قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا وہ معجزہ ہے جو تا قیامت انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے ۔    ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ (2)ترجمہ کنزالعرفان:اس میں ڈرنے والوں کے لئے ہدایت ہے ۔ عنوان کے مطابق نہیں

قرآن پاک کے معانی اور مفاہیم کو سمجھنے کے لیے علمِ تفسیر نہایت ضروری ہے، کیونکہ بغیر تفسیر کے قرآن کے گہرے معانی اور شانِ نزول کو سمجھنا عام انسان کے لیے ممکن نہیں ۔ اور ویسے بھی تفسیر کی اہمیت کو آپ یوں سمجھیے کے بادشاہ اگر کسی کے ذریعے اپنے وزیر کو خط بھیجے اور اس خط میں لکھا ہو کہ میں تین ماہ بعد آؤں گا تو مجھے فلاں جگہ پر ایک مکان بنا ہوا چاہیے تو جب وزیر تک وہ خط پہنچے اور وہ خط اس کی مادری زبان کے علاوہ ہو تو بس وزیر اس خط کو پڑھتا رہے اس خط کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں بس اس کو پڑھتا رہے اور سمجھ کر اس پر عمل نہیں کرے تو وہ یقیناً بادشاہ کی طرف سے سزا کا مستحق ہوگا تو اسی طرح قرآن پاک بھی ہے اس کو پڑھنے کے اگرچہ بے حد فوائد ہیں لیکن صرف پڑھتے رہنا اور اس کو نہ سمجھنا اور اس پر عمل نہ کرنا تو ہلاکت ہی ہے تو تفسیر قرآن پڑھنے کے بے حد فوائد ہیں:

تفسیر کا مفہوم اور ضرورت:لفظ “تفسیر” عربی زبان کے لفظ "فَسَّرَ" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی “کھولنے” یا “واضح کرنے” کے ہیں ۔

تفسیر سے مراد قرآن پاک کے الفاظ، آیات، احکام اور معانی کو ان کے اصل مفہوم کے ساتھ واضح کرنا ہے ۔

تفسیر کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ قرآن مجید کے بعض مقامات ایسے ہیں جن میں شانِ نزول، ناسخ و منسوخ، احکامِ شرعیہ اور لغوی نکات شامل ہیں ۔ ان سب کو سمجھنے کے لیے مفسرینِ کرام نے اپنی علمی کاوشوں سے تفسیری ذخیرہ فراہم کیا ۔

علمِ تفسیر کی اقسام:

1، تفسیر بالمأثور:

وہ تفسیر جو قرآن کی آیات کی تشریح قرآن، حدیث، اقوالِ صحابہ یا تابعین سے کرے ۔

2، تفسیر بالرائے:

وہ تفسیر جو علم، عربی زبان، اصولِ فقہ اور شرعیات کی بنیاد پر کی جائے، بشرط یہ کہ قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو ۔

مطالعۂ تفاسیر کی اہمیت:قرآن مجید کا فہم صرف تلاوت سے نہیں بلکہ تفسیر کے مطالعے سے حاصل ہوتا ہے ۔ مفسرین نے اپنی عمریں صرف کر کے امت کے لیے قرآن کی تشریح کی،مطالعۂ تفاسیر کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں:

(1) قرآن کے معانی کی گہرائی تک رسائی:ہر آیت کے پس منظر، شانِ نزول اور مفہوم کو سمجھنا آسان ہوتا ہے ۔

(2) احکامِ شریعت کی معرفت:تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ کن آیات سے فقہی احکام اخذ کیے گئے ۔

(3) عقائد و اخلاق کی اصلاح:تفاسیر کے ذریعے ایمان مضبوط ہوتا اور عملِ صالح کی رغبت پیدا ہوتی ہے ۔

قرآن مجید کے فہم کے لیے تفاسیر کا مطالعہ ناگزیر ہے ۔ آج کے دور میں جب قرآن کے مفاہیم کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، ہر مسلمان پر لازم ہے کہ مستند مفسرین کی تفاسیر سے رہنمائی حاصل کرے ۔ مثلا ،صراط الجنان ، خزائن العرفان تفسیر نعیمی وغیرہ

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ قرآن کے ساتھ ساتھ اس کی تفاسیر کا باقاعدہ مطالعہ کریں تاکہ ایمان، عمل اور اخلاق میں پختگی پیدا ہو اور ہم قرآن کے حقیقی پیروکار بن سکیں ۔