مجالس اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔


جہاں چار لوگ مل کر بیٹھتے ہیں، اسے مجلس کہا جاتا ہے۔ مجلس عربی لفظ ہے جس کا لغوی معنی "بیٹھنے کی جگہ" ہے۔ مجلس اچھی یا بری ہو سکتی ہے۔ اچھی مجالس کی مثالیں مدنی مذاکرہ اور ہفتہ وار اجتماعات ہیں، جبکہ بری مجالس کی مثالیں گانے بجانے والی مجالس یا شراب نوشی کی مجالس ہیں۔ جس طرح ہر چیز کے حقوق ہوتے ہیں، اسی طرح مجلس کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے : کھڑے ہو جاؤ تو کھڑے ہو جایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔" (سورۃ المجادلہ، آیت 11)

اسی طرح، حدیث پاک میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے جو مجلس میں درمیان میں جا کر بیٹھ جائے۔ (سنن ابی داؤد ، باب الجلوس وسط الحلقۃ، الرقم: 4826)

1. نبی پاک پر درود پڑھنا:مجلس کا پہلا حق یہ ہے کہ اس میں نبی پاک پر درود پاک پڑھا جائے۔ حدیث پاک میں ہے:"تم اپنی مجلسوں کو مجھ پر درودِ پاک پڑھ کر آراستہ کیا کرو کیونکہ تمہارا مجھ پر درود پڑھنا قیامت کے دن تمہارے لیے نور ہوگا۔(جامع صغیر ، حرف الزای، ص ۲۸۰ ، حدیث: ۴۵۸۰)

2. مجلس کو گناہوں سے بچانا:مجلس کا دوسرا حق یہ ہے کہ اسے گناہوں سے بچایا جائے۔ یعنی مجلس میں فحش بات نہ کی جائے اور نہ ہی کسی کی غیبت اور چغلی کی جائے۔بلکہ مجلس میں زیادہ سے زیادہ اللہ پاک کا ذکر کیا جائے۔

3. آپس میں سرگوشی سے پرہیز:مجلس کا تیسرا حق یہ ہے کہ مجلس میں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی آپس میں سرگوشی (کان میں بات) نہ کرے جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو۔

4. آنے والے کی تعظیم اور جگہ دینا:مجلس کا چوتھا حق یہ ہے کہ مجلس میں آنے والے ہر شخص کو جگہ دی جائے۔ ایسا

نہ ہو کہ خود کشادہ ہو کر بیٹھ جائیں اور دوسروں کو جگہ نہ دیں۔ بلکہ اگر کوئی نیا شخص مجلس میں آئے تو اسے تعظیم دی جائے، اور اگر کوئی عظیم شخصیت مجلس میں آئے تو اس کو اس کے مرتبے کے اعتبار سے جگہ دی جائے۔

5. کسی کا مذاق نہ اڑانا:مجلس کا پانچواں حق یہ ہے کہ مجلس میں موجود کسی کمزور شخص کا مذاق نہ اڑایا جائے بلکہ ہر ایک کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں عام مجلسوں میں کسی ایک کو پکڑ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اس کی دل آزاری کی جاتی ہے، جو کہ گناہوں کا سبب ہے۔

6. مجلس کا اختتام اور دعا:مجلس کا چھٹا اور آخری حق یہ ہے کہ مجلس کے اختتام پر دعا کی جائے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے، حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ نے ارشاد فرمایا:

"جو کسی مجلس میں بیٹھا، پھر اس نے زیادہ گفتگو کی، تو اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کہے:سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ(ترجمہ: تیری ذات پاک ہے اور اے اللہ عزوجل! تیرے ہی لیے تمام خوبیاں ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔)(سنن أبى داود، جلد7، صفحہ224-223،مطبوعہ دار الرسالة العالميہ)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اچھی مجلس میں بیٹھنے اور بُری مجلسوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔


اسلام نے اپنے ماننے والوں کی ہر طرح سے راہنمائی فرمائی ہے۔ مجلس میں بیٹھنے اور ساتھ بیٹھنے والے کے آداب بھی ‏ذکر کئے ‏‏ہیں تاکہ ہمارا چلنا پھرنا اور اُٹھنا بیٹھنا حتی کہ ہر عمل اسلام کے اُصولوں کے مطابق ہو۔ جب بھی کسی مجلس میں بیٹھیں تو جہاں ‏جگہ ‏ملے وہیں بیٹھ جائیں،گردنیں پھلانگ کر آگے نہ جائیں، ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے صحابہ رضی اللہُ عنہم کو ‏مجلس میں ‏بیٹھنے تک کے آداب بتائے ‏ ہیں، آئیے! آپ بھی مجلس کے 6 حقوق و آداب پڑھیے: ‏

‏(1)دوسرےشخص کی جگہ نہ بیٹھاجائے:‏مجلس کے آداب میں یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو اُٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھا جائے ۔ ‏رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا کہ ایک شخص کسی کو ‏اس کی جگہ سے اُٹھا کر خود ‏اس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ تمہیں ‏چاہیے کہ دوسروں کے لیے جگہ کشادہ اور وسیع کردو۔‏ (بخاری،4/179 ،حدیث : 6270 )‏

‏(2) جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جائیں: مجلس میں آنے والا شخص وہاں بیٹھے جہاں اسے مجلس میں بیٹھنے کی جگہ ملے۔ چنانچہ ‏حضرت جابر بن سَمُرہ رضی اللہُ عنہما فرماتے ‏ہیں: ہم ‏جب حُضورِ ا کرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مجلس میں بیٹھ جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی ‏وہیں بیٹھ جاتے۔‏( فیضان ریاض الصالحین، 6/361 ، ‏حدیث: 827‏)‏

‏(3)مجلس میں اللہ کا ذِکْر کیا جائے:‏مومن کی کوئی مجلس الله پاک کے ذِکر سے خالی نہیں ہوتی ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مجالس میں ‏اللہ کے ذِکر و اَذکار میں مشغول ‏رہیں۔ رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ اللہ کا ذِکر کیے ‏بغیر ‏مجلس سے اُٹھ جاتے ‏ہیں تو گویا کہ وہ مُردار گدھے کی لاش پر سے اُٹھتے ہیں اور یہ مجلس ان کے لیے حسرت کا ‏باعث ہوگی ۔‏ (ابو داود،4/347 ، ‏حدیث : ‏‏4855 )‏

‏(4) مجلس میں بیٹھتے وقت سلام کیا جائے:‏ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی کسی مجلس تک ‏پہنچے تو ‏سلام ‏کرے ۔ پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے ، پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرے ۔‏( مشکاۃ المصابیح، 2/166، حدیث:4660 )‏

‏(5) مجلس سے اِجازت لے کر اُٹھا جائے:‏ مجلس کے آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب بھی کسی مجلس میں جائیں یا اساتذہ و ‏مشائخ اور دینی پیشواؤں کی مجلس ‏میں ‏جائیں تو وہاں سے اِجازت کے بغیر نہیں جانا چا ہیے۔

‏(6) مجلس کی جگہ کُشادہ رکھی جائے :‏ مفسّرِ شہیر محدّثِ کبیر حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : جب جلسہ مجلس ‏وغیرہ کرو تو وسیع زمین میں کرو تاکہ لوگوں ‏کو بیٹھنے ‏میں تنگی نہ ہو آرام سے کھلے ہوئے بیٹھیں ایسی مجلس بہت مبارَک ہے۔‏( مراۃ ‏المناجیح، 6/386 )‏

‏لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم مجلس کے حُقوق و آداب کا خیال رکھیں، ہم مجلس میں دوسروں کو تکلیف دینے سے بچیں اور ان ‏کے لیے ‏‏جگہ کشادہ کریں، ہم ہر اُس فعل سے بچیں کہ جس سے مجلس کے درمیان ہمیں کسی قسم کی شرمندگی کا ‏سامنا کرنا پڑے۔

‏ اللہ ‏تعالیٰ سے دُعا ہے کہ کہ وہ ہمیں مجلس کے حُقوق و آداب پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی ‏اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم