قرآن کریم
اللہ پاک کی عظیم کتاب ہے جس میں انسان کی ہدایت ، معاشرتی و اخلاقی تربیت کے لیے
رہنمائی موجود ہے قرآن کریم کے کئ الفاظ ایسے ہیں جن کے ظاہری معنی سے مقصود اصلی
تک پہنچنا مشکل ہوتا کیونکہ کبھی مراد وہاں کچھ اور ہوتی ہے جسے سمجھنے کے لیے ہمیں
تفسیر کی حاجت پڑتی ہے اگر کوئی کہے کہ میں صرف قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ کر مراد کو
سمجھ لوں گا تو یہ مشکل ہے لہذا قرآن کریم کی تلاوت کیساتھ ساتھ تفسیر کا مطالعہ
بھی ضروری ہے تاکہ ہم صحیح معنوں میں سمجھ سکے کہ اس میں بیان کیا ہے ۔
اللہ پاک
سورۃ طٰہ کی آیت نمبر 4 میں ارشاد فرماتا ہے:تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰى
ترجمہ کنز الایمان:اس کا اتارا ہوا جس نے زمین
اور اونچے آسمان بنائے ۔
اس آیت
مبارکہ میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا کہ اس ذات نے یہ قرآن اتارا جو زمین
و آسمانوں کا خالق ہے جب زمین و آسمان کو بنانے والا رب اتنی عظمت والا تو اس کا نازل کیا ہوا قرآن کتنی عظمت والا
ہوگا
اس آیت کے
تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ: یہاں قرآن کریم کی عظمت بیان کرنے سے مقصود یہ ہے
کہ لوگ اس کے معانی میں غور و فکر کریں اور اس کے حقائق میں تَدَبُّر کریں کیونکہ اس بات کا مشاہدہ ہے کہ جس پیغام کو بھیجنے والا انتہائی عظیم ہو تو
اس پیغام کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور پوری توجہ سے اسے سنا جاتا ہے اور بھر پور طریقے
سے اس کی اطاعت کی جاتی ہے ۔ اور جب قرآن
کریم کو نازل فرمانے والا سب سے بڑا عظیم ہے تو اس کی طرف سے بھیجے ہوئے قرآن عظیم
کو سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سننا چاہئے اور اس میں انتہائی غور و فکر کرنا اور کامل طریقے سے اس
کے دئیے گئے احکام پر عمل کرنا چاہئے ۔
(صراط الجنان)
ایک عام
شخص کے لیے قرآن کریم میں صحیح معنوں میں غور و فکر بغیر تفسیر کے مشکل ہے اس سے
معلوم ہوا کہ مطالعہ تفسیر کس قدر ضروری ہے لیکن افسوس آج مسلمانوں کی ایک
تعداد ہے جو تفسیر تو کیا قرآن کریم کی
تلاوت کرنے سے ہی محروم نظر آتی ہے اور جو
تلاوت کرتے بھی ہیں تو وہ درست طریقے سے
تلاوت نہیں کرتے اور صحیح طریقے سے تلاوت
کرنے والوں کا بھی حال یہ ہے کہ وہ نہ
قرآن مجید کو سمجھتے ہیں ، نہ اس میں غورو فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے اَحکام پر عمل کرتے ہیں ۔
مطالعہ تفسیر کی اہمیت کس قدر ہے اس کا اندازہ آپ اس بات
سے لگایئے کہ اللہ عزوجل سورۃ البقرۃ آیت
نمبر 167 میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا
كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّاؕ-كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ
اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْؕ-وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ
النَّارِ۠(۱۶۷)
ترجمہ کنزالایمان: اور کہیں گے پَیرو کاش ہمیں لوٹ کر
جانا ہوتا (دنیا میں) تو ہم ان سے توڑ دیتے(جدا ہو جاتے) جیسے انہوں نے ہم سے توڑدی
یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر اور وہ
دوزخ سے نکلنے والے نہیں ۔ (البقرۃ:167)
اب غور طلب بات یہ ہے کہ یہ آیت مبارکہ کن لوگوں کے بارے
میں نازل ہوئی جب ہم تفسیر کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا کہ اس آیت مبارکہ میں
تو کافروں کا ذکر ہے کہ وہ بروز قیامت اپنے پیشواؤں جن کے نقش قدم پر چل کر وہ کفر
پر قائم رہے وہ کہیں گے کاش ہمیں دنیا میں جانے کا موقع مل جاۓ تو ہم تم سے تعلق توڑ دیں جیسے آج تم نے ہم سے تعلق توڑ
دیا اب جو اس آیت مبارکہ کو دلیل بنا کر پیر مرید کے تعلق پر فٹ کرے اسے چاہیے کہ
وہ قرآن کریم کو تفسیر کیساتھ پڑھے معلوم ہوگا کہ اس آیت مبارکہ میں اولیاء اللہ
اور ان کے مریدین کا نہیں بلکہ کفار کا ذکر ہے ۔
حضرت محمد بن
کعب قرظی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جس تک قرآن مجید پہنچ گیا تو گویا اللہ تعالیٰ نے اس سے کلام کیا ۔ جب وہ ا س بات پر قادر ہو جائے تو قرآن مجید
پڑھنے ہی کو اپنا عمل قرار نہ دے بلکہ اس طرح پڑھے جس طرح کوئی غلام اپنے مالک کے
لکھے ہوئے خط کو پڑھتا ہے تاکہ وہ اس میں غور وفکر کر کے اس کے مطابق عمل کرے ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب آداب تلاوۃ القرآن)
اللہ اکبر کیا خوب ارشاد فرمایا حضرت محمد بن کعب قرظی
رحمۃ اللہ علیہ نے کہ بندہ قرآن کریم ایسے پڑھے جیسے غلام مالک کا لکھا ہوا خط پڑھتا
جب ہم قرآن کریم کو ایسے پڑھے گے جیسے ایک غلام اپنے آقا کا لکھا ہوا خط پڑھتا تو
ہم اس میں خوب غور و فکر کریں گے تاکہ اس کے احکامات پر عمل کریں اور ظاہر ہے کہ
غور و فکر کے لیے ہمیں تفسیر کے مطالعہ کی بھی حاجت ہوگی لہذا ہمیں اپنے رب کے
کلام قرآن پاک کی تلاوت بھی کرنی ہے اور اس میں غور و فکر کرنے کے لیے تفسیر کا
مطالعہ بھی کرنا اور قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزارنی ہے ۔
اللہ ہمیں
قرآن کریم کو تفسیر کے ساتھ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
Dawateislami