محمد
سرور عطّاری (درجہ رابعہ ماڈل جامعۃالمدینہ
فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک مکمل ضابطۃ حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبے کے لیے واضح تعلیمات فراہم کرتا ہے۔
انسانی زندگی کا ایک بڑا حصہ دوسروں کے ساتھ بیٹھنے، گفتگو کرنے اور اجتماعی ماحول
میں وقت گزارنے میں گزرتا ہے۔ ایسی نشستوں کو شریعت میں "مجالس" کہا
جاتا ہے۔ ان مجالس کے کچھ مخصوص آداب ہیں جنہیں اختیار کرنا نہ صرف دینی تقاضا ہے
بلکہ معاشرتی سکون اور باہمی محبت کا ذریعہ بھی ہے۔ اگر مجالس کے آداب کو نظرانداز
کیا جائے تو بسا اوقات یہ محفل باعثِ فساد اور دل آزاری کا سبب بن جاتی ہے۔
اللہ
تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ
ترجمہ
کنزالایمان: "اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو
اللہ تمہیں جگہ دے گا۔(پارہ 28: سورۃ المجادلہ: 11)
یہ
آیت اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ مجالس میں ایک دوسرے کے لیے وسعت پیدا کرنا
ایمان دار کی نشانی ہے۔
رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: إِذَا انْتَهَى
أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيَجْلِسْ حَيْثُ انْتَهَى بِهِ الْمَجْلِسُ۔ ترجمہ: "جب تم میں سے کوئی
شخص کسی مجلس میں آئے تو جہاں تک جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے۔"(جامع الترمذی، حدیث:
2725)
یہ حدیث اس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ مجلس میں
ادب اور انکساری کے ساتھ بیٹھنا چاہیے، نہ کہ بے جا جگہ بنانے یا دوسروں کو دھکیلنے
کی کوشش کی جائے۔
مجالس
کے آداب
1.
نیت کی درستگی: مجلس میں بیٹھنے سے پہلے نیت کرنی چاہیے کہ یہ وقت دینی یا دنیوی
اعتبار سے نفع بخش گزرے گا۔
2.
سلام کرنا: مجلس میں داخل ہوتے وقت سب کو سلام کرنا اور رخصت ہوتے وقت بھی سلام
کہنا سنت ہے۔
3.
جگہ بنانے کا ادب: اگر کوئی نیا آنے والا آئے تو اس کے لیے خوش دلی سے جگہ بنانا
چاہیے۔
4.
بیٹھنے کا طریقہ: مجلس میں بیٹھتے وقت میانہ روی اختیار کرنا چاہیے، نہ تو تکبر کے
ساتھ بیٹھنا چاہیے اور نہ ہی بے ادبی سے۔
5.
گفتگو میں اعتدال: مجلس میں گفتگو مختصر، مدلل اور بامقصد ہونی چاہیے۔ فضول گوئی
اور غیبت سے سختی سے پرہیز کیا جائے۔
6.
بڑوں کا ادب: اگر مجلس میں بڑے موجود ہوں تو ان کے احترام کو مقدم رکھنا چاہیے، ان
کی بات کو توجہ سے سننا اور ان کی موجودگی میں بے ادبی نہ کرنا لازم ہے۔
7.
راز افشائی سے اجتناب: اگر کسی مجلس میں کوئی بات اعتماد کے ساتھ بیان کی جائے تو
اسے دوسروں تک پہنچانا خیانت ہے۔
8.
اچھے کلمات کا انتخاب: مجلس میں نرم اور اخلاقی گفتگو کرنا چاہیے تاکہ لوگ آپ کے
ساتھ بیٹھنے میں راحت محسوس کریں۔
9.
وقت کی پابندی: مجلس کو غیر ضروری طول دینا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنا مناسب نہیں۔
10.
ذکرِ الٰہی و درود شریف: بہتر ہے کہ مجلس کا آغاز اور اختتام اللہ تعالیٰ کے ذکر
اور درود پاک سے کیا جائے تاکہ مجلس باعثِ برکت بنے۔
مجالس
کے آداب اسلام کی ان خوبصورت تعلیمات میں سے ہیں جو انسان کو باوقار، مہذب اور
پرکشش بناتی ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ مجلس صرف وقت گزاری کا
نام نہیں بلکہ ایک دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔ اگر ہم مجالس کے آداب پر عمل کریں تو
نہ صرف معاشرتی تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہوگی۔
اسلام
ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف انفرادی زندگی کے اصولوں کو ترتیب دیتا ہے بلکہ
اجتماعی اور سماجی زندگی کے لیے بھی جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں
جہاں انفرادی اخلاقیات پر زور دیا گیا ہے، وہیں مجالس (یعنی کسی محفل یا مجلس میں
شرکت) کے بھی مخصوص آداب اور حقوق مقرر کیے گئے ہیں۔ مجلس کا مقصد صرف گفتگو نہیں
بلکہ ایک اجتماعی شعور، اخوت، ادب، اور نیکی کے فروغ کی فضا قائم کرنا ہے۔ اس لیے
مجلس کے کچھ مخصوص حقوق ہیں جن کا خیال رکھنا ہر فرد پر لازم ہے جو کسی مجلس میں
شریک ہو۔
1.
بیٹھنے کی جگہ کا لحاظ:مجلس میں بیٹھنے کا دوسرا اہم حق یہ ہے کہ کسی کی مخصوص
جگہ پر بغیر اجازت نہ بیٹھا جائے۔
2.
بات چیت میں عدل اور اخلاق:مجلس میں گفتگو کا ایک بڑا اثر
ہوتا ہے، اس لیے وہاں زبان کا درست استعمال نہایت ضروری ہے۔ جھوٹ، غیبت، بہتان،
چغلی اور فضول باتیں مجلس کا ماحول خراب کرتی ہیں۔اسلامی مجالس کا مقصد علم، نیکی،
خیر خواہی اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔
3.
مجلس کی بات کو امانت سمجھنا:ایک اور اہم حق یہ ہے کہ مجلس میں
کی گئی بات کو باہر نہ پھیلایا جائے، جب تک کہ اس کی اجازت نہ ہو۔یہ مجلس کی
رازداری اور افراد کے اعتماد کا تحفظ ہے۔
4.
