اللہ تعالیٰ
نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا، دنیا میں اپنے رسولوں کو بھیجا اور انہیں نیکی کی
دعوت دینے کا حکم دیا ۔ ان پر اپنی حکمت
بھری کتاب نازل فرمائی جس میں احکامِ الٰہی بیان کیے گئے ۔ ان احکام کو سمجھنے کے لیے ہمیں تفسیر کی ضرورت
پیش آئی ۔ قرآن کریم کو صحیح طور پر
سمجھنے کے لیے ہمارے اکابرین نے مختلف تفاسیر تحریر فرمائیں ۔ ہر مسلمان پر لازم
ہے کہ وہ صرف قرآن پاک کے الفاظ اور ترجمے پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس میں غور و فکر
اور تدبر کرے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن
پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ترجمہ کنز
الایمان: تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں ۔ (محمد:24)
اس آیت
مبارکہ سے تین اہم نکات سامنے آتے ہیں:
(1)قرآن کی
عظمت بیان ہوئی اور اس میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ۔
(2)غور و
فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے ۔ امام
غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "پورا قرآن بغیر غور و فکر کے پڑھنے سے
بہتر ہے کہ ایک آیت غور و فکر کے ساتھ پڑھی جائے ۔ "
(3)قرآن کو
دیکھنا، چھونا، پڑھنا اور اس میں تدبر کرنا سب عبادت ہے ، اور ہمیں اس پر عمل کی
دعوت دی گئی ہے ۔
صحیح اور
معتبر تفسیر وہی ہے جو نبی کریم ﷺ کے فرامین، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین
کے علوم کی روشنی میں ہو ۔ وہ تفاسیر جو
سنتِ نبوی اور شریعت کے خلاف ہوں، معتبر نہیں ہو سکتیں ۔
جیسا کہ
تفسیر صراط الجنان (پارہ 5، سورۃ النساء) میں بیان کیا گیا ہے:
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا
اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)
ترجمہ کنز
العرفان:(یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ
لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔
اس آیت سے
معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پاک سے نصیحت تو ہر شخص حاصل کر سکتا ہے، لیکن اس سے شرعی
مسائل کا استخراج ہر ایک کا کام نہیں ۔ یہ
صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو دینی بصیرت اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ عوام کو چاہیے کہ وہ خود مسائل نکالنے کے بجائے
علماء سے سیکھیں ۔
آج کے دور
میں المیہ یہ ہے کہ قرآن پاک گھروں میں موجود تو ہے، مگر اکثر بند الماریوں میں
رکھا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس پر دھول جم جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمیں قرآن
کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
مطالعۂ تفسیر
کی ضرورت:
(1)قرآن کو
صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ۔
(2)قرآن کے
احکام پر عمل کی حکمت جاننے کے لیے ۔
(3)باطل
عقائد اور گمراہ کن تفاسیر سے بچنے کے لیے ۔
مطالعۂ تفسیر
کی اہمیت:
(1) اللہ
تعالیٰ کی انوکھی تخلیقات کا شعور حاصل ہوتا ہے، جس سے ایمان میں پختگی آتی ہے ۔
(2) اکابرین
کی محنت کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے قرآن سے مسائل کے استخراج میں کتنی کوششیں
کیں ۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں قرآن پاک کی تلاوت، اس کے معانی میں تدبر، اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے
۔ آمین ۔
Dawateislami