مطالعۂ تفسیر کی ضرورت اور اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ یہ قرآن پاک کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کے لیے ایک بنیادی ذریعہ ہے ۔ 

امام جلال الدین سیوطی شافعی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں جس زمانے میں قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا اس وقت عربی کی فصاحت و بلاغت کے ماہرین موجود تھے ، وہ اس کے ظاہر اور اس کے احکام کو تو جانتے تھے لیکن اس کی باطنی باریکیاں ان پر بھی غور و فکر کرنے اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی عَلَیہ وَالِہ وَسَلَّمَ سے سوالات کرنے کے بعد ہی ظاہر ہوتی تھیں جیسے جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ تو صحابہ کرام رَضِی اللَّهُ تَعَالَى عَنْہم نے رسول الله صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَیہ وَالِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں عرض کی ہم میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا ۔ نبی کریم صلی اللہ تَعَالٰی عَلیہ وَالِہ وَسَلَّمَ نے اس کی تفسیر بیان کی کہ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے اور اس پر اس آیت ” اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ“ سے استدلال فرمایا ۔ جب میدانِ فصاحت و بلاغت کے شہسواروں کو قرآن کے معانی سمجھنے کے لئے الفاظ قرآنی کی تفسیر کی حاجت ہوئی ) تو ہم تو اُس چیز کے زیادہ محتاج ہیں جس کی انہیں ضرورت پڑی بلکہ ہم تو سب لوگوں سے زیادہ اس چیز کے محتاج ہیں کیونکہ ہمیں بغیر سیکھے لغت کے اسرار ورموز اور اس کے مراتب معلوم نہیں ہو سکتے ۔ (الاتقان فی علوم القرآن النوع السابع والسبعون، فصل واما وجہ الحاجۃ اليہ الخ، ٢ / ٥٤٦-٥٤٧ ، ملخصاً)

مطالعۂ تفسیر کی چند اہم پہلو:

(1) قرآن پاک کو صحیح سمجھنے کے لیے: قرآن پاک کی تلاوت سے ہر آیت کا مکمل مفہوم سمجھنا ممکن نہیں ہوتا ۔ تفسیر کے مطالعے سے آیات کے چھپے ہوئے معانی ان کا تاریخی پس منظر اور ان کی گہری حکمت سامنے آتی ہے جس سے قرآن کا حقیقی مفہوم سمجھنے میں مدد ملتی ہے ۔

(2) احکامِ شرعیہ پر عمل کے لیے: تفسیر کے ذریعے قرآن پاک میں بیان کردہ احکام، فرائض اور واجبات کو درست طور پر سمجھا جا سکتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی حکم کس وقت، کس تناظر میں اور کس مقصد کے لیے نازل ہوا ۔

(3) غلط فہمیوں سے بچاؤ کے لیے:تفسیر کا مطالعہ قرآن کی آیات کی غلط تشریح اور تاویل سے بچاتا ہے ۔ جب تک قرآن کی گہرائیوں کو نہ سمجھا جائے اس کی آیات کی غلط تشریح سے گمراہی اور ایمان سے دھو بیٹھنے کا خطرہ رہتا ہے ۔

(3) دینی دعوت کو مؤثر بنانے کے لیے: دعوتِ اسلامی کا مقصد اسلام کی تعلیمات کو پھیلانا ہے ۔ اس مقصد کے لیے یہ ضروری ہے کہ مبلغین قرآن پاک کے پیغام کو مکمل علم کے ساتھ پیش کریں ۔ تفسیر کا مطالعہ دعوت کے کام کو زیادہ جامع اور مضبوط بناتا ہے ۔

(4) ایمان کی مضبوطی کے لیے: قرآن کے کلام الٰہی ہونے کو سمجھنے سے ایمان اور اللہ عزوجل سبحانہ و تعالیٰ سے تعلق مزید گہرا ہوتا ہے ۔ جب بندہ تفسیر قرآن پاک کے ذریعے اللہ کے کلام میں غور و فکر کرتا ہے، تو اس کے دل میں اللہ کی محبت اور خوف پیدا ہوتا ہے ۔

(5) دعوتِ اسلامی کے کاموں میں شامل ہونا: دعوتِ اسلامی اپنے مبلغین اور واعظین کو تفسیر کے مطالعے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جس کے لیے وہ مختلف تعلیمی اور تنظیمی طریقۂ کار بھی پیش کرتے ہیں ۔