ادب و احترام کا ماحول قائم رکھنا:مجلس میں بزرگوں کا احترام،
دوسروں کی بات کو توجہ سے سننا، بغیر اجازت گفتگو میں دخل نہ دینا، اور سب کو موقع
دینا کہ وہ اپنی رائے پیش کر سکیں ،یہ سب ادب کے دائرے میں آتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی
مجالس اس ادب کا عملی نمونہ تھیں۔
5.
کسی کو شرمندہ نہ کرنا:اسلامی تعلیمات کے مطابق مجلس میں کسی کو طنز و تمسخر
کا نشانہ بنانا، مذاق اُڑانا یا اس کی خامیوں کو اُچھالنا سخت منع ہے۔ قرآن کہتا
ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى
اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ
ترجمہ
کنز العرفان:"اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ
ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں۔(سورۃ الحجرات: 11)
یہ
مجلس کے ایک اہم اخلاقی حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
اسلامی
معاشرے کی تعمیر میں مجالس کا کردار بہت اہم ہے۔ ان مجالس میں اگر اسلامی آداب و
حقوق کا خیال رکھا جائے تو یہ علم، اخوت، اصلاح، اور خیر کے مراکز بن سکتے ہیں۔ اگر ان حقوق کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہی
مجالس فتنہ، فساد، اور نفاق کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کا فرض ہے
کہ وہ مجلس کے حقوق کا لحاظ رکھے اور ایک مہذب، بااخلاق، اور دین دار معاشرے کے قیام
میں اپنا کردار ادا کرے۔
محمد
مدثر رضوی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
اسلام
نے اپنے ماننے والوں کی ہر طرح سے رہنمائی فرمائی ہے ۔مجلس میں بیٹھنے اور ساتھ بیٹھنے
والوں کے اداب بھی ذکر کیے تاکہ ہمارا چلنا پھرنا اور اٹھنا بیٹھنا اسلام کے اصولوں
کے مطابق ہو۔ جب بھی کسی مجلس میں بیٹھے ہیں تو جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں
۔گردنیں پھلانگ کر آگے نہ جائیں کسی شخص کو اٹھا کر اس کی اس کی جگہ بیٹھنا منع
ہے۔ اور یہ ادب کے بھی خلاف ہے سنت مبارکہ یہ ہے کہ سرک کر دوسرے اسلامی بھائی کو
جگہ دی جائے۔ اور اگر کوئی اسلامی بھائی اجتماع وغیرہ میں بھی کسی ضرورت کی بنا پر
اپنی جگہ سے تھوڑی دیر کے لیے مثلا پانی پینے یا کسی اور حاجت کے لیے گیا تو کسی
دوسرے کے لیے اس کی جگہ بیٹھنا درست نہیں۔ البتہ اگر وہ اسلامی بھائی چلا ہی گیا
اب واپس نہیں آئے گا تو اب اس کی جگہ کوئی بھی بیٹھ سکتا ہے دو آدمی بیٹھے باتیں
کر رہے ہوں بغیر اجازت ان کے درمیان نہیں بیٹھنا چاہیے مجلس کو ذکر و درود سے خالی
نہیں رکھنا چاہیے کہ ایسی مجلس آخرت میں حسرت اور ندامت کا باعث ہوگی گناہ بھری
مجلسوں سے دور رہنا چاہیے مجلس کے اختتام پر مجلس سے اٹھنے کی دعا پڑھ لینی چاہیے۔
آئیے مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے اداب کے
بارے میں پڑھتے ہیں۔
(1)مجلس
میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے:حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی
دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور
وُسعت پیداکرو ۔“(راوی کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمر
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو
آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔(مسلم شریف کتاب السلام باب تحریم اقامۃ الانسان من
موضعہ الخ ص924 حدیث نمبر 5686 )
چنانچہ
حضرت سَیِّدُنَا واثلہ بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے
کہ ایک شخص تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ رحمت دوعالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُس کے لیے
اپنی جگہ سے سِرک گئے۔اس نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جگہ کشادہ موجود ہے(آپ کو سِرکنے اور تکلیف فرمانے کی
ضرورت نہیں)۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد
فرمایا:”مسلمان کا حق یہ ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے۔“
(شعب
الایمان ،باب فی مقاربۃ اھل الدین وموادتھم، فصل فی قیام المرء لصاحبہ الخ ج6 ص
468 حدیث نمبر 8933)
(2) حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی مجلس:شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کی عاجزی و اِنکساری پرقربان!آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم اپنے بیٹھنےکی کوئی جگہ معین نہ فرماتے اور مجلس کے آخری حصے میں بھی بیٹھ
جاتے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت سَیِّدُنا علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے دریافت کیا : تاجدارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس کیسی ہوتی تھی انہوں نے جواب
دیا: آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ
کے ذکر میں مشغول رہتے تھے،کوئی جگہ اپنے بیٹھنے کے لیے معین نہ فرماتےاور دوسروں
کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔جب کسی قوم کی مجلس میں تشریف لے جاتے تو
مجلس کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین فرمایا کرتے
تھے۔اپنے ہم نشینوں کو علیٰ قدرِمراتب (یعنی ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق) نوازا
کرتے تھے جس سے ہر ایک یہی گمان کرتا تھا کہ آقائے دوجہان، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سب سے زیادہ نظرِ کرم میرے ہی حال
پر ہے۔ جو شخص بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم میں حاضر ہوتا یا کسی حاجت کے سبب آنا پڑتا تو جب تک وہ فارغ ہو کر چلا
نہ جاتا اتنی دیر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے پاس
تشریف رکھتے۔ جس نے بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں اپنی حاجت پیش کی اس کی ضرور آ پ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حاجت روائی فرمائی یا اسے سمجھا کر
مطمئن کردیا۔(الشفاء شریف الجزء الاول ص159)
(3)درمیان
بیٹھنے والے پر لعنت بھیجی ہے:حضرت سَیِّدُنا حذیفہ بن یمان
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حلقہ
کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت فرمائی۔ترمذی نےحضرت ابو مِجْلَزْ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت کیا کہ ایک شخص حلقے کے درمیان بیٹھا تو حضرت سَیِّدُنَا
حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:”حضرت محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبان پریہ شخص ملعون(یعنی لعنت کیا
گیا )ہے۔“یا کہا:” اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبان سے حلقہ کے درمیان بیٹھنے
والے پر لعنت بھیجی ہے ۔“
شرح
حدیث:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب کچھ لوگ حلقہ بنا کر بیٹھے ہوں یا
سنتوں بھرا اجتماع ہورہا ہے تو آنے والے اسلامی بھائی کو چاہیے کہ مجلس کے کنارے یا
اختتام میں جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے یہ نہ ہو کہ سب کے کندھوں کو پھلانگتا ہوا
حلقہ کے بیچ میں جا بیٹھے،اس طرح دوسروں کو ایذا بھی ہوتی ہے اور اپنا وقار بھی
خراب ہوتا ہے اور ایسا کرنا سخت منع ہےکہ ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی گئی ہے۔(فیضان
ریاض الصالحین مترجم ،جلد 6 ،ص368، الحدیث 830)
(4)
یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی:حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی
ہےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاک
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود
پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“(ترمذی شریف
کتاب الدعوات، باب فی القومی یجلسون ولا یذکرون اللہ ، ج5، صفحہ 247، حدیث نمبر
3391)
اللہ
پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ہمیں مجلس اور
ساتھ بیٹھنے والوں کے حقوق کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضور ﷺ کے فرمائے ہوئے طریقہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ اور اللہ پاک ہم سب کو بری مجلسوں سے محفوظ فرمائے اور گناہوں پر مجلسوں
سے دور رکھے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
میٹھے
میٹھے اسلامی بھائیو! اسلام ایک ایسا پُرامن دین ہے جس نے ہمیں ہر چیز کے حقوق
سکھائے ہیں مثلا والدین کے حقوق استاتذہ کے حقوق میاں بیوی کے حقوق راستے کے حقوق
وغیرہ آئیے اب ہم قران مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں مجلس کے حقوق سیکھتے ہیں۔
پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ
اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں کہ اہم حضرات کیلئے نمایاں جگہ بنادی جائے جیسے دینی و دُنْیَوی دونوں قسم
کی مجلسوں میں سرکردہ حضرات کواسٹیج پر یا سب سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ
ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کیلئے زیادہ قریب بیٹھیں ۔
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا’’تم میں سے جو لوگ بالغ اور عقل مند ہیں انہیں میرے قریب کھڑے ہونا چاہئے
،پھر جو ان کے قریب ہوں ،پھر جو ان کے قریب ہوں ۔( ابو داؤد ، کتاب الصلاۃ، باب
من یستحبّ ان یلی الامام فی الصفّ وکراہیۃ التأخّر، ۱ / ۲۶۷، الحدیث: ۶۷۴)
اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے،حضور پُر
نور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگوں سے ان کے
مرتبے اور منصب کے مطابق معاملہ کرو۔( ابو داؤد ، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس
منازلہم، ۴ / ۳۴۳، الحدیث:
۴۸۴۲)
فضیلت
اور مرتبے والے خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھیں : فضیلت
اور مرتبہ رکھنے والے حضرات کو چاہئے کہ وہ خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھیں
کیونکہ کثیر اَحادیث میں حضورِ اقدس ﷺ نے
اس سے منع فرمایا ہے ،جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مَا سے روایت ہے،سرکارِ دو
عالَم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی شخص مجلس
میں سے کسی کو اٹھا کر خود ا س کی جگہ پر نہ بیٹھے۔( مسلم،کتاب السلام،باب تحریم
اقامۃ الانسان من موضعہ المباح الذی سبق الیہ،ص۱۱۹۸،الحدیث:۲۷(۲۱۷۷))
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مَا سے مروی دوسری روایت میں
ہے،رسولِ کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے
کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خوداس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں
چاہئے کہ )دوسروں کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو۔( بخاری، کتاب الاستئذان، باب
اذا قیل لکم تفسّحوا فی المجٰلس۔۔۔ الخ، ۴
/ ۱۷۹، الحدیث: ۶۲۷۰)
میٹھے
میٹھے اسلامی بھائیو دیکھا آپ نے کہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ نے ہمیں کس طرح
مجلس کے حقوق سکھائے اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم قران مجید
اور احادیث مبارکہ میں جس جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر بھی عمل کریں دعا ہے کہ اللہ
تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاھل خاتم النبیین ﷺ !
عبدالمجید
عطاری ( جامعۃ المدینہ کنز الایمان رائیونڈ ضلع لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ انفرادی زندگی
ہو یا اجتماعی، ہر موقع پر آداب اور اخلاق کا خیال رکھنا ایک مؤمن کی پہچان ہے۔
اسلام نے "مجلس" یعنی کسی اجتماع یا نشست کے بھی مخصوص حقوق بیان کیے ہیں
تاکہ معاشر ہ حسنِ اخلاق، باہمی عزت اور ادب پر قائم رہے۔
1.
مجلس میں خوش اخلاقی اور نرم گفتاری:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیرا أو لیصمت"ترجمہ:جو
شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ بھلا کلام کرے یا خاموش
رہے۔ (صحیح بخاری: 6475، صحیح مسلم: 47)
مجلس
میں خوش اخلاقی اور مثبت گفتگو کا حکم ہے تاکہ دلوں میں محبت اور الفت پیدا ہو۔
2.
بیٹھنے کی جگہ کا لحاظ رکھنا:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے:نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ
وَيَجْلِسَ فِيهِترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی شخص دوسرے کو
اُس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں بیٹھے۔ (صحیح بخاری: 6269، صحیح مسلم: 2177)
یہ
حدیث ہمیں مجلس میں موجود افراد کا احترام سکھاتی ہے۔
3.
