محمد
رضوان اکرم (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ،
پاکستان)
اسلامی
تعلیمات میں مجلس (بیٹھک، محفل یا اجتماع) کے بھی کچھ آداب اور حقوق ہیں جنہیں نظر
انداز نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن و سنت میں اس بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں تاکہ
مسلمان آپس میں محبت، عزت اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزاریں۔
1.
مجلس میں وسعت دینا:اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ
تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ (سورۃ المجادلہ: آیت 11 : پ28)
ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ )مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کرودو، اللہ تمہارےلئے
جگہ کشادہ فرمائے گا۔
اس
آیت سے معلوم ہوا کہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تنگی نہ کی جائے بلکہ دوسروں کے لیے جگہ
بنائی جائے۔
2.
سلام اور اجازت کے ساتھ داخل ہونا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ،
فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ فَلْيُسَلِّمْ، فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ
الْآخِرَةِ۔ ترجمہ:
جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں آئے تو سلام کرے، اور جب وہاں سے جانا چاہے تب بھی
سلام کرے۔ پہلی سلامی دوسری سے زیادہ حق دار نہیں ہے۔(سنن ابی داؤد: 5208)
یہ
اس بات کی دلیل ہے کہ مجلس میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت سلام کرنا سنت ہے۔
3.
مجلس میں برابری کا رویہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَجْلِسُ
فِيهِ ترجمہ:
کوئی شخص کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے۔(صحیح بخاری: 6269،
صحیح مسلم: 2177)
یہ
حدیث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مجلس میں برابری ہو اور کسی کو حقیر نہ سمجھا
جائے۔
4.
فضول باتوں اور لغویات سے پرہیز:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا
يَعْنِيهِ ترجمہ: آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول باتوں کو
چھوڑ دے جو اس سے متعلق نہیں۔(سنن ترمذی: 2317)
لہٰذا
مجلس کو فضول گفتگو، غیبت اور لغو باتوں سے پاک رکھنا ضروری ہے۔
5.
مجلس کے گناہوں کا کفارہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، فَقَالَ قَبْلَ
أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ
إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ
فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ۔ ترجمہ: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور وہاں فضول باتیں زیادہ
ہوں، پھر وہ یہ دعا پڑھے تو اس مجلس کی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں۔(سنن ترمذی:
3433)
اسلام
نے مجلس کے ایسے حقوق اور آداب بیان کیے ہیں جو انسان کو اخلاقی، سماجی اور روحانی
طور پر نکھارتے ہیں۔ مجلس کو ذکرِ الٰہی، علم کی باتوں اور نیکی کے کاموں کے لیے
استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ غیبت، جھوٹ یا فساد کے لیے۔ اگر مسلمان ان آداب پر عمل
کریں تو ان کی محافل سکون، محبت اور خیر و برکت کا مرکز بن جائیں گی۔
Dawateislami