محمد
ایاز عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
ایک بہترین
اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے انسان کی پدائش
سے لے کر مرنے تک اور اس کے بعد کے تمام احوال جیسے قیامت، حشر و نشر، اعمال پر
جزا و سزا ، جنت و دوزخ وغیرہ کا بیان قرآن پاک میں کہیں صراحتاً تو کہیں پوشیدہ
الفاظ میں موجود ہے ۔
(1) قرآن
پاک کی صرف تلاوت کرنا ہی کافی نہیں:قرآن پاک کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے صرف
قرآن پاک کی تلاوت کرنا ہی کافی نہیں بلکہ قرآن پاک کے احکامات پر عمل کرنا اس کے
سمجھنے پر موقوف ہے ۔
تفسیر کو
نظر انداز نہیں کیا جاسکتا:تفسیر ایک ایسا علم ہے جس کے ذریعے قرآن پاک کو بخوبی
سمجھ سکتے ہیں اور اس پر عمل کرسکتے ۔ قرآن
پاک کو سمجھنے کے لیے تفسیر بہت ضروری اور اہمیت کی حامل ہے ۔ اگر قرآن پاک کی تفسیر
کو نظرانداز کردیا جائے اور فقط ترجمہ پڑھ کر قرآن پاک کو سمجھنے کی کوشش کریں تو
بسااوقات بندہ گمراہی کے دلدل میں پھنس جاتا ہے یا العیاذ باللہ کفر کے اندھیرے میں
جا پہنچتا ہے۔
قرآن پاک میں
غور و فکر:قرآن پاک کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی آیات میں غور و فکر بھی لازمی ہے
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴) ترجمہ کنزالعرفان : تو کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے؟ بلکہ
دلوں پر ان کے تالے لگے ہوئے ہیں ۔ (سورہ محمد آیت نمبر 24)
امام غزالی
رحمۃ اللہ الوَالی فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر
غور و فکر کئے پورا قراٰن پڑھنے سے بہتر ہے ۔ (احیاء العلوم،ج5،ص170)
اللہ پاک
سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں قرآن پاک میں غور و فکر کرکے اس کے معنی و مفہوم سمجھنے کی
توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیینﷺ
Dawateislami