مجلس میں عدل و مساوات:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إذا أتاکم كريم قوم فأكرموه "ترجمہ:جب تمہارے
پاس کسی قوم کا معزز فرد آئے تو اس کی عزت کرو۔ (ابو داؤد: 4843)
5.
مجلس میں راز داری:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"المجالس بالأمانة"ترجمہ:مجلسیں امانت ہوتی
ہیں۔ (ابو داؤد: 4869، حسن)
یعنی
جو بات کسی مجلس میں رازدارانہ ہو، اس کا افشاء کرنا منع ہے۔
مجلس،
چاہے دینی ہو یا دنیاوی، اسلام نے اس کے آداب اور حقوق مقرر کیے ہیں تاکہ محبت،
امن، اور عدل پر مبنی معاشرہ قائم ہو۔ ہمیں چاہیے کہ مجلس کے ان حقوق کا خیال رکھیں،
بزرگوں کا احترام کریں، دوسروں کو بولنے دیں، اور اخلاقِ حسنہ سے اپنے کردار کو
سنواریں۔
وقار
حسین (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
مجلس
میں بیٹھنے کے آداب کو بیان کیا گیا ہے کہ مجلس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی
جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ مجلس میں کشادگی اور وسعت پیدا کرنے کا
حکم ہے۔
مفسر شہیر مُحَدِّثِ كَبِيرٍ حَكِيمُ الْأُمَّتَ
مُفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ حکم عام ہے کہ کسی کو اُس کی جگہ
سے اٹھا کر خود بیٹھ جانا ممنوع ہے ، ہاں اگر وہ شخص ناجائز طور پر وہاں بیٹھا تھا
تو اُسے اٹھا دینا جائز ہے۔ جیسے کوئی مسجد میں امام یا مؤذن کی مقرر جگہ بیٹھ
جائے یا وہ کسی کی جگہ بیٹھ گیا تھا تو یہ لوگ آکر اٹھا سکتے ہیں کہ یہ جگہ خود ان
کی اپنی ہے نہ کہ اس بیٹھے ہوئے کی۔ (مراۃ
المناجیح)
آئیے
کچھ احادیث ملاحظہ کرتے ہیں۔
(1)
دوسرے کی جگہ نہ بیٹھنا :حضرت سید نا عبد اللہ ابن عمر
رَضِی الله تَعَالَ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم رؤف رحیم صلی الله تعال علیہ و
الہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی
جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور و میں کشادگی اور وسعت پیدا کرو۔ "
(راوی کہتے ہیں) اگر کوئی شخص میں کھڑا ہو کر حضرت کا ابن عمر رَضِی اللهُ تَعَالَ
عَنْهُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے۔ (فیضان ریاض الصالحین
مترجم ، باب : مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد نمبر : 6 ، صفحہ نمبر :
357 ، حدیث نمبر : 825 ، مکتبتہ المدینہ )
(2)
مجلس کے آخر میں بیٹھنا : حضرت سیدنا جابر بن سمرہ رَضِی اللهُ
تَعَالَى عَنْهُمَا فرماتے ہیں: "ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صلَّی اللہ تعال
عَلَيْهِ وَالہ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے تو جہاں جلس ختم ہوئی وہیں بیٹھ جاتے۔ (ابو داؤد شریف ، کتاب الادب ، باب فی التحلق ،
جلد : 4 ، صفحہ نمبر : 339 ، حدیث نمبر : 4825 )
(3)
کشادہ مجلس رکھنا : حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِی اللهُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں نے
حضور نبی کریم رؤوف رحیم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو۔“(فیضان
ریاض الصالحین مترجم ، باب : مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد : 6 ، صفحہ
نمبر : 371 ، حدیث نمبر : 831 ، مکتبۃ المدینہ )
(4)
مجلس میں اللہ کا ذکر کرنا : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِيَ
اللهُ تَعَالَى عَنْهُ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو قوم کی مجلس
میں بیٹھتی ہے اور اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر نہیں کرتی اور نبی پاک صلی
اللہ تَعَالٰی پر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہو گی،
اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرمادے۔“ (جامع الترمذی ، کتاب
الدعوات ، باب فی القوم یجلسون ولا یذکرون اللہ ، 5/ 247 ، حدیث نمبر : 3391 )
(5)
مجلس کے اختتام پر دعا پڑھنا : حضرت سیدنا ابو برزہ رَضِيَ
اللهُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: حضور نبی اکرم ﷺ اپنی عمر کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے
اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ الفاظ کہتے : " سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا
أَنْتَ اسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ یعنی اے الله تو پاک ہے،
تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے
بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ “ ایک شخص نے عرض کی: یارسول الله ﷺ ! اس سے پہلے آپ ﷺ م یہ الفاظ نہیں فرمایا
کرتے تھے آپ ﷺ نے
فرمایا: یہ الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں۔ (ابو داؤد شریف ،
کتاب الادب ، باب فی کفار المجلس ، 4 / 348 ، حدیث نمبر : 4859 )
انسانی
معاشرت کا حسن اس کی مجالس میں جھلکتا ہے۔ مجالس ہی وہ آئینہ ہیں جہاں اخلاق و
کردار کی حقیقت سامنے آتی ہے۔ اسلام نے جہاں عبادات اور معاملات کی تفصیل بیان کی،
وہاں نشست و برخاست کے بھی آداب مقرر کیے تاکہ ہر مجلس خیر و برکت کا ذریعہ بنے۔
سوال یہ ہے کہ مجلس کو صالح اور بامقصد بنانے کے لیے کیا اصول اپنانے چاہییں قرآن
و سنت نے اس کا نہایت حسین جواب دیا ہے۔
قرآن
میں مجلس کا تصوراللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ
لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ- ترجمہ کنز العرفان:"اے ایمان
والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ
تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا "(المجادلۃ،58: 11)
یہ
آیت سکھاتی ہے کہ مجلس میں ایثار اور وسعتِ قلب اختیار کرو، تاکہ اللہ زندگی اور
آخرت میں وسعت دے۔ مجلس صرف ملاقات نہیں بلکہ باہمی عزت، ادب اور اخوت کا آئینہ
ہے۔
مجالس
کے حقوق:رسول اللہ ﷺ نے مجالس کے آداب پر بارہا تاکید فرمائی آپ
ﷺنے مجلس کو کشادہ کرنے کے بارے میں فرمایا:من أَتَى مَجْلِسا فَوسعَ لَهُ حَتَّى يرضى كَانَ حَقًا على الله
عز وجل رضاهم يَوْم الْقِيَامَة ۔
"جو شخص کسی مجلس میں آئے اور اس کے لیے جگہ کشادہ کر دی
جائے یہاں تک کہ وہ راضی ہو جائے، تو اللہ عزوجل کے ذمہ ہے کہ قیامت کے دن اُنہیں
راضی فرمائے۔"(الدیلمی،شیرویہ
بن شھردار،الفردوس بماثور الخطاب،ج:3،ص:619،رقم الحدیث:5933،(الناشر:دارالکتب
العلمیۃ،بیروت،1406ھ))
رسول
اللہ ﷺ نے مجالس کے حقوق کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ رَجَعَ، فَهُوَ
أَحَقُّ بِهِ۔"یعنی اگر کوئی اپنی جگہ سے اٹھے اور واپس آئے تو
وہی اس کا زیادہ حق دار ہے" ((القزوینی،محمد یزید ابن ماجہ،جامع
السنن،ص:783،رقم الحدیث:3713،(الناشر:دار الصدیق للنشر،السعودیۃ ،1435ھ))
اس
سے واضح ہوا کہ مجلس میں عدل، مساوات اور ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
ایک
اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: مَنْ جَلَسَ
مَجْلِسًا فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ
اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ
وَأَتُوبُ إِلَيْكَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ۔ "جو شخص کسی مجلس میں بیٹھا اور اس میں اس
کی باتیں زیادہ ہو گئیں (لغو و فضول باتیں ہوئیں)، پھر وہ اٹھنے سے پہلے یہ دعا
پڑھ لے: سبحانک
اللهم وبحمدک، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليكتو اس
مجلس میں جو کچھ (لغویات یا کوتاہیاں) ہوئیں، ان سب کی بخشش کر دی جاتی ہے۔" (التبریزی،محمد بن عبداللہ،مشکاۃ المصابیح،ج:2،ص:752،رقم
الحدیث:2433،(الناشر:المکتب الاسلامی،بیروت ،1985ء)
مجلس
کے آداب:اسلامی تعلیمات کے مطابق مجلس کے بنیادی آداب یہ ہیں:
1.
سلام کے ساتھ آغاز اور دعا کے ساتھ اختتام۔
2.
دوسروں کے لیے جگہ دینا اور احترام قائم رکھنا۔
3.
لغویات اور بے مقصد باتوں سے اجتناب۔
4.
گفتگو میں عدل اور ہر ایک کو بولنے کا حق دینا۔
5.
ناپسندیدہ یا شرعی طور پر ممنوع موضوعات سے بچنا۔
اسلام
نے مجالس کو محض ملاقات کا ذریعہ نہیں بلکہ ایمان، اخلاق اور سماجی تربیت کا مرکز
بنایا ہے۔ اچھی مجلس فرشتوں کی دعا اور اللہ کی رحمت کا باعث ہے، جبکہ بری مجلس
انسان کو جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی مجالس کو
ذکرِ الٰہی، علم و حکمت اور محبت و اخوت سے مزین کرے تاکہ دنیا بھی سنورے اور آخرت
بھی روشن ہو۔
محمد
رضوان اکرم (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ،
پاکستان)
اسلامی
تعلیمات میں مجلس (بیٹھک، محفل یا اجتماع) کے بھی کچھ آداب اور حقوق ہیں جنہیں نظر
انداز نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن و سنت میں اس بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں تاکہ
مسلمان آپس میں محبت، عزت اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزاریں۔
1.
مجلس میں وسعت دینا:اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ
تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ (سورۃ المجادلہ: آیت 11 : پ28)
ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ )مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کرودو، اللہ تمہارےلئے
جگہ کشادہ فرمائے گا۔
اس
آیت سے معلوم ہوا کہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تنگی نہ کی جائے بلکہ دوسروں کے لیے جگہ
بنائی جائے۔
2.
سلام اور اجازت کے ساتھ داخل ہونا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ،
فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ فَلْيُسَلِّمْ، فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ
الْآخِرَةِ۔ ترجمہ:
جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں آئے تو سلام کرے، اور جب وہاں سے جانا چاہے تب بھی
سلام کرے۔ پہلی سلامی دوسری سے زیادہ حق دار نہیں ہے۔(سنن ابی داؤد: 5208)
یہ
اس بات کی دلیل ہے کہ مجلس میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت سلام کرنا سنت ہے۔
3.
مجلس میں برابری کا رویہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَجْلِسُ
فِيهِ ترجمہ:
کوئی شخص کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے۔(صحیح بخاری: 6269،
صحیح مسلم: 2177)
یہ
حدیث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مجلس میں برابری ہو اور کسی کو حقیر نہ سمجھا
جائے۔
4.
فضول باتوں اور لغویات سے پرہیز:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا
يَعْنِيهِ ترجمہ: آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول باتوں کو
چھوڑ دے جو اس سے متعلق نہیں۔(سنن ترمذی: 2317)
لہٰذا
مجلس کو فضول گفتگو، غیبت اور لغو باتوں سے پاک رکھنا ضروری ہے۔
5.
مجلس کے گناہوں کا کفارہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، فَقَالَ قَبْلَ
أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ
إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ
فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ۔ ترجمہ: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور وہاں فضول باتیں زیادہ
ہوں، پھر وہ یہ دعا پڑھے تو اس مجلس کی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں۔(سنن ترمذی:
3433)
اسلام
نے مجلس کے ایسے حقوق اور آداب بیان کیے ہیں جو انسان کو اخلاقی، سماجی اور روحانی
طور پر نکھارتے ہیں۔ مجلس کو ذکرِ الٰہی، علم کی باتوں اور نیکی کے کاموں کے لیے
استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ غیبت، جھوٹ یا فساد کے لیے۔ اگر مسلمان ان آداب پر عمل
کریں تو ان کی محافل سکون، محبت اور خیر و برکت کا مرکز بن جائیں گی۔
مجلس
انسان کی معاشرتی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ بیٹھ کر گفتگو
کرتے ہیں، اپنے خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی صحبت سے فائدہ اٹھاتے
ہیں۔ مجلس کے کچھ آداب اور حقوق ہوتے ہیں جن کا خیال رکھنا معاشرتی ہم آہنگی اور
باہمی احترام کے لیے ضروری ہے۔
سب
سے پہلا حق یہ ہے کہ مجلس میں داخل ہوتے وقت اجازت لینا اور سلام کرنا چاہیے۔ اس
سے مجلس میں بیٹھے ہوئے افراد کو احساس ہوتا ہے کہ آنے والا شخص عزت و احترام کے
ساتھ شامل ہوا ہے۔ اسی طرح، مجلس میں بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ اختیار کرنا چاہیے
اور اگر کوئی بڑی عمر یا معزز شخصیت موجود ہو تو انہیں آگے بیٹھنے کا موقع دینا
چاہیے۔
مجلس
میں گفتگو کے دوران آواز کا لہجہ نرم اور مناسب ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کو تکلیف
نہ ہو۔ کوئی بات کرتے وقت دوسروں کی بات نہ کاٹی جائے اور سب کو بولنے کا موقع دیا
جائے۔ اگر کوئی شخص بات کر رہا ہو تو پوری توجہ سے سننا بھی مجلس کا حق ہے۔
مجلسوں
میں جگہ کی کشادگی:مجلسوں میں بیٹھنے کے بہت سے آداب ہیں اس حوالے سے ایک
آیت کریمہ ملاحظہ فرمائیں رب العالمین فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا
فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ
اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ کنزالایمان: ایمان والو جب تم سے کہا
جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے
ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے
بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔( سورۃ المجادلۃ(58) آیت(11)
اس
آیت سے معلوم ہو اکہ ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تعظیم کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ نے اجرو ثواب کا وعدہ
فرمایا ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی تعظیم کیا کریں ۔
حضرت
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا
اور اس حاملِ قرآن کی تعظیم کرناجو قرآن میں غُلُو نہ کرے اور ا س کے احکام پر
عمل کرے اور عادل سلطان کی تعظیم کرنا، اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرنے میں داخل ہے ۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی تنزیل
الناس منازلہم، ۴ / ۳۴۴، الحدیث:
۴۸۴۳)
مجلس
کے آداب:مجلس کے آداب کے حوالے سے کچھ نکات ملاحظہ فرمائیں جیسے
کہ
(1)
کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت ہے۔ اور دوسری روایت میں
ہے کہ کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے
جدائی کرے یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے۔ (سنن ابی داود، كتاب الادب، باب في الرجل يجلس بين
الرجلين بغير اذنهما، الحديث:٤٨٤٤-٠٤٨٤٥ ج ٤ ، ص ٣٤٤)
(2)
جب تم بیٹھو تو اپنے جوتے اتار لو تمہارے قدم آرام پائیں گے ۔ (كنز العمال، كتاب
الصحبة، قسم الأقوال، حق المجالس والجلوس، الحديث: ٠٢٥٣٩٠ ج ۹، ص ٥٩)
جب
کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر وہ واپس لوٹ کر آئے (یعنی جب کہ جلد ہی لوٹ آئے
) تو اپنی جگہ کا وہی زیادہ مستحق و حقدار ہے۔ (سنن ابی داود کتاب الادب، باب اذا
قام الرجل من مجلس ثم رجع، الحديث ٤٨٥٣ ، ج ٤ ، ص ٣٤٦)
ان
ارشادات سے ہمیں معلوم ہوا کہ ہمیں مجلس میں ایک دوسرے کی جگہ کا خیال کرنا چاہیے
اور جب مجلس ختم ہو تو خاموشی سے اور بغیر شور شرابے کے اٹھنا چاہیے اور جاتے وقت
بھی دعا یا نیک خواہشات کے ساتھ رخصت ہونا چاہیے۔ اس طرح مجلس میں آنے اور جانے کا
تاثر خوشگوار رہتا ہے۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
فاحد
علی عطّاری (درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
مجلس
میں بیٹھنے کے آداب کو بیان کیا گیا ہے کہ مجلس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی
جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے نہ اس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرے نہ ہی کسی کو
تکلیف دے بلکہ جہاں جگہ ملے وہاں ہی اطمینان سے بیٹھ جائے اور کشادگی پیدا کرے
ہمارے نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کو بہت سی جگہوں پر مجلس میں بیٹھنے
کے آداب بتایا کرتے تھے آئیے ان میں سے چند کا مطالعہ کرتے ہیں۔
(1):
گردنیں پھلانگنا:مجلس میں بیٹھے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا
برا ہے۔ ﴿فیضان ریاض الصالحین جلد نمبر :6 صفحہ نمبر:363﴾
(2)
مجلس میں کشادگی پیدا کرنا:حضرت سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی
اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس
کی جگہ نہ بیٹھے ، تم مجلس میں کشادگی اور وسعت پیدا کرو( راوی کہتے ہیں) اگر کوئی
شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ
اس کی جگہ نہ بیٹھتے۔ (مسلم ٬کتاب الاسلام٬ باب تحریم اقامت الانسان عن موضعہ ۱لخ٬ صفحہ نمبر:942 حدیث نمبر:5782﴾
(3)
:ذکر کے بغیر مجلس سے اٹھ جانا:حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ
تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا٫ جو لوگ
اللہ عزوجل کا ذکر کیے بغیر مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مردار گدھے کی لاش
پر سے اٹھتے ہیں اور یہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔(ابو داؤد٬ کتاب الادب٫
باب کراھتہ ایقوم الرجل من مجلسہ ولا بذکرللہ جلد:4 صفحہ نمبر:347 حدیث نمبر:4855)
(4):
مجلس میں پہنچنے کا عمل:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم
ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی
کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنے کی ضرورت ہو تو بیٹھ جائے اور جب
چلنے لگے تو دوبارہ سلام کرے۔(سنن ترمزی_کتاب السنئدان والادب: حدیث نمبر:2715 جلد
نمبر:4 صفحہ نمبر:324)
(5):
اللہ عزوجل کی طرف سے ندامت ہوگی:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی
عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا جو کسی مجلس میں بیٹھے اور اللہ عزوجل کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لیے اللہ
عزوجل کی طرف سے حسرت و خسارہ ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور ذکر الہی نہ کرے تو اس
کے لیے بھی اللہ عزوجل کی طرف سے ندامت ہوگی۔(ابو داؤد٬کتاب الاب٫باب کراھیتہ ان یقوم
الرجل من مجلسہ ولا یذکرللہ٬ جلد نمبر:4 صفحہ نمبر:347 حدیث نمبر:4857)
رضائے
مصطفی ( جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
اللہ
کریم کی ذات بلند و برتر جو جمیع مخلوقات کی خالق ، رازق اور مالک ہے ، اپنی اطاعت کی سب سے زیادہ حقدار ہے ۔
جیسے دین اسلام نے والدین ، اولاد ، اساتذہ ، پڑوسی ، وغیرہ کے حقوق کو بیان فرمایا
اسی طرح مجلس کے حقوق کو بھی واضح طور پر بیان فرمایا اور ان کو ادا کرنے کا حکم
بھی ارشاد فرمایا آئیے مجلس کے حقوق کے بارے جانتے ہیں۔
(1)
دو کے درمیان گھس کر نہ بیٹھو :حضرت سیدنا عمرو بن شعیب رحمۃ
اللہ علیہ اپنے والد سے اور ان کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول
پاک ﷺ نے فرمایا : کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت
کے بغیر بیٹھ جائے۔ ( ترمذی ، کتاب الادب ، باب ما جاء فی کراھیۃ الجلوس --- الخ ،
346/4 ، ح : 2761 )
(2)
لوگوں کے بیچ گھس کر بیٹھنے والا ملعون :حضرت سیدنا حذیفہ بن یمان
رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت فرمائی۔ ( ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب الجلوس
وسط الحلقۃ ، 338/4 ، ح : 4826 )
(
3 ) بہترین مجلس : حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت
ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ
ہو۔ ( ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب فی سعۃ المجلس ، 338/4 ، ح : 4820 )
(4)
مجلس میں ہونے والے گناہوں کی معافی : حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی
اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی ایسی
مجلس میں بیٹھا جس میں بے فائدہ باتیں زیادہ ہوں پھر اس شخص نے مجلس سے اٹھنے سے
پہلے یہ کہا : " اے اللہ تو پاک ہے تیرے لیے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں
کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا
ہوں ـ"
تو اس شخص سے مجلس میں سرزد ہونے والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔( ترمذی ، کتاب
الدعوات ، باب ما یقول اذا قسم من مجلسہ ، 273/5 ، ح : 3444 )
(5)
حسرت والی مجلس : حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول پاک ﷺ نے فرمایا : " جو لوگ اللہ عزوجل کا ذکر
کئے بغیر مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں
اور یہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔( ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب کراھیۃ ان
یقوم الرجل من مجلسہ ولا یذکر اللہ ، 347/4 ، ح : 4855 )
انسان
فطری طور پر دوسروں کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہے اور تنہائی سے گھبراہٹ محسوس کرتا
ہے۔ اسی لیے وہ گھر میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بیٹھنا، دفتر میں ساتھیوں کے ساتھ
وقت گزارنا، اور کبھی کبھی دینی یا سماجی محفلوں میں بھی شامل ہونا پسند کرتا ہے۔
لیکن ان مجالس کا اصل فائدہ اور ان کی حقیقی خوشی تب سامنے آتی ہے جب وہاں کچھ
اصول اور آداب کا خیال رکھا جائے۔ یہ آداب صرف رسم و رواج یا دنیاوی تہذیب کی بات
نہیں بلکہ ان کی بنیاد قرآنِ کریم اور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر ہیں۔ اگر ان
اصولوں کو اپنایا جائے تو نہ صرف محفل خوشگوار بن جاتی ہے بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ
کی جانب سے برکت اور خیر بھی شامل ہو جاتی ہے۔
1.
فائدہ مند گفتگو کرنا: جب لوگ کسی مجلس میں اکٹھے ہوں تو وہاں ایسی باتیں کی
جائیں جو سب کے لیے فائدہ مند ہوں۔ گفتگو میں علم، نصیحت، اچھے مشورے یا خوش اخلاقی
کے پہلو ہوں تاکہ ہر شخص کو کچھ سیکھنے اور اچھا سننے کا موقع ملے۔ مجلس کو فضول
باتوں، ہنسی مذاق میں وقت ضائع کرنے یا کسی کی برائی اور غیبت سے بچایا جائے، کیونکہ
اس طرح نہ صرف ماحول خراب ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات گناہ کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس لیے
ضروری ہے کہ محفل کی گفتگو مثبت، اور نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والی ہو۔
2.
جگہ کشادہ کرنا: جب کوئی نیا شخص مجلس میں آئے تو اس کے لیے خوش دلی کے
ساتھ جگہ بنائی جائے۔ اگر مجلس میں بھیڑ ہو تو ذرا سا سرک جانا یا اپنی نشست کو
آگے پیچھے کر لینا بھی اس کے لیے آسانی پیدا کر دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف آنے والے کو
عزت و قدر کا احساس ہوتا ہے بلکہ مجلس کا ماحول بھی خوشگوار رہتا ہے۔ یہ عمل آپس میں
محبت بڑھانے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کی نشانی ہے۔
جیساکہ
نبی کریم ﷺ نے بھی اس کی تعلیم ارشاد فرمائی۔ "نَهَى أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ
آخَرُ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا"ترجمہ: نبی ﷺ نے
منع فرمایا کہ کوئی شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے، بلکہ تم
لوگ کشادگی کرو اور وسعت اختیار کرو۔( صحيح البخاري، ج ٨، ص ٦١، حدیث ٦٢٧٠)
وضاحت
اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب کوئی شخص محفل میں آئے تو اس کے لیے جگہ
بنانا ایک اچھا اسلامی طریقہ ہے۔ اس سے آنے والے کو اہمیت اور عزت ملتی ہے اور
دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت بڑھتی ہے۔ اگر ہر کوئی دوسروں کے لیے تھوڑی سی جگہ
بنا دے تو محفل کا ماحول خوشگوار ہو جاتا ہے اور سب کو سکون اور اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔
3.
خاموشی اور توجہ: جب کوئی شخص مجلس میں بات کر رہا ہو تو دوسروں کو چاہیے
کہ خاموش رہیں اور پوری توجہ کے ساتھ اس کی بات سنیں۔ درمیان میں ٹوکنے یا اپنی
رائے زبردستی شامل کرنے سے نہ صرف بات کرنے والے کو تکلیف ہوتی ہے بلکہ مجلس کا
وقار بھی متاثر ہوتا ہے۔ اگر ہر کوئی ایک دوسرے کی بات سکون سے سن لے تو نہ صرف
بات سمجھنا آسان ہو جاتا ہے بلکہ سب کو اپنی بات کہنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ یہ
عادت مجلس کو پر سکون اور باوقار بناتی ہے۔
4.
سلام اور مسکراہٹ: جب کوئی شخص مجلس میں داخل ہو تو سب سے پہلے سلام کرے
اور خوش اخلاقی کے ساتھ مسکرا کر ملے۔ اس طرح نہ صرف محفل میں محبت اور اپنائیت کا
ماحول بنتا ہے بلکہ دلوں میں خوشی اور سکون بھی پیدا ہوتا ہے۔ سلام کرنے سے برکت
آتی ہے اور مسکراہٹ دوسروں کو اپنی جانب مائل کر لیتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں مجلس کو
خوشگوار اور دوستانہ بنانے کے بہترین طریقے ہیں۔
جیساکہ
نبی کریم ﷺ کے ارشاد فرمایا:"تَبَسُّمُكَ
فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ"ترجمہ تمہارا اپنے بھائی
کے چہرے کو دیکھ کر مسکرانا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے۔( سنن الترمذی، ج ۴، ص ٣٣٩، حدیث ١٩٥٦)
وضاحت
جب آپ کسی سے ملیں اور اسے دیکھ کر مسکرا دیں تو یہ ایک نیکی شمار ہوتی ہے۔
مسکراہٹ ایک چھوٹی سی چیز ہے لیکن اس سے دوسروں کے دل خوش ہو جاتے ہیں اور ماحول میں
پیار و محبت پیدا ہوتا ہے۔ اسلام میں ہر وہ کام جس سے دوسروں کو خوشی یا فائدہ
پہنچے، اسے صدقہ کہا گیا ہے۔ اس لیے بغیر کسی خرچ کے صرف مسکرا دینا بھی اللہ کے
ہاں نیکی کا درجہ رکھتا ہے۔
5.
امانت داری: اگر کوئی شخص کسی مجلس میں کوئی بات کرے تو اس بات کو وہیں
تک رکھنا چاہیے اور اسے دوسروں تک نہیں پہنچانا چاہیے۔ جب کوئی کسی پر بھروسہ کرکے
اپنی بات بیان کرے اور وہ آگے پھیلا دی جائے تو اس سے نہ صرف اعتماد ٹوٹ جاتا ہے
بلکہ تعلقات بھی خراب ہو جاتے ہیں۔ البتہ اگر وہ بات دین کے خلاف ہو یا کسی برے
اور غلط کام پر مشتمل ہو تو اس کے بارے میں خاموش رہنا درست نہیں بلکہ روکنا یا
متعلقہ لوگوں کو بتانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ عام طور پر مجلس کی بات کو راز رکھنا
ہی اصل دیانت داری اور اچھا اخلاق ہے، اور یہی رویہ تعلقات میں محبت اور بھروسہ
بڑھاتا ہے۔
6.
وقت کی پابندی: مجلس میں وقت کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ کسی کو مشکل
پیش نہ آئے۔ محفل ایسے وقت میں نہ رکھی جائے جب لوگ آرام کر رہے ہوں یا کسی ضروری
کام میں مصروف ہوں۔ اسی طرح بات چیت کو ضرورت سے زیادہ نہ بڑھایا جائے کیونکہ بہت
زیادہ دیر تک بیٹھنے سے لوگ تھک جاتے ہیں اور دلچسپی بھی کم ہو جاتی ہے۔ جب مجلس
وقت پر شروع ہو اور مناسب وقت پر ختم ہو تو سب کو سکون اور سہولت ملتی ہے، محفل
خوشگوار رہتی ہے اور کسی پر بوجھ نہیں بنتی۔ اس لیے بہتر ہے کہ مجلس مختصر، مفید
اور مقصد کے مطابق ہو تاکہ سب کے لیے فائدہ اور آسانی کا سبب بنے۔
انسان
کی زندگی میں مجالس کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ یہ نہ صرف تعلقات مضبوط کرنے کا ذریعہ
بنتی ہیں بلکہ علم، تجربہ اور خوشگواری بانٹنے کا موقع بھی دیتی ہیں۔ لیکن ان کی
اصل خوبی تب ہی سامنے آتی ہے جب ان میں آداب اور حقوق کا خیال رکھا جائے، مثلاً
اچھی بات کرنا، دوسروں کی عزت کرنا اور وقت کی پابندی کرنا۔ اگر مجلس میں یہ اصول
اپنائے جائیں تو وہ خیر و برکت اور محبت کا ذریعہ بن جاتی ہے، لیکن اگر ان میں
بدزبانی کی جائے، دوسروں کے حقوق پامال کیے جائیں یا لاپرواہی برتی جائے تو ایسی
مجالس فائدے کے بجائے نقصان پہنچاتیں ہیں اور تعلقات کو کمزور کر دیتی ہیں۔اللہ
تعالیٰ ہماری مجالس کو خیر و برکت، محبت اور ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ آمین
Dawateislami